SHAWORDS
Ali Kaunain

Ali Kaunain

Ali Kaunain

Ali Kaunain

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

انگور کے دانوں میں نہ شہتوت میں آیا جو ذائقہ تیرے لب یاقوت میں آیا میں حسن کی وادی میں پھرا اور طرح سے میں مصر سے ہوتا ہوا بیروت میں آیا تجھ حضرت انسان کی تکمیل کی خاطر میں عالم لاہوت سے ناسوت میں آیا بس اتنا مجھے یاد ہے منظر کا نظارہ حیرت سے کوئی حالت مبہوت میں آیا یہ کس کو تری موت بھری آنکھ نے دیکھا یہ کس کا جنازہ مرے تابوت میں آیا

angur ke daanon mein na shahtut mein aayaa

6 views

غزل · Ghazal

بدلی تھی ایک دشت میں لیکن وہ چھٹ گئی پیالی مرے نصیب کی ایسے الٹ گئی ہر فرد اپنے اپنے قبیلے سے مل گیا ہر چیز اپنی اصل کی جانب پلٹ گئی قدموں میں میرے آ کے گرے قدسیان عرش پاؤں کے ساتھ شاخ ثریا لپٹ گئی بکھری تو دائروں میں بکھرتی چلی گئی سمٹی تو ایک نقطے میں دنیا سمٹ گئی اب خود کو کوستا ہوں کہ رکھتا کتاب میں رکھی ہوئی تھی جیب میں تصویر پھٹ گئی برسوں سے میری رہ میں رکاوٹ بنی رہی اک دن وہ میرے راستے سے آپ ہٹ گئی

badli thi ek dasht mein lekin vo chhaT gai

4 views

غزل · Ghazal

اس حال بے ثبات کی آئندگی رہی اگلے برس ملیں گے اگر زندگی رہی اک میہمان قتل ہوا ان کے شہر میں تا عمر کوفہ والوں کو شرمندگی رہی آخر تمام عمر زلیخا کے ہاتھ سے یوسف تری قمیض کی با فندگی رہی میرے بجھے چراغ نے روشن رکھا جہان میرے لہو سے عصر کی تابندگی رہی

is haal-e-be-sabaat ki aaindagi rahi

4 views

غزل · Ghazal

یہاں تلک کہ مرا اپنا دل نہیں ہوتا مری اداسی میں کوئی مخل نہیں ہوتا کسی کسی پہ ہی کھلتا ہے بھید مٹی کا ہر ایک شخص یہاں پا بہ گل نہیں ہوتا تمام زخموں پہ مرہم رہا اثر انداز بس ایک زخم ہے جو مندمل نہیں ہوتا ہر ایرے غیرے کی ہمسائیگی میں رہتا ہے مگر وہ میری طرف منتقل نہیں ہوتا یہ دنیا ہوتی کسی ٹھیٹ گاؤں کے مانند یہ گیس و بجلی وغیرہ کا بل نہیں ہوتا ہمارے دل میں کوئی اور دل سمائے کیا ہمارے پہلو میں اپنا ہی دل نہیں ہوتا

yahaan talak ki miraa apnaa dil nahin hotaa

4 views

غزل · Ghazal

دریا بھی کم تھا جس کے مقابل نہیں رہا قربان سب پہ ہوتا ہوا دل نہیں رہا ویسے تو ہر جگہ پہ میسر رہا مگر اب ڈھونڈنے لگا ہوں تو وہ مل نہیں رہا ہم نے بھی اس کے رد میں کیے کچھ جواب عرض وہ بھی ہماری بات کا قائل نہیں رہا اس پر عیاں یہ بات بہت دیر سے ہوئی میں اس کی اک نظر کا بھی گھائل نہیں رہا جو بات ہونی چاہیے تھی ہو نہیں رہی جو پھول کھلنا چاہیے تھا کھل نہیں رہا جب سے گرہ میں باندھا ہے مشکل کشا مدد میرا تو کوئی کام بھی مشکل نہیں رہا

dariyaa bhi kam thaa jis ke muqaabil nahin rahaa

4 views

غزل · Ghazal

یہ جو اونچا بول رہا ہے یہ کب اپنا بول رہا ہے تو آنے میں دیر کرے گا تیرا لہجہ بول رہا ہے جانے کیا کیا بولنے والا جانے کیا کیا بول رہا ہے کوئی سراپا چپ ہے ابھی تک کوئی سراپا بول رہا ہے سارے شجر خاموش کھڑے ہیں ایک پرندہ بول رہا ہے

ye jo unchaa bol rahaa hai

4 views

Similar Poets