SHAWORDS
Alamdar Adam

Alamdar Adam

Alamdar Adam

Alamdar Adam

poet
13Ghazal

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

راستہ روکنا پڑا اس کا اتنا زیادہ تھا تذکرہ اس کا ایک آسان سا حوالہ ہے لفظ بہ لفظ بولنا اس کا لوگ کہتے تھے مرنے والا ہے یہ جو چہرہ ہے دوسرا اس کا دن کوئی مرحلہ نہیں ہوتا رات لمبی ہے سوچنا اس کا عشق پتھر ہے ایک بھاری سا کون سنتا ہے اب کہا اس کا

raasta roknaa paDaa us kaa

غزل · Ghazal

کوئی بھی رسم ہو کچھ ہو بہانا ہوتا تھا نہ جانے کیا تھا کہ ملنا ملانا ہوتا تھا کسی سے ملتے اگر دل سے ہو کے ملتے تھے عجیب لوگ تھے کیسا زمانہ ہوتا تھا وہ لڑ جھگڑ کے بھی اک دوسرے پہ مرتے تھے یہ سب تو تھا ہی مگر آنا جانا ہوتا تھا کوئی بھی توڑ نہیں عہد یاد ماضی کا ہزار غم تھے مگر مسکرانا ہوتا تھا یہ تربیت تھی گھروں میں ہر ایک بیٹی کو کسی بھی حال میں ہو گھر بچانا ہوتا تھا ورق ورق تھے کتابوں کے معتبر اتنے ہر ایک لفظ کو دل میں بسانا ہوتا تھا اگر تھا عشق تو اس میں بھی ایسی شدت تھی بھنور میں ایسے ہی بس کود جانا ہوتا تھا

koi bhi rasm ho kuchh ho bahaanaa hotaa thaa

غزل · Ghazal

کیسے کیسے راز چھپانے لگتی ہیں آنکھیں کیسے آنکھ چرانے لگتی ہیں خاموشی سے جب بھی ہم دو چار ہوئے آوازیں آواز لگانے لگتی ہیں عشق کا دریا ایسا دریا ہے جس میں امیدیں دن رات ٹھکانے لگتی ہیں جنگل تو جنگل تھے اب تو شہروں میں کیا کیا چیزیں آنکھ دکھانے لگتی ہیں مجھ کو باہر جاتے دیکھ کے زنداں سے زنجیریں طوفان اٹھانے لگتی ہیں

kaise kaise raaz chhupaane lagti hain

غزل · Ghazal

جسم ٹوٹا ہے جان ٹوٹی ہے عمر بھر کی تھکان ٹوٹی ہے وہ جو پھیلا تھا کل دھواں بن کر آج اس کی اٹھان ٹوٹی ہے ایسا لگتا ہے شہر ٹوٹ گیا سب سے اونچی دکان ٹوٹی ہے کوئی دھوکا تھا کھا لیا اس نے اس کے ہاتھوں زبان ٹوٹی ہے وہ بظاہر ہے مطمئن لیکن اس کے اندر کی آن ٹوٹی ہے رقص طاری ہے سارے جنگل پر کوئی تازہ مچان ٹوٹی ہے

jism TuuTaa hai jaan TuuTi hai

غزل · Ghazal

ایسے رستے پہ آ گیا ہوں میں جیسے پتھر کوئی ہے یا ہوں میں اس نے پوچھا حیات کا قصہ کیا بتاؤں گا سوچتا ہوں میں وقت گھڑیوں کے درمیاں ہے کہیں سارے محور پہ گھومتا ہوں میں مجھ سے پوچھو نہ ماجرا دل کا ریزہ ریزہ جدا جدا ہوں میں مجھ سے کہتی ہے میری خاموشی شور کرتا ہوں چیختا ہوں میں اب تو اک نام ہے زمانے میں اب تو نقشے پہ آ گیا ہوں میں میرے اندر ہزار ہا چہرے کتنا مربوط آئنہ ہوں میں عشق کرتا ہے اپنی من مانی تم سمجھتے ہو سر پھرا ہوں میں کس نے مجھ کو عدمؔ پکارا ہے کس کا لہجہ ہے دیکھتا ہوں میں

aise raste pe aa gayaa huun main

غزل · Ghazal

ایک ایسا بھی مرحلہ ہوگا اس نے سب کچھ مٹا دیا ہوگا یہ جو لڑتا ہے رات دن مجھ سے کوئی مجھ میں بھی دوسرا ہوگا وہ جو سچی تھی وہ کہانی تھی یہ جو قصہ ہے حادثہ ہوگا اس نے صدیوں کو باندھ رکھا ہے وہ جو کہتا تھا کل رہا ہوگا وہ جو ٹوٹا تھا نیند جیسا کچھ اس کا نقشہ بھی خواب سا ہوگا وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں باقی عین ممکن ہے کچھ ہوا ہوگا

ek aisaa bhi marhala hogaa

Similar Poets