Aiman Amritsari
Aiman Amritsari
Aiman Amritsari
Ghazalغزل
وہ حسین جلوہ بہ دوش ہے کوئی پردہ ہے نہ نقاب ہے ترا پردہ ہے تری پردگی یہ حجاب تیرا حجاب ہے تری چشم مست کے دور میں کوئی جام جام شراب ہے جو ہے اہل دید وہ مست ہے جو ہے اہل دل وہ خراب ہے جو تقاضا تھا تو وہ طور تھا جو طلب تھی تو وہ ظہور تھا نہ تقاضا ہے نہ طلب ہے اب نہ سوال ہے نہ جواب ہے اسے ساتھ لے چلو رہبرو کہ ذرا نئی ہے رہ عدم یہ سوار عمر رواں مرا سر راہ پا بہ رکاب ہے اسے کھیل سمجھا تو بچ رہا نہ سمجھ سکا تو الجھ گیا اسے آنکھ کھول کے دیکھنا تری زندگی کا یہ خواب ہے نہ ہے خوف اہل کتاب سے نہ ہراس اہل حساب سے وہ کرم ہے میرے کریم کا نہ حساب ہے نہ کتاب ہے کسی علم سے نہ اسے غرض نہ کسی ادب سے ہے واسطہ ترا درد جس کا حساب ہے ترا حسن جس کی کتاب ہے دل پر ہوس تجھے سیر ہستیٔ بے سکوں کی مجال کیا کہ مثال موج رواں ہے یہ تری چشم چشم حباب ہے نہ الجھ نمائش دہر کے کبھی دام نقش و نگار میں جو نگار ہے وہ پریدہ ہے جو ہے نقش نقش بر آب ہے وہی نور جس سے ہیں نور نور ہزاروں نیر و مہر و ماہ جو اسی کے سائے میں آ گیا فقط اس کو دید کی تاب ہے بہ خلوص ایمنؔ بے نوا اسی آستاں پہ جبیں جھکا کوئی بے مراد نہیں گیا شہہ دو جہاں کی جناب ہے
vo hasin jalva-ba-dosh hai koi parda hai na naqaab hai
40 views
جو نہ مجھ سے تیری ساقی رہ التفات ہوتی تو نہ کائنات مستی مری کائنات ہوتی تجھے رنج عشق ملتا تو مجھے تھا گنج راحت جسے لوگ موت کہتے وہ مری حیات ہوتی وہ خطا پہ ملتی جنت جو عمل کے نام لکھ دی یہ ہے اور بات زاہد وہ کچھ اور بات ہوتی رہے قید آرزو میں تھی یہاں کی یا وہاں کی جو نجات اس سے ملتی تو کہیں نجات ہوتی تری یاد جس میں ہوتی ترا قرب جس میں ملتا اسی دن کو دن سمجھتے وہی رات رات ہوتی یہی ہے ثبوت دنیا کہ ہے آج کل نہیں ہے نہ یہ بے ثبوت ہوتی نہ یہ بے ثبات ہوتی تو خطا پر اپنی ایمنؔ کبھی منفعل تو ہوتا تجھے بخش دیتی رحمت جو یہ ایک بات ہوتی
jo na mujh se teri saaqi rah-e-iltifaat hoti
40 views
سوز دل بڑھنے نہ پائے آنکھ تک اے ضبط غم آگ بھڑکا دے گا یہ اس خانۂ خس پوش میں چپکے چپکے میں پئے جاتا ہوں الفت میں سرشک ہیں بلا کی گرمیاں اس آتش خاموش میں رنج و راحت ایک سے ہیں مجھ کو مثل خار و گل مادر گیتی نے پالا ان کو اک آغوش میں عاقبت بر پشت یہ ہے عاقبت بردوش وہ فرق یہ ہے ایک منعم ایک خرقہ پوش میں سختیوں میں پرورش پاتے ہیں اہل رنگ و بو گل پلا کرتے ہیں اکثر خار کی آغوش میں اے کریم ایمنؔ کے عصیاں آج کر اس کے سپرد تیرا دریائے کرم لہرا رہا ہے جوش میں
soz-e-dil baDhne na paae aankh tak ai zabt-e-gham
40 views
حجاب والوں سے وہ بے حجاب ہو نہ سکا وہ سامنے تھا مگر بے نقاب ہو نہ سکا وجود خاک کا انساں خطاب ہو نہ سکا یہ ذرہ غیر کرم آفتاب ہو نہ سکا کرم وہ طور پہ اک بے نیاز جلوہ پر وہ بے نیازی تھی جس کا جواب ہو نہ سکا اٹھا کے پردہ چھپا کثرت تجلی میں وہ بے نقاب ہوا بے نقاب ہو نہ سکا تمام عمر رہے دیکھتے حیات کے خواب ہماری آنکھوں میں یہ خواب خواب ہو نہ سکا رہی فریب تصور یہ رفتنی دنیا سراب جیسے کبھی جوئے آب ہو نہ سکا ضمیر ظاہر و باطن سے ہو گیا آگاہ خراب بادۂ عرفاں خراب ہو نہ سکا مرے کریم نے بخشا اسی بہانے سے مرے گناہوں کا جب کچھ حساب ہو نہ سکا ابھی کمی ہے ترے ذوق عشق میں ایمنؔ لہو ہوا ترا آنسو شراب ہو نہ سکا
hijaab vaalon se vo be-hijaab ho na sakaa
40 views
نہ مجھے ادھر کی تلاش ہے نہ مجھے ادھر کی تلاش ہے یہ تلاش سب دل بے خبر دل بے خبر کی تلاش ہے ہے ازل سے دل میں مقیم تو تری بھول ہے تری جستجو کوئی جستجو ہے یہ جستجو تجھے اپنے گھر کی تلاش ہے رہی درمیاں جو دوئی تو کیا جو نظر نہ ایک ہوئی تو کیا نہ ہو امتیاز نگاہ میں مجھے اس نظر کی تلاش ہے در دیر ہے جو کسی کا در در کعبہ ہے جو کسی کا سر جو بہم ہو دونوں کا آستاں مجھے ایسے در کی تلاش ہے یہ ہے خود حجاب تری خودی ترا وہم ہے تری گمرہی تو خود آپ اپنا ہے رہنما تجھے راہبر کی تلاش ہے تو ہے شیخ طالب زاہدی مری دستگیر ہے بے پری مری بے پری مرے بال و پر تجھے بال و پر کی تلاش ہے جو گلوں کے حسن میں ہے عیاں دل عندلیب میں ہے نہاں جو ہے کار گاہ جہاں کی جاں مجھے اس شرر کی تلاش ہے جو خزاں میں خفتہ ہیں شورشیں وہیں حشر و نشر بہار ہیں یہ وہ راز فطرت غیب ہے جسے دیدہ ور کی تلاش ہے یہی ایک راز ہے ہستیٔ گل نو دمیدہ کا اے سحر کہ پیام غنچہ کو گل کدے میں پیامبر کی تلاش ہے تجھے ہم نشیں ہے اس آب و گل کے طلسم میں غم برہمی مجھے اس کے نقش و نگار میں کسی کوزہ گر کی تلاش ہے رہے اس کی رحمت عام پر ہی نگاہ ایمنؔ منفعل یہی ایک دامن خاص ہے جسے اشک تر کی تلاش ہے
na mujhe idhar ki talaash hai na mujhe udhar ki talaash hai
40 views
دست-کش ہوں نہ مئے گل کے خوش آشام ابھی کہ لبالب ہیں مہ و مہر کے دو جام ابھی ذہن میں ساقی ہے مے خانہ ہے ہے جام ابھی ہوش کہتا ہوں اسے ہوش کا کیا کام ابھی مجھ کو درکار نہ ہے کفر نہ اسلام ابھی سیدھے سیدھے ہی چلے آتے ہیں پیغام ابھی تو بھی باقی تری رحمت بھی ہے باقی ساقی رہنے دے ہے مے عصیاں سے بڑا کام ابھی خال و گیسو سے ہے یہ سلسلۂ راز و نیاز دانہ صد دانہ ہو یہ دام ہو صد دام ابھی زیست کے خواب کی تعبیر ابھی باقی ہے ابتدا دیکھ چکے ہے مگر انجام ابھی رہرو عشق ابھی دور ہے معراج حبیب رشک منزل نہ ہوا راہ میں ہر گام ابھی ذرہ ذرہ ہے اک آتش کدۂ نور کلیم دیکھ اگر تو نہ ہو آتش زدۂ بام ابھی امتیاز من و تو راز خفی ہے لیکن خاصگاں کے لئے کہتا ہوں سر عام ابھی عکس کو زعم ہے بے مثلیٔ رنگ و بو کا طرفہ یہ ہے کہ مقابل ہے وہ گلفام ابھی راز گوئی تری ایمنؔ ہے گناہ اکبر مانگ لے عفو کہ اس کا ہے کرم عام ابھی
dast-kash hon na mai-e-gul ke khush-aashaam abhi
40 views





