
Aijaz Farooqui
Aijaz Farooqui
Aijaz Farooqui
Ghazalغزل
یہی ہونا تھا جو ہویا اہا ہاہا اہا ہاہا وہی کاٹا جو تھا بویا اہا ہاہا اہا ہاہا کہا تھا زندگی بھر بات بھی مجھ سے نہ رکھے گا وہ مجھ سے پھر ہوا گویا اہا ہاہا اہا ہاہا کئی حائل تھے پردے وصل کی راتوں میں لیکن اب تکلف برطرف ہویا اہا ہاہا اہا ہاہا محبت میں اکیلے میں ہی بس برباد رہنا تھا اب اس نے بھی سکوں کھویا اہا ہاہا اہا ہاہا کبھی جب اپنے سر کو میں نے اس کی گود میں رکھا گلوں کی گود میں سویا اہا ہاہا اہا ہاہا حقیقت میں نہیں لیکن ہمارے خواب میں آ کر کوئی پہلو میں آ سویا اہا ہاہا اہا ہاہا وہ جس کی دل فریبی اور بڑھ جاتی تھی غصہ میں کبھی جب پھوٹ کر رویا اہا ہاہا اہا ہاہا گناہوں کے مسلسل بوجھ کا احساس تھا اعجازؔ مگر اشکوں سے جب دھویا اہا ہاہا اہا ہاہا
yahi honaa thaa jo hoyaa ahaa haahaa ahaa haahaa
40 views
جب سامنے ہو راہ گزر تین چار پانچ کیسے کوئی کرے گا سفر تین چار پانچ اس کے حنائی ہاتھ میں اک خار کیا چبھا اس نے تو کاٹ ڈالے شجر تین چار پانچ مدت سے بس ستم کے سوا کچھ نہیں دیا احساں گنا دئے ہیں مگر تین چار پانچ باد صبا تو چلتی ہے بس صبح دم جناب ہوتی نہیں ہے کوئی سحر تین چار پانچ پورا نہیں تو تھوڑا ہی بدلاؤ کر سکیں مل جائیں ہم خیال اگر تین چار پانچ ہو جاتے مستفید جہاں میں کچھ اور لوگ ہوتے ہمارے ہاتھ اگر تین چار پانچ
jab saamne ho raahguzar tiin chaar paanch
40 views
ہم نے جو اپنے عدل کی تلوار ٹانگ دی اب لگ رہا ہے جیسے کہ بے کار ٹانگ دی اس پار ٹانگنی تھی جو اس پار ٹانگ دی تصویر یار کیوں پس دیوار ٹانگ دی پوچھا جو میں نے دام وفا اور خلوص کا قیمت کے ساتھ اس نے بھی مقدار ٹانگ دی لہرا کے اپنی ریشمی زلف سیاہ میں میری تمام شوخئ گفتار ٹانگ دی کرنے لگا جو ترک تعلق سے گفتگو گردن میں میرے کاکل خم دار ٹانگ دی دل سے نکال دوں گا میں تصویر بے وفا ہر بار اتارتا رہا ہر بار ٹانگ دی دی موت سے بڑی سزا اس نے صلیب سے مجھ کو اتار کر مری دستار ٹانگ دی
ham ne jo apne 'adl ki talvaar Taang di
40 views
جدا ہوئے ہیں تو چاہتے ہیں وہ زندگانی تلاش کرنا فریب دینا ہے دل کو اپنے جو اس کا ثانی تلاش کرنا ہم اہل دل ہیں ہماری نظروں کی جستجو کا بس ایک محور حقیقتوں کے بھنور میں جا کر کوئی کہانی تلاش کرنا نجانے کیسی یہ بے بسی ہے نجانے کیسی یہ حسرتیں ہیں اداس چہرے کی جھریوں میں گئی جوانی تلاش کرنا بچھڑ گئے ہیں تو کیا ہوا ہے حیات کا اب یہی ہے مقصد چمن کے ہر گل میں ہر کلی میں تری نشانی تلاش کرنا حواس و دل پر ہے نقش ایسا ہوا ہے شامل یہ عادتوں میں شفق زدہ آسمان میں بھی وہ رنگ دھانی تلاش کرنا یہ عشق کے کیسے مرحلے ہیں یہ عشق کی کیسی منزلیں ہیں جو اس کے مبہم سے لفظ کے بھی کئی معانی تلاش کرنا عجیب سر میں سمایا سودا عجیب سا اب یہ مشغلہ ہے ہوا پہ دریا کا نام لکھنا پھر اس میں پانی تلاش کرنا
judaa hue hain to chaahte hain vo zindagaani talaash karnaa
40 views
اشارہ کر کے یہ کہتے ہیں مجھ سے او کیا ہے نماز عشق میں ہوتا نہیں وضو کیا ہے ستم تو دیکھیے چھوڑا زمانہ جس کے لئے وہ کہہ رہا ہے مجھے آج یہ کہ تو کیا ہے وہ جانتا ہے مری حسرتوں کے بارے میں مگر یہ پوچھ رہا ہے کہ آرزو کیا ہے جہاں بھی دیکھنا بس سخت بات کہہ دینا تمہاری شوخ مزاجی ہے یا کہ خو کیا ہے قبائیں اپنی سنبھالو تمہیں نظر نہ لگے ہمارے چاک گریبان کو رفو کیا ہے فریق دونوں بٹھائے تھے سامنے اپنے تو پھر بتاؤ نا انجام گفتگو کیا ہے طواف کرتی جو رہتی ہے میرے چہرے کا تمہاری چشم پریشاں کو جستجو کیا ہے طواف کرنا ہو مقصد تری گلی کا جسے تو اس کے واسطے سردی ہے اور لو کیا ہے صفات لاکھ ہوں اعجازؔ اس میں کیا حاصل بجھا سکے نہ اگر پیاس آب جو کیا ہے
ishaara kar ke ye kahte hain mujh se uu kyaa hai
40 views
قدرت نے اس میں رکھا ہے اتنا سا خیر بھی الفت کے ساتھ رکھتا ہے تھوڑا سا بیر بھی گلشن کے سارے پھول ہیں آمد کے منتظر کرنی تو چاہئے تمہیں گلشن کی سیر بھی مانا کہ روٹھ کر کے گیا ہے وہ مجھ سے پر مجھ کو تو مانگنی ہے سدا اس کی خیر بھی اس نے پلٹ کے دیکھا نہیں مجھ کو ایک بار حالانکہ سمت اس کے بڑھایا تھا پیر بھی لہروں کے ساتھ ساتھ تو چلتے ہیں بیشتر لہروں کے بر خلاف ذرا دیر تیر بھی حامل ہیں اس کی ذات میں کچھ ایسی ہی صفات تعریف جس کی کرتے ہیں اپنے بھی غیر بھی تم کہہ رہے تھے رہ نہیں سکتے مرے بغیر دیکھو گزار دی ہے تمھارے بغیر بھی اپنوں کے واسطے بھی دعا کر سکے نہ تم میں نے تو مانگ لی مرے دشمن کی خیر بھی اعجازؔ دیکھنے کو بچا کیا جہان میں ہم نے حرم بھی دیکھا ہے دیکھا ہے دیر بھی
qudrat ne us mein rakkhaa hai itnaa saa khair bhi
40 views





