Akhtar Wajidi
Akhtar Wajidi
Akhtar Wajidi
Ghazalغزل
subh-e-nau koi dam mein jagmagaane vaali hai
صبح نو کوئی دم میں جگمگانے والی ہے رات سے نہ گھبراؤ رات جانے والی ہے باغباں کے تیور سے جھانکتے ہیں اندیشے فصل گل نہ جانے کیا گل کھلانے والی ہے کتنے حادثوں کو ہم کر چکے ہیں شرمندہ زندگی ہمیں کب تک آزمانے والی ہے زندگی کو نفرت کا زہر کیوں پلاتے ہو زندگی محبت کے گیت گانے والی ہے ان کی چشم مست اخترؔ تشنگان الفت کو مست کرنے والی ہے رس پلانے والی ہے
hayaat aaj giraan ho gai sabhi ke liye
حیات آج گراں ہو گئی سبھی کے لئے ترس رہا ہے ہر انسان زندگی کے لئے نشاط زیست کی تکمیل ہو نہیں سکتی تمہارا درد ضروری ہے زندگی کے لئے ریا نمود و نمائش کہاں عبادت میں خلوص قلب ضروری ہے بندگی کے لئے اگر ہوں قلب میں احساس کے دیے روشن بہت سے راستے ملتے ہیں شاعری کے لئے سخنوران دکن متفق ہیں سب اخترؔ صفیؔ غزل کے لئے تھا غزل صفیؔ کے لئے
nahin milte jahaan mein zakhm-e-pinhaan dekhne vaale
نہیں ملتے جہاں میں زخم پنہاں دیکھنے والے بہت مل جائیں گے چاک گریباں دیکھنے والے خدا جانے یہ کیا تاثیر ہے زلف پریشاں میں پریشاں ہیں تری زلف پریشاں دیکھنے والے نظر کے ہوش اڑ جاتے ہیں بعض اوقات اجالے میں نظر رکھیں اندھیرے میں چراغاں دیکھنے والے تمہیں طوفاں سے کیا نسبت تمہیں ساحل پہ رہنا ہے سلامت ہیں ابھی ہم زور طوفاں دیکھنے والے یہاں انسانیت کی نبض ہے بے چین رکنے کو خدا جانے کہاں ہیں نبض دوراں دیکھنے والے دل پر درد میں کچھ داغ روشن ہم بھی رکھتے ہیں ادھر آئیں ذرا بزم چراغاں دیکھنے والے تصور میں سفر نظروں کا کس سے طے ہوا اخترؔ کہاں ہیں ان کو نزدیک رگ جاں دیکھنے والے
majbur-e-shab ko subh kaa mukhtaar dekh kar
مجبور شب کو صبح کا مختار دیکھ کر حیراں ہے عقل وقت کی رفتار دیکھ کر بیمار کو ہے آپ کے آنے کا انتظار سب رو رہے ہیں حالت بیمار دیکھ کر احباب کی تسلیاں خود زخم بن گئیں گھبرا رہا ہوں کثرت غم خوار دیکھ کر انجام فصل گل پہ ہے میری نگاہ دوست خوں رو رہا ہوں رنگ چمن زار دیکھ کر کس نے فلک کا چاند زمیں پر بچھا دیا آیا خیال رہ گزر یار دیکھ کر شبنم ہو جیسے دامن نرگس میں خندہ زن سمجھا میں ان کی چشم گہر بار دیکھ کر پھر میرے غور و فکر کی قسمت جگا بھی دے مدت ہوئی ہے تجھ کو ضیا بار دیکھ کر اخترؔ سکون دل کے سوا تھی ہر ایک شے ہم لوٹ آئے رونق بازار دیکھ کر
gham tabassum mein jo Dhal jaataa hai
غم تبسم میں جو ڈھل جاتا ہے غم کا مفہوم بدل جاتا ہے ہم نے دیکھا ہے یہی ہر حاسد اپنی ہی آگ میں جل جاتا ہے کوئی مقصد ہو روابط کا اگر ربط ہر رخ سے بدل جاتا ہے اور ہو جاتا ہے احساس شدید نغمہ جب درد میں ڈھل جاتا ہے زندگی کیا ترے دیوانے کی دامن غم میں بھی پل جاتا ہے اب نہ فرمائیے تاخیر کرم دیکھیے وقت نکل جاتا ہے اس ترقی کو سلام اے اخترؔ جس میں سب لطف غزل جاتا ہے
kyaa kuchh milaa na ham ko mahrumi-e-nazar se
کیا کچھ ملا نہ ہم کو محرومیٔ نظر سے کچھ داؤ مستند سے کچھ زخم معتبر سے چھیڑو نہ ساز دل کا سہمی ہوئی نظر سے بڑھتی ہے بے قراری تسکین مختصر سے کتنی بدل گئی ہیں انسانیت کی قدریں ہم زندگی کے ہاتھوں خود زندگی کو ترسے کتنی بلند ہمت ہیں زندگی کی نظریں ٹکرا رہی ہیں بڑھ کر اب وقت کی نظر سے کام آئی اپنے اخترؔ دیوانگی خود اپنی بچ بچ کے چل رہے ہیں ہر ایک کی نظر سے





