
Aijaz Asad
Aijaz Asad
Aijaz Asad
Ghazalغزل
عشق میں ایسی پائیداری ہے تیری لغزش بھی ہم کو پیاری ہے اس کا منہ موڑنا قیامت تھا دل تڑپتا ہے زخم کاری ہے تیرا کردار تو ہے معمولی اور دستار کتنی بھاری ہے آج دن بھر اداس اداس رہا تم نے کیسے نظر اتاری ہے زندگی کھیل ہے ڈرامے کا ہر کھلاڑی پہ ذمہ داری ہے کوئی اپنا نہیں لگا مجھ کو آشنا سب ہیں سب سے یاری ہے سربلندی عطا کرے گی تمہیں یہ جو فطرت میں انکساری ہے اس کا جنت سے واسطہ ہی نہیں حسن اخلاق سے وہ عاری ہے کھڑکیاں کھول دو ذرا اعجازؔ اس نے شیشے پہ چونچ ماری ہے
ishq mein aisi paaedaari hai
40 views
یار تجھ کو مرا خیال تو ہے عشق میں اتنی دیکھ بھال تو ہے غم نہیں گر خوشی نہیں حاصل فرقت دوست کا ملال تو ہے تجھ پہ گزری ہے کیا خبر ہے مجھے تیرے جیسا ہی میرا حال تو ہے میرا حامی جہاں نہیں تو کیا شکر ہے رب ذو الجلال تو ہے ہے اگر زعم برتری تم کو یہ بھی اک صورت زوال تو ہے میرے پہلو میں تو نہیں نہ سہی میرے شانے پہ تیری شال تو ہے زندگی میں یہی تمنا تھی دم آخر ترا وصال تو ہے اس کی تمثیل ہی نہیں ہے اسدؔ میرا محبوب بے مثال تو ہے
yaar tujh ko miraa khayaal to hai
40 views
کسی گھر کا بہت نقصان ہوتا ہے تو دولت مند کا سامان ہوتا ہے درون دل اگر ایمان ہوتا ہے تو پھر جینا بڑا آسان ہوتا ہے ہتھیلی پر جو سر رکھے لڑائی میں اسی کی جیت کا امکان ہوتا ہے بدن کا بوجھ ہم ڈھوتے ہی رہتے ہیں مریں تو غیر کا احسان ہوتا ہے پتے کی بات کہہ سکتا ہے وہ پاگل کوئی ہشیار بھی انجان ہوتا ہے غریبی ہاتھ پر رکھتی ہے کھانے کو امیروں کا ہی دسترخوان ہوتا ہے اسدؔ آ جا کہ ہم کو چین آ جائے یہ گھر تیرے بنا سنسان ہوتا ہے
kisi ghar kaa bahut nuqsaan hotaa hai
40 views
دنیا میں کسے آگ لگانی نہیں آتی افسوس مگر سب کو بجھانی نہیں آتی تا حد نظر دشت ہے کیوں بیٹھے ہوئے ہو لگتا ہے تمہیں خاک اڑانی نہیں آتی وہ شوخ ہے باتوں میں لگا رہتا ہے اکثر سنتا ہوں مجھے بات بنانی نہیں آتی بستر کی ضرورت ہی نہیں نیند کو پیارے کیا جسم کی چادر ہی بچھانی نہیں آتی بجھتی ہی نہیں آگ لگی ہے جو جگر میں لیکن مرے اشکوں میں روانی نہیں آتی خوشبو سے مہکتی ہی نہیں رات ہماری خوابوں میں اگر رات کی رانی نہیں آتی نادان مری میز کے شیشے پہ گرے ہیں اشکوں کو بھی تصویر بنانی نہیں آتی میں خود بھی کھلونوں کا طرف دار رہوں گا جب تک مرے بچوں پہ جوانی نہیں آتی میں صرف حقیقت ہی بیاں کرتا ہوں اعجازؔ افسانہ نہیں آتا کہانی نہیں آتی
duniyaa mein kise aag lagaani nahin aati
40 views
لازمی تو نہیں ولی ہو جائے آدمی کاش آدمی ہو جائے کیوں نہ بدنام عاشقی ہو جائے جب لگی دل کی دل لگی ہو جائے روز کا ٹوٹنا بکھرنا کیوں جو بھی ہونا ہے آج ہی ہو جائے لمحہ لمحہ جیوں تجھے جاناں تو اگر میری زندگی ہو جائے میری آنکھیں چھلکنے لگتی ہیں گر کوئی دوست اجنبی ہو جائے گھر ہمارا دھواں دھواں سا ہے کھول کھڑکی کہ روشنی ہو جائے کون اعجازؔ پر کرے گا اسے اپنے اندر اگر کمی ہو جائے
laazmi to nahin vali ho jaae
40 views
گلوں پہ شبنم نہیں لہو ہے یہ کیسی سوغات رنگ و بو ہے بہار خنجر بہ دست آئی ہر ایک منظر لہو لہو ہے کوئی تمنا نہیں ہے مجھ کو سکون دل کی ہی آرزو ہے میں اک مدت سے لاپتہ ہوں مجھے خود اپنی ہی جستجو ہے یہ بے دلی کی نماز تیری گمان ہوتا ہے بے وضو ہے اس کو اکثر میں سوچتا ہوں مری غزل کی جو آبرو ہے مرا نہیں ہے اسدؔ یہ چہرہ تو کون شیشے میں روبرو ہے
gulon pe shabnam nahin lahu hai
40 views





