
Ainuddin Azim
Ainuddin Azim
Ainuddin Azim
Ghazalغزل
تہی دامن برہنہ پا روانہ ہو گیا ہوں تباہی چل ترے شانہ بہ شانہ ہو گیا ہوں تری رفتار پر قربان جاؤں اے ترقی میں اپنے عہد میں گزرا زمانہ ہو گیا ہوں میرے اطراف رہتا ہے ہجوم نا مرادی جبین نارسا میں آستانہ ہو گیا ہوں ہوا کی تان پر گاتے ہیں مجھ کو خشک پتے میں ہر ٹوٹے ہوئے دل کا ترانہ ہو گیا ہوں مری مٹی میں اب میری حقیقت ڈھونڈھتی ہے میں دنیا کے لئے جب سے فسانہ ہو گیا ہوں مرا بھی تذکرہ ہونے لگا دانشوروں میں تو کیا پھر میں بھی عازمؔ کچھ دوانہ ہو گیا ہوں
tahi-daaman barahna-paa ravaana ho gayaa huun
40 views
تمہارے بن اب کے جان جاں میں نے عید کرنے کی ٹھان لی ہے غموں کے ایک ایک پل سے خوشیاں کشید کرنے کی ٹھان لی ہے میں اس کی باتوں کا زہر اپنی خموشیوں میں اتار لوں گا اگر مضر ہے تو میں نے اس کو مفید کرنے کی ٹھان لی ہے تلاش کی شدتوں نے ارض و سما کی سب دوریاں مٹا دیں سو میں نے اب تیری جستجو کو شدید کرنے کی ٹھان لی ہے مشین بونا ہے جن کا پیشہ انہیں زمیں بیچ دی ہے تم نے کسان ہو کر خود اپنی مٹی پلید کرنے کی ٹھان لی ہے یہ میری تہذیب کا اثاثہ ہی میری پہچان بن سکے گا تمام کہنہ روایتوں کو جدید کرنے کی ٹھان لی ہے سیاہ شب کا غنیم شاید کہ آ گیا روشنی کی زد میں سبھی چراغوں کو جس نے عازمؔ شہید کرنے کی ٹھان لی ہے
tumhaare bin ab ke jaan-e-jaan main ne iid karne ki Thaan li hai
40 views
مجھی میں جیتا ہے سورج تمام ہونے تک میں اپنے جسم میں آتا ہوں شام ہونے تک خبر ملی ہے مجھے آج اپنے ہونے کی کہیں یہ جھوٹ نہ ہو جائے عام ہونے تک کہاں یہ جرأت اظہار تھی کسی شے میں سکوت شب سے مرے ہم کلام ہونے تک یہ پختگی تھی غموں میں نہ دھڑکنوں میں ثبات تمہارے درد کا دل میں قیام ہونے تک یہ چاند تارے مری دسترس سے دور نہیں کہ فاصلے ہیں مرے تیز گام ہونے تک گزر رہے ہیں نظر سے نظر ملائے بغیر ٹھہر بھی جائیے ایک ایک جام ہونے تک دیئے بجھا دئے جاتے ہیں صبح تک عازمؔ مرا حوالہ دیا اس نے نام ہونے تک
mujhi mein jiitaa hai suraj tamaam hone tak
40 views
ذہن پر جب درد خاموشی کی چادر تانتا ہے قطرہ قطرہ آنکھ سے لفظ و معانی چھانتا ہے ہر کس و ناکس کو راس آتی نہیں آوارہ گردی راستے اس پر ہی کھلتے ہیں جو چلنا جانتا ہے نقش پارینہ ہٹا کر میں نئے پیکر تراشوں کوزہ گر کنکر ہٹا کر جیسے مٹی سانتا ہے وہ ہے دیوانہ اسے گمنامی و تشہیر سے کیا خامشی سے کر گزرتا ہے جو دل میں ٹھانتا ہے کور چشمی نے بکھیرا حسن کا شیرازہ ورنہ اشتہاری جسم بھی پوشیدگی کو مانتا ہے یہ صلہ بھی کم نہیں عازمؔ تری مشق سخن کا کوئی غزلوں کے حوالے سے تجھے پہچانتا ہے
zehn par jab dard khaamoshi ki chaadar taantaa hai
40 views
پاؤں پھنسے میں ہاتھ چھڑانے آیا تھا تم سے مل کر واپس جانے آیا تھا سارا شور مرے اندر کا جاگ اٹھا سناٹوں میں دل بہلانے آیا تھا جنگل جیسی رات کہاں تنہا کٹتی تیرا غم بھی ہاتھ بٹانے آیا تھا دنیا پر میں نے بھی پردہ ڈال دیا وہ بھی دل کی بات بتانے آیا تھا آنکھیں جھپکیں عہد جوانی بیت گیا لے کر کتنے خواب سہانے آیا تھا عازمؔ دل کی کائی زدہ چٹانوں پر درد کا لشکر پاؤں جمانے آیا تھا
paanv phanse mein haath chhuDaane aayaa thaa
40 views
سرخ رو سب کو سر مقتل نظر آنے لگے جب ہوئے ہم آنکھ سے اوجھل نظر آنے لگے شہر والو جان لینا گاؤں میرا آ گیا بچیوں کے سر پہ جب آنچل نظر آنے لگے ہم نے مانگی بھی دعائے ابر رحمت کس گھڑی جب سروں پر ظلم کے بادل نظر آنے لگے آئنہ پر آج کے جمنے نہ دے ماضی کی دھول تاکہ تیرا آنے والا کل نظر آنے لگے ہم وہاں تک بھی نہ پہنچے جس بلندی سے گرے جب کہ پچھڑے لوگ بھی اول نظر آنے لگے لوگ تو کہتے تھے عازمؔ یہ کبھی پھلتی نہیں ظلم کی ٹہنی پہ کیسے پھل نظر آنے لگے
surkh-ru sab ko sar-e-maqtal nazar aane lage
40 views





