Aila Tahir
Aila Tahir
Aila Tahir
Ghazalغزل
band aankhon mein pighalti hui ik nazm ke rog
بند آنکھوں میں پگھلتی ہوئی اک نظم کے روگ اور مصرعوں میں چھپے درد ہمیں جانتے ہیں یوں گلے ملتے ہیں بچھڑا ہوا جیسے مل جائے تیرے کوچے میں پلے درد ہمیں جانتے ہیں ہم سے شاہان محبت کا پتہ پوچھتے ہو عشق آباد کے بے درد ہمیں جانتے ہیں ایک میلہ سا لگا ہوتا ہے یار آخر شب دل کی سرحد پہ کھڑے درد ہمیں جانتے ہیں زرد رت میں بھی انہیں ہم نے سنبھالے رکھا ترے ہاتھوں سے ملے درد ہمیں جانتے ہیں ہم نے دیکھے ہیں سزا کاٹ کے جیتے ہوئے دن اس حوالے سے تو یہ درد ہمیں جانتے ہیں
ye kis ke naqsh aaine mein ubhre ye kaun raahat hai jhilmilaai
یہ کس کے نقش آئنے میں ابھرے یہ کون راحت ہے جھلملائی کہ اس کا جادو جنوں میں گھلتے ہوؤں کو بے حال کر گیا ہے ہمارے حصے میں لاؤ دے دو تمام وحشت وہ سب اذیت تمہارے ہاتھوں میں جو تھما کر کوئی نہ جانے کدھر گیا ہے تمہیں کسی زخم کی خبر تک نہ دیں گے ہم کہ عزیز جاں ہو نہ یہ بتائیں گے سکھ کا دریا تباہ کر کے اتر گیا ہے ہماری حالت کا کیا ٹھکانہ کہ دل سے بڑھ کر تھا غم تمہارا مگر اے مہتاب حسن تیرا بتا کہ کیسے بکھر گیا ہے شمار تاروں کا مت کرو تم گنو نہیں اب یہ بہتے آنسو جو درد تھا اب وہ مٹ چکا ہے جو زخم تھا اب وہ بھر گیا ہے وہ ایک حسرت جو دل کے اندر خدا بنی تھی نہیں رہی ہے وہ صبر تھا جو غرور ہستی قسم خدا کی وہ مر گیا ہے
ye baat kyuun nahin lagti bahut ajiib tumhein
یہ بات کیوں نہیں لگتی بہت عجیب تمہیں کوئی کسی کو پکارے جواب تک نہ ملے بس اک خلش کا مقدر سنوارنے کے لیے سوال کیا کیا نکھارے جواب تک نہ ملے پس نوشتۂ تقدیر ماجرا کیا تھا بجھائے کس نے ستارے جواب تک نہ ملے اگرچہ ہم نے صدائیں کئی سنی تھیں مگر پکارنے پہ ہمارے جواب تک نہ ملے نہ ہم تھے غار نشیں اور نہ طور والے تھے کسی کو جب بھی پکارے جواب تک نہ ملے
dil ab us shahr mein jaane ko machaltaa bhi nahin
دل اب اس شہر میں جانے کو مچلتا بھی نہیں کیا ضروری ہے ضرورت سے الگ ہو جانا عین ممکن ہے سمجھ تم کو نہ آؤں اس سال تم یہی کرنا کہ عجلت سے الگ ہو جانا یہ کہیں چھین نہ لے صبر کی دولت تم سے دل دھواں کرتی قیامت سے الگ ہو جانا وہ تمہیں بھول کے پاگل بھی تو ہو سکتا ہے دیکھ کر وقت سہولت سے الگ ہو جانا میری تقدیر میں بس ایک ہی دکھ اترا ہے دل کا اس یار کی سنگت سے الگ ہو جانا تیرا غم ہی تو اڑائے لیے پھرتا ہے مجھے چاہے کون ایسی اذیت سے الگ ہو جانا ادھ کھلے پھول سے رکھنا نہ کبھی ربط کوئی ادھ بجھے رنگ کی حالت سے الگ ہو جانا ہم تو جاں ہار چلے ہیں پہ تم اے نکہت گل چشم قاتل کی مشیت سے الگ ہو جانا
pahle kuchh din vafaa huaa thaa koi
پہلے کچھ دن وفا ہوا تھا کوئی پھر مسلسل سزا ہوا تھا کوئی اب تو ظلمت بدست پھرتے ہیں کوئی دن تھے ضیا ہوا تھا کوئی کیا یہی بات کر رہے ہیں آپ کبھی عہد وفا ہوا تھا کوئی اب جدائی کی راہ پڑتی ہے بس یہیں تک دعا ہوا تھا کوئی دھند میں بس گئے تھے سب منظر بس اچانک خفا ہوا تھا کوئی برق گرتی تھی آشیانے پر جیسے اس سے ملا ہوا تھا کوئی یہ مژہ پر رکا ہوا آنسو خواب اس سے جڑا ہوا تھا کوئی ٹھیک سے تو مجھے بھی یاد نہیں شام ہی تھی جدا ہوا تھا کوئی
shaam ki dhund se ik husn ne jhaankaa to koi nazm hoi
شام کی دھند سے اک حسن نے جھانکا تو کوئی نظم ہوئی بسکہ پھر غم وہی اک غم جو خوش آیا تو کوئی نظم ہوئی دل بے تاب محبت کی ملامت کا امیں ڈر سا گیا رہ بدلنا کبھی اس شخص نے چاہا تو کوئی نظم ہوئی کس کا سایہ تھا کڑی دھوپ میں اک اور الاؤ کا بیاں کون تھا زخم مرا مجھ کو دکھایا تو کوئی نظم ہوئی وقت کے دیدۂ بے رحم کو معلوم تھا کیا چھینا ہے خالی ہاتھوں کو بھری آنکھ سے دیکھا تو کوئی نظم ہوئی خواب کی تتلی کے ٹوٹے ہوئے پر اور بکھرتے ہوئے رنگ اس کمائی کا کبھی صدقہ اتارا تو کوئی نظم ہوئی





