Ahmad Hasan Fida
Ahmad Hasan Fida
Ahmad Hasan Fida
Ghazalغزل
پاؤں لے آئے مجھے وادیٔ پر خار کے پاس سر میں سودا ہے کہ چلئے اسی دیوار کے پاس محتسب ضد سے تری دل میں یہی آتا ہے مے کشی جا کے کریں تیری ہی دیوار کے پاس یہ نئی طرز ستم تم نے نکالی صاحب میرا خط جاتے ہو پڑھوانے کو اغیار کے پاس فصل گل آئی ہے پھر دشت نوردی ہو نصیب پاؤں کے آبلے پہنچائیں گے پھر خار کے پاس نہ اٹھا ہم کو کہ سائے کی طرح سے بے کار ایک مدت سے پڑے ہیں تری دیوار کے پاس دور سے دیکھتے ہی مجھ کو کہا دور اس نے اب نہ جائیں گے کبھی ایسے دل آزار کے پاس
paanv le aae mujhe vaadi-e-pur-khaar ke paas
41 views
چشم و ابرو نے کئے یار کے بسمل دو چار عشق مژگاں میں ہوئے وار کے قابل دو چار غمزہ و ناز و ادا شوخی و بے باکی و حسن ایک ہی جرم گنہ میں ہوئے قاتل دو چار کبھی گل کھائے کسی نے کنوئیں جھانکا کوئی عارض و چاہ ذقن میں جو ہوئے تل دو چار حسرت بوسۂ رخسار نے مارا مجھ کو تعزیت اس لئے کرتے ہیں عنادل دو چار
chashm-o-abru ne kiye yaar ke bismil do-chaar
41 views
دل اس بے وفا سے ملا چاہتا ہے مجھے بھی یہ رسوا کیا چاہتا ہے وہ دزد حنا خوں بہا چاہتا ہے ہمارا بھی اب خوں بہا چاہتا ہے تماشا کر اے گل مرے داغ دل کا اگر سیر گلشن کیا چاہتا ہے یہ سرگوشیاں کب ہیں علت سے خالی عدو کان میں کچھ بھرا چاہتا ہے خدائی میں کیا دخل ہے ان بتوں کو جو کچھ چاہتا ہے خدا چاہتا ہے لگا کر لہو اپنے دامن میں گل بھی شہیدوں میں تیرے ملا چاہتا ہے عیادت کو آتا ہے بالیں پہ میرے وہ قاتل مسیحا بنا چاہتا ہے تہیہ کیا کارواں نے عدم کا جرس کوئی دم میں بجا چاہتا ہے ذرا گوش دل سے سنو حال اس کا فداؔ آپ سے کچھ کہا چاہتا ہے
dil us bevafaa se milaa chaahtaa hai
41 views
فدا ہے دل پیمبر پر ہمارا دلا ہے اوج پر اختر ہمارا تصور ہے رخ روشن کا دل میں منور آج کل ہے گھر ہمارا وسیلہ ہم کو ہاتھ آیا ہے برتر شفیع حشر ہے سرور ہمارا ہم اب مداح شاہ بحر و بر ہیں مسخر ہوگا بحر و بر ہمارا ہمیں بیماریٔ ہجراں ہے یا شاہ اسی سے حال ہے ابتر ہمارا پڑے ہیں ہند میں ہم یا شہہ دیں تڑپتا ہے دل مضطر ہمارا نہ طاقت ہے پہنچنے کی نہ ہے صبر معین ہے کوئی نیر ہمارا کشش بہر خدا اب کیجے ایسی کہ شوق دل ہی ہو رہبر ہمارا وہ سنگ آستاں اور خاک واں کی یہ بالش اور وہ بستر ہمارا یہی خواہش ہے اور ہے یہ ہی امید یہی کافی ہے کر و فر ہمارا عطا فرما توکل اور قناعت بھٹکتا جائے یہ در در ہمارا فداؔ اپنی دعا ہو یہ بھی مقبول در محبوب ہو اور سر ہمارا
fidaa hai dil payambar par hamaaraa
40 views
عشق سے جس کا دل گداز نہیں در عرفاں بھی اس پہ باز نہیں در جاناں پہ ہے قیام و قعود اپنی کوئی قضا نماز نہیں وصل اس کا نہ کیونکے ہو دشوار جس کے دیدار کے مجاز نہیں شوق میں پوچھتا ہوں راہ حرم گبر و مومن کا اعتبار نہیں تیری عالی جناب میں محمود مجھے کیا رتبۂ ایاز نہیں نہیں ہونے کا کامل الایماں جس کو عشق شہہ حجاز نہیں ساتھ ہے بعد مرگ حسرت دید بے سبب چشم اپنی باز نہیں قلب اس کا ہے مثل دود سیاہ شمع ساں جس کا دل گداز نہیں کیونکہ دن عمر کے کٹیں بہ خوشی مژۂ دید دل نواز نہیں بند ہے باب مے کدہ جو فداؔ کیا در توبہ تجھ پہ باز نہیں
ishq se jis kaa dil gudaaz nahin
40 views
کوئی امید تو اس دل کی بر آنے دیجے رنج کی بات نہ اب کیجئے جانے دیجے ان کے چپ رہنے سے گو جان گئی کیا غم ہے جی اٹھوں گا میں ابھی لب تو ہلانے دیجے ہم بھی کہتے ہیں کہ خط آئے گا تب سمجھیں گے غیر گر ان کو پڑھائے تو پڑھانے دیجے رفتہ رفتہ یہ پہنچ جائے گا اس کے در تک کاسۂ سر کو مرے ٹھوکریں کھانے دیجے غیر کا رنگ کسی طرح نہ جمنے دیں گے ہم کو اس بزم میں نقشہ تو جمانے دیجے اس ستم گر کی جفاؤں کا مزہ آتا ہے آسماں ہم کو ستائے تو ستانے دیجے دیکھ کر ابر بہاری پہ گلوں کی چشمک چشم گلگوں سے ہمیں اشک بہانے دیجے شب وہ بولے رخ روشن سے ہٹا کر زلفیں لو فداؔ صبح ہوئی اب ہمیں جانے دیجے
koi ummid to is dil ki bar aane diije
40 views





