sunaa thaa ham ne ki aa rahe ho tum apne ghar se nikal paDe ho
tumhaare aane se pahle pahle hi raaste ko sajaa diyaa hai

Almas Shabi
Almas Shabi
Almas Shabi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
جب وہ مجھ سے کلام کرتا ہے دھڑکنوں میں قیام کرتا ہے لاکھ تجھ سے ہے اختلاف مگر دل ترا احترام کرتا ہے دن کہیں بھی گزار لے یہ دل تیرے کوچے میں شام کرتا ہے ہاتھ تھاما نہ حال ہی پوچھا یوں بھی کوئی سلام کرتا ہے وہ فسوں کار اس قدر ہے شبیؔ بیٹھے بیٹھے غلام کرتا ہے
jab vo mujh se kalaam kartaa hai
تجھ کو آنا پڑا یہیں تو پھر نہ ملا ہم سا گر حسیں تو پھر کون تیرا خیال رکھے گا بعد میرے ہوا حزیں تو پھر جس پہ تجھ کو غرور ہے وہ دل کھو گیا گر یہیں کہیں تو پھر آ نہیں سکتا کوئی تجھ کو یاد ٹوٹ جائے ترا یقیں تو پھر دل کشادہ دلی پہ نازاں ہے نہ ہوا وہ اگر مکیں تو پھر سوچتی ہوں کہ کس لیے میں بھی جب یہ طے ہے کہ تو نہیں تو پھر
tujh ko aanaa paDaa yahin to phir
سوال کیسے کروں میں اس سے جواب ہے جو مری دعا کا کرے گا کیسے وہ بے وفائی مجھے یقیں ہے مری وفا کا نہ اس سے ملنے کی ہے تمنا نہ اس کو پانے کی آرزو ہے دیا محبت کا جل رہا ہے جو جی میں آئے کرے ہوا کا جو بادلوں پر میں چل رہی ہوں تو آسمانوں کو چھو رہی ہوں کہ ساتھ میرے ہی چل رہا ہے وہ ہاتھ تھامے ہوئے گھٹا کا میں اس کے شعروں میں ڈھل رہی ہوں وہ میرا لہجہ بدل رہا ہے میں چپ رہوں اور کہوں نہ کچھ بھی یہی تقاضہ تو ہے حیا کا بھلانے بیٹھی ہوں ساری دنیا دھڑک رہا ہے وہ میرے دل میں جو دوریاں ہیں سمندروں کی وہ فاصلہ ہے بس اک صدا کا
savaal kaise karun main is se javaab hai jo miri duaa kaa
جانے کس موڑ پر میں نے دیکھا نہیں مڑ گیا ہم سفر میں نے دیکھا نہیں تم کو معلوم ہو تو بتانا مجھے رہ گئی میں کدھر میں نے دیکھا نہیں وقت کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا اسے وہ گیا پھر کدھر میں نے دیکھا نہیں لے کے آیا تھا میرے لیے روشنی جب گیا چھوڑ کر میں نے دیکھا نہیں مل ہی جاتی کبھی کوئی منزل مجھے اک قدم لوٹ کر میں نے دیکھا نہیں تم گئے ساتھ اس کے جدھر بھی کہیں تم سمجھنا ادھر میں نے دیکھا نہیں پیار ہے کس قدر اس کو مجھ سے شبیؔ چوڑیاں توڑ کر میں نے دیکھا نہیں
jaane kis moD par main ne dekhaa nahin
اس جبیں پر جو بل پڑے شاید یہ کلیجہ نکل پڑے شاید سانس رکنے لگی ہے سینے میں تم کہو تو یہ چل پڑے شاید ضبط سے لال ہو گئیں آنکھیں ایک چشمہ ابل پڑے شاید ایک بجھتا دیا محبت کا تیرے ملنے سے جل پڑے شاید بات اب جو تمہیں بتانی ہے دل تمہارا اچھل پڑے شاید آنسوؤں سے دھلی ہوئی آنکھیں دیکھ کر وہ مچل پڑے شاید بیٹھ کر بات کیوں نہیں کرتے کوئی صورت نکل پڑے شاید بے رخی سے نہیں کرو رخصت راستے میں اجل پڑے شاید
us jabin par jo bal paDe shaayad
دیا منڈیر پہ دل کی جلا رہی ہوں میں ہوا مزاج کو واپس بلا رہی ہوں میں مجھے کسی کے بھی جانے سے دکھ نہیں ہوتا نہ جانے کس لیے آنسو بہا رہی ہوں میں یہ تیری مرضی کہ آئے نہ آئے واپس تو نظام دل کو تو دل سے چلا رہی ہوں میں اسی چراغ سے ہر سمت روشنی ہوگی جلا ہے دل تو دیے سب بجھا رہی ہوں میں جو ہاتھ آج مجھے تھامتے نہیں ہیں شبیؔ گئے دنوں میں تو ان کی دعا رہی ہوں میں
diyaa munDer pe dil ki jalaa rahi huun main





