
Ahmad Ameer Pasha
Ahmad Ameer Pasha
Ahmad Ameer Pasha
Ghazalغزل
vaqt se aage nikalnaa chaahiye
وقت سے آگے نکلنا چاہیے ہم کو اب پانی پہ چلنا چاہیے اس سے آگے زندگی آسان ہے گرنے والوں کو سنبھلنا چاہیے آنکھ دشت آرزو ہو جائے تو خواب کو دریا میں پلنا چاہیے عام ہو کچھ تو یہ کرب آگہی زخم سے چشمہ ابلنا چاہیے وہ سنبھل کر دیکھتا ہے آئنہ آئنے کو بھی سنبھلنا چاہیے دھوپ میں ہو برف باری تو امیرؔ سنگ کو شیشہ اگلنا چاہیے
ratjagon ki saltanat taskhir kar
رتجگوں کی سلطنت تسخیر کر کچھ دئے کا نام بھی تحریر کر ہے حصار ذات کے باہر شکست تو مرے اندر مجھے تعمیر کر فرقتوں کا زہر مجھ کو پچ گیا گردش دوراں مری توقیر کر یا بدن کی قید سے آزاد کر یا کسی غم سے مجھے زنجیر کر خواب آنکھوں میں اگر رکھے ہیں تو پھر ہتھیلی پر بھی کچھ تحریر کر کچھ دئے کے دکھ سنا مجھ کو امیرؔ کچھ ہوا کے نام بھی تحریر کر
mizaan-e-vaaqiaat mein tolaa nahin gayaa
میزان واقعات میں تولا نہیں گیا اتنا وہ نا سپاس تھا لکھا نہیں گیا خوشبو کی آرزو میں سزا قید کی ہوئی صحرا اٹھا کے لائے تو پوچھا نہیں گیا یوں بھی میں اپنے بارے میں کچھ لکھ نہیں سکا لفظوں کا شور ایسا تھا سوچا نہیں گیا دونوں کو فرط شوق نے لب بستہ کر دیا وہ چپ رہا تو ہم سے بھی بولا نہیں گیا قرض فراق میں نے مکمل چکا دیا لیکن مرے حساب سے کاٹا نہیں گیا کیسے بھلا فسانے میں سچ کی تلاش ہو لفظوں کا ہیر پھیر ہی پکڑا نہیں گیا ایسے سفر نصیب ہیں پشتوں سے ہم امیرؔ اب تک ہمارے پاؤں کا چھالا نہیں گیا
khaamushi mein hi laa-javaab na thaa
خامشی میں ہی لا جواب نہ تھا مسکراہٹ کا بھی حساب نہ تھا میں اسے حرف حرف پڑھتا گیا وہ اگرچہ کھلی کتاب نہ تھا ایک مدت سے سو رہے ہیں لوگ پھر بھی آنکھوں میں کوئی خواب نہ تھا جھیل میں رات بھر تھا کیا رقصاں تیرا پیکر تو زیر آب نہ تھا مرنے والوں کی تھی جزا کی وعید جینے والوں کا احتساب نہ تھا ظرف کے امتحاں میں اب کی بار ایک بھی شخص کامیاب نہ تھا یوں تو بے حد سخی تھا دل کا امیرؔ وہ مگر صاحب نصاب نہ تھا
haalaat mire dil ko lagaane nahin dete
حالات مرے دل کو لگانے نہیں دیتے آنکھوں میں ترے خواب سجانے نہیں دیتے ظلمت کے پجاری تو بہت تنگ نظر ہیں جشن شب تاریک منانے نہیں دیتے آنکھوں پہ تو بالکل ہی کوئی بس نہیں چلتا ہم خود کو تری بزم میں جانے نہیں دیتے جنت کی دعائیں مجھے دیتے ہیں سبھی لوگ اس عہد میں جینے کے بہانے نہیں دیتے نفرت کی روایات کے پابند ہیں لہجے روٹھے ہوئے لوگوں کو منانے نہیں دیتے کچھ خواب مری ذات سے بڑھ کر بھی تو ہیں جو پھر دل کو تری آس لگانے نہیں دیتے سوکھے ہوئے پھول اور ترے لمس کی خوشبو صدمہ ترے جانے کا بھلانے نہیں دیتے گویائی ہے پابند سلاسل کہ امیرؔ اب صحرا میں بھی آواز لگانے نہیں دیتے
vaqt rakhtaa hai jo sambhaal ke log
وقت رکھتا ہے جو سنبھال کے لوگ ڈھونڈ کر لا وہی کمال کے لوگ تو نے دیکھا جنوں کے میلے میں کتنے شیدائی تھے دھمال کے لوگ کاش مر جائے تو عروج میں ہی منتظر ہیں ترے زوال کے لوگ مر گئے آپ گھپ اندھیرے میں چاند تیری طرف اچھال کے لوگ یاد کی خشک جھیل میں اکثر بیٹھے رہتے ہیں پاؤں ڈال کے لوگ تیرے دکھ میں شریک ہونے کو خود کو لائے ہیں غم میں ڈھال کے لوگ مبتلائے ہزار غم ہوں مگر ہنس کے ملتے ہیں خانیوال کے لوگ





