
Ahmad Iftikhar Khatak
Ahmad Iftikhar khatak
Ahmad Iftikhar khatak
Ghazalغزل
miraa ham-safar kabhi vahm thaa kabhi khvaab thaa kabhi kyaa rahaa
مرا ہم سفر کبھی وہم تھا کبھی خواب تھا کبھی کیا رہا میں عجیب حال میں مست تھا سو مرا مذاق بنا رہا مری مشکلوں نے عیاں کیا مرا یار دوست کوئی نہیں سو قبیل حرص و ہواس میں میں اکیلا ڈٹ کے کھڑا رہا مرے آشیاں کو جلا گئیں مرے خام سوچ کی حدتیں مرا سر حیا سے نہ اٹھ سکا میں ندامتوں میں پڑا رہا تجھے فخر تھا ترے حسن پر مجھے زعم تھا مرے عشق کا تو پڑی رہی کسی سیج پر میں بھی گرد راہ بنا رہا ترے لمس لمس سے جی اٹھا مرے سرد جسم کا روم روم تو مری گلی سے چلی گئی میں تری گلی میں پڑا رہا مرے باغ دل پہ خزاں رہی مری شاخ شاخ اجڑ گئی مرے پاؤں خون سے تر بہ تر مرا زخم یوں بھی ہرا رہا
kyuun ke baare mein kyaa ke baare mein
کیوں کے بارے میں کیا کے بارے میں عقل چپ ہے خدا کے بارے میں جب صعوبت میں سانس گھٹنے لگے سوچیے کربلا کے بارے میں سب کو تفتیش ہو رہی ہوگی دوسرے نقش پا کے بارے میں خامشی سادھ لی گئی یک دم سخن نارسا کے بارے میں انتہا ہو چکی محبت کی کچھ کہو ابتدا کے بارے میں میری اپنی ہی ایک رائے ہے معنی و مدعا کے بارے میں ہم نے کیا کیا نہ لکھ دیا احمدؔ اپنی اپنی فضا کے بارے میں
miraa vajud hi jab khaar-o-khas ke andar thaa
مرا وجود ہی جب خار و خس کے اندر تھا میں اس سمے بھی تری دسترس کے اندر تھا میں دیکھتا تھا برابر عمل کا رد عمل دبی ہوئی تھی سڑک شور بس کے اندر تھا مجھے سمجھتے تھے کچھ لوگ برگزیدہ شجر ہوس پرست نہیں تھا ہوس کے اندر تھا میں کس طرح سے محبت کی بات کر پاتا وہ خوش مزاج پرندہ قفس کے اندر تھا پچاس سال مسافت ہی کاٹنا تھی مجھے وگرنہ مرنا تو پہلے برس کے اندر تھا
tujh se mil kar yaqin huaa hai mujhe
تجھ سے مل کر یقیں ہوا ہے مجھے عشق اب تک نہیں ہوا ہے مجھے خاک ہی خاک ہے جہاں دیکھوں آسماں بھی زمیں ہوا ہے مجھے خون آنکھوں سے کیوں نہیں ٹپکا درد دل کے قریں ہوا ہے مجھے نقص لاتا ہے سامنے میرے آئنہ نکتہ چیں ہوا ہے مجھے یہ جو احساس زندگی ہے یہ شاعری کے تئیں ہوا ہے مجھے میں کڑی دھوپ میں ہوں اور ترا دھیان سایۂ عنبریں ہوا ہے مجھے اس سے پہلے میں خیریت سے تھا جو ہوا ہے یہیں ہوا ہے مجھے میری یاد داشت کھو گئی احمدؔ کیا ہوا کیا نہیں ہوا ہے مجھے
khvaab to khulte the mujh par dar koi khultaa na thaa
خواب تو کھلتے تھے مجھ پر در کوئی کھلتا نہ تھا آسماں سب کھل چکے تھے پر کوئی کھلتا نہ تھا سامنے سے سارے منظر صاف دکھتے تھے مگر ایک منظر ایسا کہ اندر کوئی کھلتا نہ تھا جانے کیسے شہر میں اپنے قدم پڑنے لگے بند دل کے لوگ تھے کھل کر کوئی کھلتا نہ تھا گو مگو کے دن تھے وہ مسجد کوئی چلتی نہ تھی خوف کی دیوی کا ڈر مندر کوئی کھلتا نہ تھا اب جدھر سے بھی میں گزروں دیکھتے ہیں مجھ کو لوگ مجھ پہ ایسے دن بھی گزرے در کوئی کھلتا نہ تھا دیکھتا رہتا تھا شب بھر آسمانوں کی طرف دیدۂ خوں بار سے منظر کوئی کھلتا نہ تھا مل ہی جانا تھا مجھے اپنے لہو کا بھی سراغ بد نصیبی تھی مری خنجر کوئی کھلتا نہ تھا خواب دیکھا آرزوئے شہر میں وہ افتخارؔ سب گزرتے تھے مگر مجھ پر کوئی کھلتا نہ تھا
badan ke dasht ko aabaad kyon nahin karte
بدن کے دشت کو آباد کیوں نہیں کرتے ہوس بھی ہے تو کچھ ایجاد کیوں نہیں کرتے ہر اک خیال کو باندھا ہوا ہے لفظوں سے نہ جانے تم انہیں آزاد کیوں نہیں کرتے جلاتے کیوں نہیں اس قبر پر چراغ کوئی مرا خیال مرے بعد کیوں نہیں کرتے اگر ملا ہے تمہیں درد تو بتاؤ ہمیں کراہتے نہیں فریاد کیوں نہیں کرتے تمام لوگ ازل سے ہیں گوش بر آواز خموش رہتے ہو ارشاد کیوں نہیں کرتے یہ جبر ناروا اپنی سمجھ سے ہے باہر جو یاد آئے اسے یاد کیوں نہیں کرتے برا ہی کیا ہے محبت میں رات دن احمدؔ سلگ کے یاد کی امداد کیوں نہیں کرتے





