SHAWORDS
A

Ahmad Fakhir

Ahmad Fakhir

Ahmad Fakhir

poet
20Ghazal

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

کیا دن تھے گلابوں سے شناسائی تھی اپنی آتش کا جواں ہونا بھی رسوائی تھی اپنی مہتاب کی سانسوں میں توازن نہ رہا تھا اس چاند نے اک رات جو چمکائی تھی اپنی یہ عشق تو لگتا ہے کہ آسیب ہے کوئی ہم نے تو طبیعت ذرا بہلائی تھی اپنی اب ڈھونڈ کے لائے کوئی اور آئنہ جس میں صورت ہمیں اک روز نظر آئی تھی اپنی جاتے تو کہاں جا کے سکوں ڈھونڈتے فاخرؔ محفل کوئی اپنی تھی نہ تنہائی تھی اپنی

kyaa din the gulaabon se shanaasaai thi apni

40 views

غزل · Ghazal

مسافت شب ہجراں طویل لکھتے رہے ملے جو درد انہیں سنگ میل لکھتے رہے حکایتیں ہی نہیں لکھیں آگ کی ہم نے حقیقتیں بھی برنگ خلیل لکھتے رہے جو قلب و جاں میں ہے خوشبو کسی کی زلفوں کی اسی کو اپنی متاع جلیل لکھتے رہے رہی یہ آس کہ سیراب ہوگی کشت حیات سو جوہڑوں کو بھی دریائے نیل لکھتے رہے نکل سکی نہ وہاں ایک بوند بھی فاخرؔ تمام عمر جن آنکھوں کو جھیل لکھتے رہے

masaafat-e-shab-e-hijraan tavil likhte rahe

40 views

غزل · Ghazal

اے شوق دل بھی ایک معما عجیب ہے صحرا کو آندھیوں کی تمنا عجیب ہے موجوں کے اضطراب نے دھڑکا دیا تھا دل اترے جو ہم اتر گیا دریا عجیب ہے دشوار ہو گئی ہے اب اپنی شناخت بھی آئینہ کہہ رہا ہے کہ چہرہ عجیب ہے شاخیں جو میرے صحن میں ہیں ان میں پھل نہ آئے ہم سائے کا درخت بھی کتنا عجیب ہے اٹھتی ہے اک فصیل تو گرتی ہے اک فصیل فاخرؔ یہ چاہتوں کا گھروندا عجیب ہے

ai shauq-e-dil bhi ek muammaa ajiib hai

40 views

غزل · Ghazal

آنکھوں کا بھی ہم سے کبھی پردہ نہیں رکھا ملنے کا بھی لیکن کوئی رستہ نہیں رکھا وہ زخم دیے باد صبا نے کہ شجر نے پتہ بھی سر شاخ تمنا نہیں رکھا ہم نے تو بہت صاف کیا آئنہ دل کا اس نے مگر آئینے میں چہرہ نہیں رکھا دیوار اٹھائی اگر الفاظ کی اس نے بھولے سے بھی معنی کا دریچہ نہیں رکھا دنیا کے لئے باغ لگا ڈالے ہیں فاخرؔ اپنے لئے اک شاخ کا سایہ نہیں رکھا

aankhon kaa bhi ham se kabhi parda nahin rakkhaa

40 views

غزل · Ghazal

جس شخص کو دیکھو وہی سرگرم سفر ہے دنیا کہیں ویران نہ ہو جائے یہ ڈر ہے لائے گی کبھی رنگ ہواؤں کی محبت ہم جس میں بسر کرتے ہیں وہ ریت کا گھر ہے صحرا میں کسی سائے کی امید نہ ٹوٹی حسرت کی نگاہوں میں بگولا بھی شجر ہے نکلی ہے گمانوں سے یہی شکل یقیں کی جس سمت اڑے گرد وہی راہ گزر ہے مہتاب تو نکلا ہی نہیں ڈوب کے فاخرؔ لیکن مرے دریا میں وہی مد و جزر ہے

jis shakhs ko dekho vahi sargarm-e-safar hai

40 views

غزل · Ghazal

چاندنی جس کی در جاں پہ ہم اکثر دیکھیں کبھی اس چاند کو بھی ہاتھ سے چھو کر دیکھیں کیسے بھر لیں در و دیوار پہ آویزاں ہیں جس طرف دیکھیں تری یاد کا منظر دیکھیں کبھی بارش کی بھی راتوں میں نہ چمکی بجلی یہی ارمان رہا گھر کو منور دیکھیں آنکھ کھل جائے تو صحرا کی زمیں پر ہوں قدم نیند آ جائے تو خوابوں میں سمندر دیکھیں ٹوٹ جانے کا بھی امکان بہت ہے اس میں یوں کمانوں کی طرح آپ نہ کھنچ کر دیکھیں شام ہوتے ہی نکل آتے ہیں تارے فاخرؔ اک ستارے کا مگر راستہ شب بھر دیکھیں

chaandni jis ki dar-e-jaan pe ham aksar dekhein

40 views

Similar Poets