tumhaare paanv jis khaashaak par paDte hain ai hamdam
usi khaashaak ko ham aankh kaa surma banaate hain

Ahmed Fakhir
Ahmed Fakhir
Ahmed Fakhir
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
پھولوں میں یہ مہکی ہوئی خوشبو ہے کہ تم ہو مجھ پر کوئی چھایا ہوا جادو ہے کہ تم ہو الفاظ ادا ہوں کبھی لب سے جو تمہارے ہوتا ہے گماں مجھ کو کہ اردو ہے کہ تم ہو اے جان غزل میرے تخیل کے افق پر روشن سا چمکتا ہوا جگنو ہے کہ تم ہو بلبل کی نوا ہو کہ ہو جھرنوں کا ترنم بتلاؤ کہ کوئل کی یہ کوکو ہے کہ تم ہو زہرہ ہو عطارد ہو کہ مہوش ہو سراپا آفاق میں تاباں کوئی مہ رو ہے کہ تم ہو تم راگ ہو دیپک کا کہ ملہار ہو کوئی ہر ساز میں پنہاں کوئی جادو ہے کہ تم ہو فاخرؔ کا ہو دکھڑا کہ کوئی شام ہو غم کی آنکھوں سے یہ ٹپکا ہوا آنسو ہے کہ تم ہو
phulon mein ye mahki hui khushbu hai ki tum ho
43 views
بعد ہجرت کے مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں تم سمجھتے ہو مرے ساتھ ہوا کچھ بھی نہیں ہجر میں چھن گئیں خوشیاں سبھی آنکھوں میں مری کیا قیامت ہے کہ اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں کچھ بھی مقصود نہیں مجھ کو تمہارے بدلے خواہش جاہ نہیں دستار و قبا کچھ بھی نہیں سروری مل گئی الفت میں تمہاری مجھ کو میں بھلا کیسے کہوں تم سے ملا کچھ بھی نہیں جب مقدر در جاناں کی جبیں سائی ہے تو پھر اس جذبۂ الفت کی جزا کچھ بھی نہیں یہی فاخرؔ کا اثاثہ ہے تو ہے مجھ کو عزیز اس سے بہتر نہیں شے بیش بہا کچھ بھی نہیں
baa'd hijrat ke mire paas rahaa kuchh bhi nahin
41 views
ناگاہ وہ رستے سے بھٹکا تو بہت رویا مڑ مڑ کے مجھے دیکھا سمجھا تو بہت رویا وہ برہمی سے مجھ سے ہر رشتہ بھلا بیٹھا جب پاس مرے اک دن آیا تو بہت رویا منظور نہ تھا اس کو ہجرت کا زمانہ پر ناچار خزاں رت میں بچھڑا تو بہت رویا الفت میں شکست و غم لازم ہے یقیناً وہ جب کرب جدائی میں ٹوٹا تو بہت رویا پتھر تھا طبیعت میں فطرت میں بھی تلخی تھی وہ نغمہ مرا جب جب گایا تو بہت رویا تقدیر کے کاتب نے لکھا تھا شکست و ریخت جب اپنے نصیبے کا پایا تو بہت رویا میری یہ نوا گویا اک آہ ہے ہجرت کی اس آہ کو لفظوں میں ڈھالا تو بہت رویا معصوم تھا نٹکھٹ تھا جانا نہ تجھے فاخرؔ جب اس نے تجھے سمجھا جانا تو بہت رویا
naagaah vo raste se bhaTkaa to bahut royaa
41 views
یہ ہجر کی شدت مجھے تڑپاتی ہے جاناں مشکل یہ حیات اور ہوئی جاتی ہے جاناں افسانہ نہیں سچ ہے کہ یہ شاعری میری تم جیسے پری رخ سے جلا پاتی ہے جاناں اب کیسے کہوں تم سے میں اس غم کا فسانہ یہ دوری تمہاری تو جگر کھاتی ہے جاناں میں چین سے کیسے رہوں اب تم ہی بتاؤ ہر وقت مجھے یاد تری آتی ہے جاناں یہ یاد عجب شے ہے مجھے خون کے آنسو ہر لمحہ تسلسل سے یہ رلواتی ہے جاناں سوچا تھا کبھی بھول میں جاؤں تمہیں لیکن یہ بات خیالوں سے کہاں جاتی ہے جاناں اب تم ہی بتاؤ میں جیوں کس کے سہارے یہ زندگی دشوار نظر آتی ہے جاناں اب لوٹ کے آ جاؤ جدائی نہ سہی جائے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا آتی ہے جاناں یہ خوب تماشا ہے کہ فاخرؔ کی ہر اک آہ اب عرش سے ٹکرا کے یہ لوٹ آتی ہے جاناں
ye hijr ki shiddat mujhe taDpaati hai jaanaan
41 views
غزل کے روپ میں ہم آج زخم دل دکھاتے ہیں نہ سمجھو آپ بیتی تم کو جگ بیتی سناتے ہیں نہیں ہو تم تو سونی سونی سی لگتی ہے یہ دنیا چلے آؤ تمہاری راہ میں پلکیں بچھاتے ہیں تمہیں اس کا پتہ شاید نہیں ہوگا کہ ہم اکثر تمہاری یاد کو اپنے جگر کا خوں پلاتے ہیں ہماری بے خودی دیکھو کہ جب بھی شام ڈھلتی ہے تمہارے نام کا روزانہ ہم دیپک جلاتے ہیں تمہارے پاؤں جس خاشاک پر پڑتے ہیں اے ہمدم اسی خاشاک کو ہم آنکھ کا سرمہ بناتے ہیں ہمارے دل پہ جو گزری جو ٹوٹا کوہ غم ہم پر بہ اسلوب غزل روداد وہ تم کو سناتے ہیں نسیم صبح یہ رنگیں فضا پر کیف یہ منظر مبارک ہو تمہیں سب ہم تو شام غم مناتے ہیں قیامت تک ہمارے شعر تم کو زندہ رکھیں گے کسی کے ساتھ ہم رشتہ کچھ اس صورت نبھاتے ہیں
ghazal ke ruup mein ham aaj zakhm-e-dil dikhaate hain
41 views
رنگ لائے گی ہماری اشک باری ایک دن دید کی خیرات ہوگی ناگہانی ایک دن عشق کی نیرنگیوں میں یہ نہیں معلوم تھا ہم کو بھی سہنی پڑے گی بے قراری ایک دن گرچہ روٹھا ہے مگر مجھ سے اسے نفرت نہیں ہوگا پہلو میں مرے وہ آفتابی ایک دن پھول شبنم خوشبوئیں ہیں دیکھنے کی منتظر گلستاں میں حسن کی صد گل فشانی ایک دن اپنی تقصیرات کا میں معترف تو ہوں مگر اس پہ ظاہر ہوگی میری بے گناہی ایک دن مے کشی سے دور ہیں ایسے رہیں گے کب تلک شیخ صاحب کی لٹے گی پارسائی ایک دن اس قدر فیاض ہونا بھی تمہیں اچھا نہیں تم کو لے ڈوبے گی ایسی خیر خواہی ایک دن ہو عطا ہم کو سخن کی آشنائی اے خدا تاکہ فاخرؔ بھی کرے گوہر بیانی ایک دن
rang laaegi hamaari ashk-baari ek din
40 views





