
Akhtar Saeed
Akhtar Saeed
Akhtar Saeed
Ghazalغزل
اردی و دے سے پرے سود و زیاں سے آگے آؤ چل نکلیں کہیں قید زماں سے آگے اس خرابے میں عبث ہیں غم و شادی دونوں میری تسکین کا مسکن ہے مکاں سے آگے آہ و نالہ ہی سہی اہل وفا کا مسلک اک مقام اور بھی آتا ہے فغاں سے آگے دار تک صاف نظر آتا ہے رشتہ دیکھیں پھر کدھر جاتے ہیں عشاق وہاں سے آگے خون آلودہ کفن شارح صد دفتر دل طرز اظہار ہے اک اور زباں سے آگے فکر مفلوج جو زندانئ افلاک رہے تیر بیکار جو نکلے نہ کماں سے آگے تھی بہت خانہ خرابی کو ہماری یہ عمر اک جہاں اور بھی سنتے ہیں یہاں سے آگے میں کہ ہوں حاضر و موجود کے وسواس میں قید تو کہ ہے پردہ نشیں وہم و گماں سے آگے
urdi-o-dai se pare sud-o-ziyaan se aage
41 views
خوبیٔ طرز مقالات سے کیا ہوتا ہے بات کرتے رہے ہم بات سے کیا ہوتا ہے رات کٹ جائے تو پھر رات چلی آئے گی رات کٹ جائے گی اک رات سے کیا ہوتا ہے کسی جانب سے جواب آئے تو کچھ بات چلے کاوش حسن سوالات سے کیا ہوتا ہے جب کہ تقطیر رگ جاں سے بندھی ہے تقدیر بے خبر ذکر و مناجات سے کیا ہوتا ہے دان دیجے کہ مرے غم کا مداوا ہووے رنج ہوتا ہے حسابات سے کیا ہوتا ہے دل کی وسعت سے ہے آسانئ انفاس ولے وسعت صحن محلات سے کیا ہوتا ہے سامنے آؤ کسی روز تو کچھ بات کریں عمر بھر حل معمات سے کیا ہوتا ہے ذات ہی مظہر معیار حق و باطل ہے وہ غلط کہتے ہیں کہ ذات سے کیا ہوتا ہے جاں نکل جائے گی تو فیصلہ دیں گے چہ خوب صاحبو ایسی مکافات سے کیا ہوتا ہے
khubi-e-tarz-e-maqaalaat se kyaa hotaa hai
40 views
جوں فوج کہ مفتوح ہو زنجیر میں آوے الفاظ کا لشکر مری تحریر میں آوے اک خاص عنایت ہے کہ دیتے نہیں مجھ کو وہ درد کہ جو پنجۂ تدبیر میں آوے یکسر رگ منصور کی ہمت سے پرے ہے وہ علم کہ اک عرصۂ تقطیر میں آوے جو چاہے بھرے میں نے مصور سے کہا تھا کچھ رنگ محبت مری تصویر میں آوے وہ بات خوشا دیتا ہے دل جس کی گواہی یہ کیا کہ کہو اگلی اساطیر میں آوے جو حکم تمہارا ہے وہ واجب ہے بلا شک جو عرض ہماری ہے وہ تعزیر میں آوے ہے گرچہ بہت میرے لیے خواب کی دنیا کچھ اور مزہ خواب کی تعبیر میں آوے جس پاس مداوا نہیں کچھ آب و ہوا کا لازم ہے مرے حلقۂ تقریر میں آوے ممکن نہیں آدم کے لیے شان خدائی ہاں یوں کہ مگر آیۂ تطہیر میں آوے
juun fauj ki maftuh ho zanjir mein aave
40 views
مری نگاہ میں ہے خاک سیم و زر کا فسوں ثبوت معجزۂ رفتگان عالم ہوں دیا ہے مجھ کو مگر بے سرور ہنگامہ ملا ہے مجھ کو مگر وقف اضطراب سکوں نہ چاند میں ہے چمک اپنی اور نہ شبنم میں کروں تو کس کا زمانے میں اعتبار کروں جو دل میں بات ہے الفاظ میں نہیں آتی سو ایک بات ہے دل کی لگی کہوں نہ کہوں سزا ہے میری رہو اس دیار میں کہ جہاں گراں ہے آب مصفا مگر ہے ارزاں خوں سوال عقل وہی ہے جواب جہل وہی ہزار بار کروں دس ہزار بار سنوں خفا ہے رنگ گل و موجۂ صبا مجھ سے کہ باندھتا ہوں دل بے قرار کا مضموں مجھے تو اپنے پہ اک لمحہ اعتبار نہیں نگار دہر تجھے گرچہ با وفا سمجھوں ہزار راستے پنہاں ہیں ریگ صحرا میں جو دم میں دم ہو تو اس دشت کی ہوا دیکھوں کھلا ہے آل محمدؐ کے فیض سے مجھ پر کہ آدمی کو بھی ہے اختیار کن فیکوں بلند بعد شہادت بھی ہے یہ نوک سناں سر امام کسی حال بھی نہیں ہے نگوں
miri nigaah mein hai khaak sim-o-zar kaa fusun
عشق کا شور کریں کوئی طلب گار تو ہو جنس بازار میں لے جائیں خریدار تو ہو ہجر کے سوختہ جاں اور جلیں گے کتنے طور پر بیٹھے ہیں کب سے ترا دیدار تو ہو شدت درد دو پل کے لیے کم ہوتا کہ غم کے الفاظ کے سنگار میں اظہار تو ہو کب سے امید لگائے ہوئے بیٹھے ہیں ہم نے سہی گر نہیں اقرار سو انکار تو ہو کفر احرام کے پردے میں چھپا دیکھا ہے ایک عالم ہے اگر درپئے زنار تو ہو ہم نے مانا کہ شرافت ہے بڑی چیز مگر کچھ زمانے کو شرافت سے سروکار تو ہو خانۂ دل میں نہیں ایک کرن کا بھی گزر ساری دنیا ہے اگر مطلع انوار تو ہو رازداری ہی میں ہوتا ہے شریفوں کا حساب تجھ کو منظور ہے گر بر سر بازار تو ہو
'ishq kaa shor karein koi talabgaar to ho
اخترؔ کو تو ریئے میں بھی ہے عار کیا کرے بیٹھا ہوا ہے دیر سے بے کار کیا کرے یک ہجوم درد اور اور ای تمام دل زیر پر لگائے ہے منقار کیا کرے تاریخ کہ رہی ہے کہ مٹتا نہیں ہے ظلم مختار کل بتا ترا سنسار کیا کرے کھینچے ہے سب کو دست فنا ایک سا تو پھر ایک سادہ لوح کرے یہاں عیار کیا کرے کوئی نہیں ہے مجھ کو ہنر روزگار کا جز خاکسار مدحت سرکار کیا کرے جو ساری کائنات کی فطرت کا ہو امیں ہر تجربے کا جو ہو خریدار کیا کرے جی مضطرب ہے حدت قیل و مقال میں ڈھونڈے ہے کوئی سایۂ دیوار کیا کرے شہروں میں میری خاک اڑے مثل بوئے گل بے شامہ ہے خلق طرح دار کیا کرے مولا مدد کہ میں ہوں عزادار آل او آقا ترے بغیر گنہ گار کیا کرے
'akhtar' ko to riye mein bhi hai 'aar kyaa kare





