log mohtaat hain ravayyon mein
qurbaton mein bhi faasla hai yahaan

Ali Zubair
Ali Zubair
Ali Zubair
Popular Shayari
2 totaldil kaa chhunaa thaa ki jazbaat hue patthar ke
aisaa lagtaa hai ki ham shahr-e-tilismaat mein hain
Ghazalغزل
کس طرح جاؤں کہ یہ آئے ہوئے رات میں ہیں یہ اندھیرے نہیں ہیں سائے مری گھات میں ہیں ملتا رہتا ہوں میں ان سے تو یہ مل لیتے ہیں یار اب دل میں نہیں رہتے ملاقات میں ہیں یہ تو ناکام اثاثہ ہے سمندر کے پاس کچھ غضب ناک سی لہریں مرے جذبات میں ہیں یہ دھوئیں میں جو نظر آتے ہیں سرسبز یہاں یہ مکاں شہر میں ہو کر بھی مضافات میں ہیں دل کا چھونا تھا کہ جذبات ہوئے پتھر کے ایسا لگتا ہے کہ ہم شہر طلسمات میں ہیں میں ہی تکرار ہوں اور میں ہی مکرر ہوں یہاں وقت پر چلتے ہوئے دن مری اوقات میں ہیں
kis tarah jaaun ki ye aae hue raat mein hain
مصلحت کا کوئی خدا ہے یہاں کام جو سب کے کر رہا ہے یہاں اور ملتا بھی کیا فقیروں سے صرف اک حوصلہ ملا ہے یہاں لوگ محتاط ہیں رویوں میں قربتوں میں بھی فاصلہ ہے یہاں عادتا پوچھنے لگے ہیں لوگ کیا کوئی حادثہ ہوا ہے یہاں علم تو دفن ہو چکا کب کا کچھ کتابوں کا سلسلہ ہے یہاں روشنی منتقل نہیں کی گئی بس دیے سے دیا جلا ہے یہاں
maslahat kaa koi khudaa hai yahaan





