"tera har raaz chhupa.e hue baiTha hai koi khud ko divana bana.e hue baiTha hai koi"

Akhtar Siddiqui
Akhtar Siddiqui
Akhtar Siddiqui
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalteraa har raaz chhupaae hue baiThaa hai koi
khud ko divaana banaae hue baiThaa hai koi
Ghazalغزل
jab se ujDaa hai mire dil kaa jahaan
جب سے اجڑا ہے مرے دل کا جہاں موسم گل ہو گیا فصل خزاں لے رہی ہے زندگی ہر گام پر مجھ سے میرے حوصلوں کا امتحاں جب حصار ذات سے باہر ہوا ہو گیا ہر شخص میرا ہم زباں جس کو تیرے شہر سے نسبت ہوئی خوش نہ آیا اس کو کوئی گلستاں سانحے دل پر گزرتے ہی رہے حوصلے لیکن رہے ہر دم جواں دوستوں کی مہربانی کم نہیں کس لیے کرتے ہو فکر دشمناں آج تک جس کو کوئی بوجھا نہیں زندگی اخترؔ ہے ایسی چیستاں
yuun to ehsaas-e-ziyaan pe khun-e-dil rotaa rahaa
یوں تو احساس زیاں پہ خون دل روتا رہا زندگی کا بوجھ پھر بھی دوستو ڈھوتا رہا انتہائے غم میں بھی موج تبسم لب پہ تھی درد کی بارش میں بھی یہ دل دھنک ہوتا رہا بارہا اس بات کا مجھ کو ہوا ہے تجربہ جس کے حق میں کی دعا کانٹے وہی بوتا رہا دل کے دروازے پہ کوئی بھی صدا ابھری نہیں پیار دستک کے لیے میں عمر بھر روتا رہا اس کا گھر بھی شعلوں کی زد سے نہ آخر بچ سکا جو لگا کر آگ خود تھا چین سے سوتا رہا غم نہیں اخترؔ کو بربادی کا اپنی اے خدا ہاں مگر سب کچھ ترے ہوتے ہوئے ہوتا رہا
ehtiraam-e-gardish-e-ayyaam karnaa hi paDaa
احترام گردش ایام کرنا ہی پڑا غم غلط کرنے کو شغل جام کرنا ہی پڑا مضطرب رکھتا تھا پل پل کرب احساس زیاں آخر اس موذی کو زیر دام کرنا ہی پڑا ساتھ دیتی کب تلک پرکھوں کی چھوڑی جائداد ایک اک کرکے سبھی نیلام کرنا ہی پڑا پے بہ پے ناکامیوں کا کرب تھا سوہان روح قلب کو بیگانۂ آلام کرنا ہی پڑا مہرباں کہنا پڑا اخترؔ کسی بے مہر کو جو نہیں کرنا تھا وہ بھی کام کرنا ہی پڑا
phulon ko sharmsaar kisi ne nahin kiyaa
پھولوں کو شرمسار کسی نے نہیں کیا کانٹوں کو جھک کے پیار کسی نے نہیں کیا یوں تو گلا خزاں کا سبھوں نے کیا مگر شکرانۂ بہار کسی نے نہیں کیا بنیاد عشق مصلحت آمیز ہو گئی ملبوس تار تار کسی نے نہیں کیا تلواریں بے نیام ہیں مذہب کے نام پر نوع بشر سے پیار کسی نے نہیں کیا حق کی دہائی دے سبھی خاموش ہو گئے باطل کو سنگسار کسی نے نہیں کیا اخترؔ بڑھے چلے گئے سب رہروان شوق کچھ میرا انتظار کسی نے نہیں کیا
chain de kar dard kaa saudaa kiyaa
چین دے کر درد کا سودا کیا اے دل ناداں یہ تو نے کیا کیا زندگی ہو جیسے مفلس کی دوا سر ڈھکا تو پاؤں باہر ہو گیا کل تلک آباد تھا یہ گلستاں کس کی وحشت نے اسے صحرا کیا ہر طرف گرداب سے بنتے رہے جھیل سے ساحل کو آخر کیا ملا میرا ہادی اور مرشد میرا دل گیان جو مجھ کو ملا اس سے ملا ظلم کی پروائیاں جب بھی چلیں درد پنہاں شعر میں نازل ہوا خوش نما تھی آرزوؤں کی صلیب جس سے اخترؔ عمر بھر لٹکا رہا
vafur-e-hausla-e-arz-e-muddaaa na rahaa
وفور حوصلۂ عرض مدعا نہ رہا ملا جو اس سے تو باقی کوئی گلہ نہ رہا رگوں سے درد کا رشتہ بھی خام ہی نکلا کسی کی چشم عنایت کا سلسلہ نہ رہا نکال پھینک دیا دل سے سب اصولوں کو نظر کے سامنے جب کوئی راستہ نہ رہا مرے لہو سے ہی روشن چراغ تھی ہستی مرے ہی گھر میں اگرچہ کوئی دیا نہ رہا عجیب ہے کہ ہوا رو سیہ رقیب مرا عجیب تر ہے کہ وہ شوخ با وفا نہ رہا طلب میں اس کی فروزاں کیا تھا دل کا دیا ہوا چلی تو بہت دیر تک جلا نہ رہا





