"koi sahil-mizaj hai jis ne mujh samundar ka e'tibar kiya"

Ali Haidar Alvi
Ali Haidar Alvi
Ali Haidar Alvi
Sherشعر
See all 12 →koi sahil-mizaj hai jis ne
کوئی ساحل مزاج ہے جس نے مجھ سمندر کا اعتبار کیا
vo paanv rakhne lagi hai nadi ke paani men
وہ پاؤں رکھنے لگی ہے ندی کے پانی میں ہجوم گاؤں کا مشکیزے لے کے بیٹھا ہے
tire badan ki tanaben to main ne khinchi thiin
ترے بدن کی طنابیں تو میں نے کھینچی تھیں مگر یہ خیمہ کسی اور کو نصیب ہوا
dikha.i dunga qalandar magar ye dekhna hai
دکھائی دوں گا قلندر مگر یہ دیکھنا ہے کوئی تلاش مری جستجو میں کتنی ہے
mujh sa dariya simaT gaya jin men
مجھ سا دریا سمٹ گیا جن میں ان کناروں کی خیر ہو جائے
jise jise bhi lage vo pighal nahin sakta
جسے جسے بھی لگے وہ پگھل نہیں سکتا اسے کہو مری کرنوں کے سامنے آئے
Popular Sher & Shayari
24 total"vo paanv rakhne lagi hai nadi ke paani men hujum gaanv ka mashkize le ke baiTha hai"
"tire badan ki tanaben to main ne khinchi thiin magar ye khema kisi aur ko nasib hua"
"dikha.i dunga qalandar magar ye dekhna hai koi talash miri justuju men kitni hai"
"mujh sa dariya simaT gaya jin men un kinaron ki khair ho jaa.e"
"jise jise bhi lage vo pighal nahin sakta use kaho miri kirnon ke samne aa.e"
ye vo nidaa hai jo sab tak khudaa se aati hai
ki naa't fan se nahin iltijaa se aati hai
shaa'iri karbalaa hai jis par se
har payambar guzar ke aataa hai
koi saahil-mizaaj hai jis ne
mujh samundar kaa e'tibaar kiyaa
vo paanv rakhne lagi hai nadi ke paani mein
hujum gaanv kaa mashkize le ke baiThaa hai
is tajassus mein hi saahil pe khaDaa rahtaa huun
ye samundar bhi kisi aankh kaa paani to nahin
tire badan ki tanaabein to main ne khinchi thiin
magar ye khema kisi aur ko nasib huaa
Ghazalغزل
rakhe hain sehn-e-ghazal mein riyaazaton ke charaagh
رکھے ہیں صحن غزل میں ریاضتوں کے چراغ اور ان سے ماند پڑے ہیں جو طاقچوں کے چراغ گداز ذہن پہ درویش دل ہے رقص کناں ہوائے وجد کی زد پر ہیں منطقوں کے چراغ انہیں جگائے رکھا نیند کی توقع نے تو ایسے بن گئیں وہ آنکھیں رتجگوں کے چراغ جب ایک ہاشمی شہزادہ ہند سے گزرا سپرد کرتا گیا سب کو منتوں کے چراغ بہ مثل رابعہ اک آئنے نے مجھ سے کہا کہ اپنے آپ کو پہچان سلسلوں کے چراغ اسے دکھایا گیا خواب کے دریچوں سے کہ کس منڈیر پہ جلتے ہیں حیرتوں کے چراغ نظر میں رکھ لیں ردا سے ڈھکے ہوئے سر کو علم کے سایہ میں رکھ دیں محبتوں کے چراغ یہ اور بات ہے لوگو جلیں جلیں نہ جلیں میں آزماتا نہیں شب میں دوستوں کے چراغ وہ چل پڑے گا مری مورتی کی سمت علی دھوئیں سے آگ پکڑ لیں گے معبدوں کے چراغ
vo dil hi kyaa hai jo baar-e-digar jalaayaa nahin
وہ دل ہی کیا ہے جو بار دگر جلایا نہیں میں سوچتا تھا جلا لوں گا پر جلایا نہیں کسی بدن سے محبت کا انتقام لیا دیے کو آگ دکھائی مگر جلایا نہیں وہ شخص جلنے پہ آمادہ ہو چکا تھا مگر جلانے والے نے کچھ سوچ کر جلایا نہیں خوشی بھی ہے کہ تری آگ کے حصار میں ہوں ملال بھی کہ مجھے وقت پر جلایا نہیں اس اک دیے پہ توجہ کی آنچ رہتی تھی میں جانتا تھا جلے گا اگر جلایا نہیں مجھے جلا کے وہ آتش گریز سوچتا ہے ابھی تو میں نے اسے باخبر جلایا نہیں ہماری آگ میں کوئی کشش تو ہے حیدرؔ ادھر بھی آگ لگی ہے جدھر جلایا نہیں
ghazal ki lau karun mahfil ke khair-khvaahon par
غزل کی لو کروں محفل کے خیر خواہوں پر اک اسم پڑھتا ہوں بیدلؔ کے خیر خواہوں پر مہک رہا ہے ریاضت کے شاخچے پہ گلاب گزر رہا ہے گراں کھل کے خیر خواہوں پر گھنیری شب میں سمندر جلال میں آیا اڑاؤ اب ہنسی ساحل کے خیر خواہوں پر انہیں عطا ہے فن معجزہ مگر یہ رمز کھلے کھلے نہ کھلے دل کے خیر خواہوں پر یہ کون مانتا میں پرتو صحیفہ ہوں یہ انکشاف ہوا مل کے خیر خواہوں پر سلام کرتے ہیں چادر نشیں سروں کو علی درود پڑھتے ہیں محمل کے خیر خواہوں پر
kisi ke baazu hamaare liye khule aise
کسی کے بازو ہمارے لیے کھلے ایسے کہ ہم پہ عقدۂ لاہوت کھل گیا جیسے جو آنکھ منظروں سے بے نیاز ہے وہ آنکھ تجلیوں کے لیے ہوشیار ہے ویسے اے خاک بر سر من کربلا پشیمانم یہ دل گریزاں نہیں زیست آشنا شے سے میں ساقی ہوتا تو اے ساقیا تڑپ جاتا کہ کوئی رند مرا تشنہ رہ گیا کیسے علیؔ وہ شاعرہ سم جانتی ہے راگوں کا غزل کشیدتی ہے آٹھ تال کی لے سے
kis liye dekh rahi ho mujhe hairaani se
کس لیے دیکھ رہی ہو مجھے حیرانی سے غنچہ کہلاتا ہے گل چاک گریبانی سے حسن واقف ہی بہت تھا فن عریانی سے ورنہ مائل میں کہاں ہوتا تھا آسانی سے اس لیے بھی میں فقیروں کی طرح رہتا ہوں کوئی نسبت ہے مری بے سر و سامانی سے بعض اوقات تو میں عالم ہو کو خود میں کھینچ لیتا ہوں تساہل کی فراوانی سے اے خدا ان کو یہ احساس نہ ہونے دینا کون معزول ہوا مسند سلطانی سے ایک وہ دور اداسی کا عجب دور تھا جب ایک پیشانی جڑی رہتی تھی پیشانی سے اک علیؔ نام کا سائل ہے کریموں کے کریم اور دربار میں پہنچا ہے پریشانی سے
mire vujud ke kas-bal nikaal dein saahib
مرے وجود کے کس بل نکال دیں صاحب میں چاہتا ہوں کہ اذن دھمال دیں صاحب زمیں کو جب بھی ضرورت نمود و نم کی ہو ہماری آنکھ سے آنسو نکال دیں صاحب میں آگہی کے سفر پر نکلنے والا ہوں نمو کو صوت نظر کو خیال دیں صاحب اٹا ہے گرد سے آئینۂ حیات مرا جو آپ چاہیں تو اس کو اجال دیں صاحب یہ ہار جیت تو قسمت کا کھیل ہوتا ہے بس آپ عشق میں سکہ اچھال دیں صاحب اگر کسی پہ نہیں کھل رہا ہمارا سخن اسے خیال کی ہیبت میں ڈال دیں صاحب میں دست ساقیٔ کوثر کو چومتا ہوں علیؔ یہ خواب ہے تو حقیقت میں ڈھال دیں صاحب





