SHAWORDS
Ahmed Nisar

Ahmed Nisar

Ahmed Nisar

Ahmed Nisar

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

maqaam-e-hijr kahin imtihaan se khaali hai

مقام ہجر کہیں امتحاں سے خالی ہے کہیں زمیں بھی کسی آسماں سے خالی ہے نشاط غم میں تو درد نہاں تلاش نہ کر نشاط غم کبھی درد نہاں سے خالی ہے عروج غم مرے سوز جگر سے آ پوچھا مقام دل کہیں سوز نہاں سے خالی ہے خیال اس کا میں شاید سمجھ نہیں پایا مرا خیال تو عشق بتاں سے خالی ہے اک ایسی بات ہی تسکین قلب بخشے ہے نثارؔ دل مرا وہم و گماں سے خالی ہے

غزل · Ghazal

tire paas rah kar sanvar jaaungaa main

ترے پاس رہ کر سنور جاؤں گا میں جدا ہو کے تجھ سے بکھر جاؤں گا میں ذرا سوچنے دے میں اٹھنے سے پہلے ترے در سے اٹھ کر کدھر جاؤں گا میں ترے ساتھ جینے کی امید لیکن ترا ساتھ نہ ہو تو مر جاؤں گا میں ترے پیار کے سائے میں چند لمحے ذرا جی تو لوں پھر گزر جاؤں گا میں سمٹ کر ہی رہنے دے آنچل سے تیرے تو جھٹلائے تو چشم تر جاؤں گا میں نہ ہرگز چلوں گا کسی رہ گزر سے تو روکے اگر تو ٹھہر جاؤں گا میں ترے پیار میں زخم کھا کھا کے اک دن کہ آغوش غم میں اتر جاؤں گا میں نثارؔ عشق کی آگ میں جل رہا ہوں پتہ ہے کہ اک دن نکھر جاؤں گا میں

غزل · Ghazal

rishta-e-dil usi se miltaa hai

رشتۂ دل اسی سے ملتا ہے جو کوئی سادگی سے ملتا ہے بیٹھ جاتا ہے دل مرا اکثر جب کوئی بے بسی سے ملتا ہے ہائے افسوس میرا رستہ بھی بے وفا کی گلی سے ملتا ہے راز دل کیا سنا گیا اس کو تب سے وہ بے دلی سے ملتا ہے عمر بھر جو مجھے ستائے گا ہر گھڑی بے کلی سے ملتا ہے بھول پانا جسے نہیں ممکن پھول بن کر ہنسی سے ملتا ہے جس کے دل میں جگہ نہیں میری میرا دل بھی اسی سے ملتا ہے حال دل اب زباں نہیں کہتی آنکھ کی اس تری سے ملتا ہے کیا نثارؔ آج کل کوئی لمحہ آپ سے بھی خوشی سے ملتا ہے

غزل · Ghazal

ishq mein barbaad hone ke sivaa rakkhaa na thaa

عشق میں برباد ہونے کے سوا رکھا نہ تھا غم کو سہنے کے علاوہ کوئی بھی چارہ نہ تھا یاد رہ رہ کر کسی کی ہے ستاتی رات بھر صبح ہوتے بھول جانا یہ تجھے شیوہ نہ تھا یہ تری الفت مجھے رکھتی ہے بیتابی میں گم یہ سبھی کو تھی خبر لیکن کوئی چرچا نہ تھا آئینہ دیکھوں تو کیوں تو ہی نظر آئے مجھے بولتا ہے کیا ترا چہرہ میرے جیسا نہ تھا دن گزر جاتا ہے دنیا کی مسافت میں مگر رات ہی اک امتحاں ہے جس کا اندازہ نہ تھا رات کی تنہائیاں آغوش میں لے کر مجھے پوچھتی ہیں کیا کبھی تنہائیاں دیکھا نہ تھا کیا محبت وہ نشہ ہے میں ذرا جانوں نثارؔ زندگی میں اس طرح پہلے کبھی بہکا نہ تھا

غزل · Ghazal

gham kaa pahaaD mom ke jaise pighal gayaa

غم کا پہاڑ موم کے جیسے پگھل گیا اک آگ لے کے اشکوں کی صورت نکل گیا خوش فہمیوں کو سوچ کے میں بھی مچل گیا جیسے کھلونا دیکھ کے بچہ بہل گیا کل تک تو کھیلتا تھا وہ شعلوں سے آگ سے نا جانے آج کیسے وہ پانی سے جل گیا جھلسے بدن کو دیکھ کے کترا رہا ہے وہ جس کے میں گھر کی آگ بجھانے میں جل گیا بارش ہوئی غموں کی تو آنکھوں کی سیپ میں آنسو کا قطرہ پلکوں سے گرتے سنبھل گیا ویسے سبھی تو زیست سے دامن بچا لیے وہ کون ہے جو موت سے بچ کر نکل گیا تقدیر سو نہ جائے کہیں جاگیے ذرا دیکھو ترقیوں کا بھی سورج نکل گیا گر ہو سکے تو آپ بھی بدلو میاں نثارؔ کہنا پڑے نہ یہ کہ زمانہ بدل گیا

غزل · Ghazal

vo to mujh mein hi nihaan thaa mujhe maalum na thaa

وہ تو مجھ میں ہی نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا خون بن کر وہ رواں تھا مجھے معلوم نہ تھا اتنے مجروح تھے جذبات ہمارے جس پر چرخ بھی محو فغاں تھا مجھے معلوم نہ تھا پیاس شدت کی تھی صحرا بھی تڑپ جاتا تھا امتحاں سر پہ جواں تھا مجھے معلوم نہ تھا پیر تو پیر یہاں روح کے چھالے نکلے دور اتنا بھی مکاں تھا مجھے معلوم نہ تھا دل بھی ہوتا ہے سنا کرتے تھے ہر سینے میں درد بھی اس میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا عشق کے بحر میں غوطہ تو لگایا لیکن بعد میں اس کے کہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا فتنہ گر لوٹنے والا سر بازار یہاں اتنا شیرین زباں تھا مجھے معلوم نہ تھا حسن الفت کو سمائے ہوئے سینے میں نثارؔ دل میں اک درد جواں تھا مجھے معلوم نہ تھا

Similar Poets