
Akmal Alduri
Akmal Alduri
Akmal Alduri
Ghazalغزل
بے طلب زیست اگرچہ کوئی دشوار نہیں کون ایسا ہے جو دنیا کا طلب گار نہیں محفل غیر میں کر حال دل ان سے نہ بیاں موقع ضبط ہے یہ موقع اظہار نہیں دوست احباب کا کیا ذکر برے وقتوں میں موت بھی تو کسی بے کس کی طرف دار نہیں وقت کے ساتھ بدلتا ہے عزائم اپنے یعنی انسان خود اپنا ہی وفادار نہیں حد سے زائد کبھی بڑھتا ہے کبھی ہوتا ہے کم دل ہے خوددار مگر درد ہی خوددار نہیں کل تو ٹوٹے ہوئے دل بیچ لئے یاروں نے آج کا وقت تو یوسف کا خریدار نہیں خار و گل حسب ضرورت ہیں چمن میں اکملؔ فطرتوں سے مجھے کچھ ان کی سروکار نہیں
be-talab ziist agarche koi dushvaar nahin
40 views
زمانے میں غم الفت کے دیوانے بہت سے ہیں شراب عیش و عشرت کے بھی مستانے بہت سے ہیں ہمارے غم سے ناواقف کئی احباب ہیں اب تک ہے یہ حیرت کہ خود اپنوں میں بیگانے بہت سے ہیں مری دیوانگی نے مجھ کو پہنچایا وہاں آخر جہاں دیوانے کم ہیں اور فرزانے بہت سے ہیں محبت کا بھی کیا اقبال ہے وحشت کی دنیا میں ہے آبادی بہت کم اور ویرانے بہت سے ہیں ذرا بڑھ کر تو دیکھ آخر یہ دستک در پہ دی کس نے دل مجبور تیرے جانے پہچانے بہت سے ہیں ہے خود بینی کی حسرت تو چلے آؤ مرے دل میں یہ وہ گوشہ ہے جس میں آئنہ خانے بہت سے ہیں پئے جاتا ہوں ساقی تیری کیف آور نگاہوں سے اگرچہ میکدے میں تیرے پیمانے بہت سے ہیں ہزاروں لاکھوں نذرانوں کا نذرانہ ہے صرف اک دل تجھے دینے کے قابل یوں تو نذرانے بہت سے ہیں ترے کوچہ میں جینا ہے ترے کوچہ میں مرنا ہے اڑانی ہی اگر ہو خاک ویرانے بہت سے ہیں چراغ معرفت کو اب نہ کرنا چاہئے روشن بہت کم خاص ہیں اور عام پروانے بہت سے ہیں حرم جانے سے پہلے ہے بتوں کا توڑنا لازم تمہارے دل میں بھی اکملؔ صنم خانے بہت سے ہیں
zamaane mein gham-e-ulfat ke divaane bahut se hain
کب ترے ذکر سے دل شاد نہیں کب مرے لب پہ تری یاد نہیں پوچھئے مجھ سے نہ حال ماضی کیا سناؤں مجھے کچھ یاد نہیں وہ نگاہوں کا تصادم سر راہ مجھ کو ہے یاد تجھے یاد نہیں عشق اور حسن حدوں میں اپنے دونوں پابند ہیں آزاد نہیں جس سے ظاہر نہ ہوں جذبات دل شعر وہ مستحق داد نہیں استقامت نہیں جس کو حاصل وہ تو دھوکہ ہے تری یاد نہیں گلشن علم و ادب میں اکملؔ حضرت قدرؔ سا استاد نہیں
kab tire zikr se dil shaad nahin
مقام آدمیت امتحاں کی منزل ہے کسی کے واسطے آساں کسی کو مشکل ہے نہیں فریب خلوص اور خلوص میں کوئی فرق بہ یک نگاہ کریں امتیاز مشکل ہے یہیں سے راستے امکان کے نکلتے ہیں ہمارا قلب مصفا اک ایسی منزل ہے مرا رفیق تلون مزاج ہے اپنا کبھی ہے برق تڑپتی ہوئی کبھی دل ہے یہی وہ دل ہے جو بے موت مارتا ہے ہمیں ہمارے سینے کے اندر ہمارا قاتل ہے ہمارے عزم پہ موقوف ہے قیا سفر چلیں تو راستہ ہے رک گئے تو منزل ہے زباں سے کیوں کہے وہ بات دل کی تو جو سنے خموش اس لئے ہر وقت تیرا سائل ہے چراغ کون جلاتا ہے چودھویں شب میں ہماری بزم کی قندیل ماہ کامل ہے سکوں نصیب بظاہر مجھے مگر اکملؔ وطن کے واسطے سینے میں دل تو بسمل ہے
maqaam-e-aadmiyyat imtihaan ki manzil hai
ایک نئی زیست لئے آج اجل آئی ہے قید سے ہم نے رہائی ہی کہاں پائی ہے اس سے ملنے کے لئے اس قدر اے دل نہ تڑپ میرا اظہار محبت مری رسوائی ہے انقلابات زمانہ کو زمانہ سمجھے ہم تو کہتے ہیں کہ وہ بھی تری انگڑائی ہے جس کے شعلوں سے ہوئی حسن کی رنگت روشن آگ ایسی مرے جذبات نے سلگائی ہے ہم نے ارمانوں کی میت کو دیا ہے کاندھا اے غم دل یہ تری حوصلہ افزائی ہے ہے یہ ڈر نوح کا طوفاں نہ سمجھ لے دنیا چادر اشک وفا ہم نے جو پھیلائی ہے آئنہ خانۂ دل میں وہ ضرور آئیں گے ان کے دل میں بھی تمنائے خود آرائی ہے ہاتھ سے ساقی کے پینا ہی پڑے گا مجھے اب میری توبہ شکنی بن کے گھٹا چھائی ہے اکملؔ انسان وہ اکمل ہے بہ فیض فطرت درد انساں سے جس انساں کی شناسائی ہے
ek nai ziist liye aaj ajal aai hai
بھروسہ پھولوں کا کانٹوں کا اعتبار نہیں تعینات کے خاکے ہیں یہ بہار نہیں میں کیسے آپ کے وعدے کا اعتبار کروں حضور جب مجھے خود اپنا اعتبار نہیں مرے شعور محبت کی جس سے ذلت ہو خدا کے فضل سے ایسا مرا شعار نہیں وہ بت کدہ ہو کہ کعبہ ہو یا کہ مے خانہ کسی جگہ بھی محبت سے مجھ کو عار نہیں اٹھانی پڑتی ہے ذلت قدم قدم پہ اسے جہاں میں جس کا صداقت اگر شعار نہیں وہ پھول خار ہے جو گر گیا نظر سے تری وہ خار گل ہے جو نظروں میں تیری خار نہیں کسی کی ساقی کے قدموں پہ ہے جبین نیاز کسی کو ساقی پہ خود اپنے اعتبار نہیں تو اپنی آنکھوں سے ساقی پلا کے بے خود کر پیوں میں جام سے ایسا تو بادہ خوار نہیں گناہ گاروں پہ ہے جب کہ رحمتوں کا نزول کہوں میں کیسے پھر اکملؔ گناہ گار نہیں
bharosa phulon kaa kaanTon kaa eatibaar nahin





