taalluqaat ki garmi na e'tibaar ki dhuup
jhulas rahi hai zamaane ko intishaar ki dhuup

Ali Abbas Ummeed
Ali Abbas Ummeed
Ali Abbas Ummeed
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
ورق ہے میرے صحیفے کا آسماں کیا ہے رہا یہ چاند تو شاید تمہارا چہرا ہے جو پوچھتا تھا مری عمر اس سے کہہ دینا کسی کے پیار کے موسم کا ایک جھونکا ہے سمٹ گیا تھا اندھیروں کو دیکھ کر لیکن سحر کے ساتھ مرے راستے میں بکھرا ہے جسے بچاتا رہا تھا میں آبرو کی طرح وہ لمحہ آج مری مٹھیوں سے پھسلا ہے فضا کی شاخ پہ لفظوں کے پھول کھلنے دو جسے سکوت سمجھتے ہو زرد پتہ ہے ابھی تو میرے گریباں میں ہے تری خوشبو ترے بدن پہ ابھی میرا نام لکھا ہے ہر ایک شخص کو امید بس اسی سے ہے ہمارے شہر میں وہ ایک ہی تو رسوا ہے
varaq hai mere sahife kaa aasmaan kyaa hai
قضا کے ساتھ چلے زندگی کے بدلے میں ملی نہ چھاؤں بھی اہل عمل کو رستے میں جواب شہر خموشاں ہر ایک بستی ہے گلاب کھلتے نہیں اب کسی دریچے میں غم حیات کی پیغمبرانہ الفت کو نہ جانے کب سے بسائے ہوئے ہیں سینے میں پہنچ چکے ہیں یقیں کی حدود میں پھر بھی لرز رہے ہیں قدم ساتھ ساتھ چلنے میں شعور زیست کی الھڑ کرن نظر آئی حیات نو کے سمٹتے ہوئے دھندلکے میں تمہارے قرب کی وہ ساعت حسیں اب بھی رواں ہے ساتھ مرے یاد کے سفینے میں ہر ایک سانس سوئے کہکشاں بڑھی لیکن قدم بھٹکتے رہے عمر بھر اندھیرے میں نکل کے محبس شب رنگ سے جنوں والے اسیر ہوتے رہے عصر نو کے دھوکے میں کرے جو عزم سفر اس کو یہ خبر کر دو کہ اک پڑاؤ ہیں ہم اس طویل میلے میں بہا جو صبح بہاراں کی جستجو میں امیدؔ اسی لہو کا ہے پرتو ہر اک شگوفے میں
qazaa ke saath chale zindagi ke badle mein
فصل گل میں بھی وہی دور خزاں ہے اب کے کیسا غم وقت کے چہرے سے عیاں ہے اب کے مشعلیں ہیں نہ دھواں ہے نہ صدائے ناقوس کیا خبر قافلۂ درد کہاں ہے اب کے زندگی وقت کے در تک جسے لے آئی تھی دھندلا دھندلا اسی انساں کا نشاں ہے اب کے چارہ گر رحم نہ کر اس کی ضرورت کیا ہے میرا ہر زخم مرے دل کی زباں ہے اب کے لالہ زاروں سے تو گل رنگ لپٹ آتی تھی دل کے ویرانے میں ہر سمت دھواں ہے اب کے مجھ پہ وہ سانحہ گزرا ہے اسیران قفس اپنے سائے سے بھی وحشت کا گماں ہے اب کے سر بہ زانو تھیں تمنائیں نہ جانے کب سے چشم امیدؔ بھی خوں نابہ فشاں ہے اب کے
fasl-e-gul mein bhi vahi daur-e-khizaan hai ab ke
رات تحریروں کی اب یکسر خیالی ہو گئی لفظ جب جاگے عبارت بھی نرالی ہو گئی انگنت چہرے تھے شہر دل میں لیکن کیا کہوں وقت کا سایہ پڑا بستی یہ خالی ہو گئی جن کا اک اک لفظ تھا مژدہ نئے موسم کے نام حیف ان صفحات کی صورت بھی کالی ہو گئی دل کے محبس سے چلے تھے قافلے یادوں کے پر اک کرن پلکوں کی سولی پر سوالی ہو گئی ہم سفر شائستگی تھی رہ گزار زیست میں پھر بھی جس سے بات کی ہر بات گالی ہو گئی حادثوں کی دھند سے فن کار نے جس کو گڑھا شکر ہے اس بت کی پیشانی اجالی ہو گئی کیسے اس موسم کو دور گل کہوں امیدؔ میں رنگ سے محروم جب اک ایک ڈالی ہو گئی
raat tahriron ki ab yaksar khayaali ho gai
میں تو اک لمحۂ پریدہ رہا جانے کیوں وہ بہت کشیدہ رہا رو بہ رو ذکر نا شنیدہ رہا اٹھ گیا تو مرا قصیدہ رہا میں بھی بندہ ہی تھا خدا کی قسم یہ الگ ہے کہ برگزیدہ رہا اور تو کوئی غم نہ تھا اس کو بس مری چاہ میں تپیدہ رہا شب کی پیشانی کا میں جھومر تھا کیا ہوا گر ہوا گزیدہ رہا میرے حصے میں اس صحیفے کا اک ورق تھا وہی دریدہ رہا کوئی امید بر نہ آتی تھی زندگی بھر ستم رسیدہ رہا
main to ik lamha-e-parida rahaa
جب کبھی ترک غم دل کا سوال آتا ہے ریت پر نام تھا میرا بھی خیال آتا ہے موج طوفان اٹھی بہہ چلے خوابوں کے صدف پھر برستے ہوئے بادل پہ زوال آتا ہے اب مرے خواب کے ہم راہ وہی یادیں ہیں جن کو معلوم نہ تھا شیشے میں بال آتا ہے جب سمٹ آیا ہے خود جسم ہی پیشانی پر کیوں در دل پہ دبے پاؤں ملال آتا ہے کیا ترا ذہن بھی لمحوں کے سفر میں ہوگا تیری بارات میں رہ رہ کے خیال آتا ہے کوئی ایسا بھی ہے جو نقش بہ دیوار نہ ہو اب یہ تعمیر کی راہوں میں سوال آتا ہے گھنٹیاں وقت کی بجتی ہیں مسلسل امیدؔ فاصلے کہتے ہیں اک اور بھی سال آتا ہے
jab kabhi tark-e-gham-e-dil kaa savaal aataa hai





