SHAWORDS
Amit Bajaj

Amit Bajaj

Amit Bajaj

Amit Bajaj

poet
24Ghazal

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

گفتگو ایک پل رکی بھی نہیں بات کرنی تھی جو ہوئی بھی نہیں ایسے دیکھو تو سب ادھورا ہے ویسے دیکھو تو کچھ کمی بھی نہیں ہم بجھائیں گے ہم بجھائیں گے آگ جو ٹھیک سے لگی بھی نہیں مجھ سے اک شکوہ ہے زمانے کو چال پوچھی بھی اور چلی بھی نہیں ربط ٹوٹا تو ٹوٹ جانے دیا جسم کے ساتھ روح تھی بھی نہیں ہم اور آپ اک غزل کا چربہ ہیں وہ غزل جو ابھی ہوئی بھی نہیں

guftugu ek pal ruki bhi nahin

غزل · Ghazal

دکھائی ایک سے دیں گے سو کرنا سن کے الگ وہ اپنی دھن کے الگ ہیں ہم اپنی دھن کے الگ ہم ایسے لوگ قبائیں ہیں بڑھتے بچوں کی کہ جن کو رکھ دیا جاتا ہے پہلے بن کے الگ اسی لیے تو جدائی بھی خوش گوار رہی بہت سے غم تھے ہمارے الگ اور ان کے الگ یہ ناصحوں کو میں اب فارسی میں سمجھاؤں عذاب کن کے الگ ہوتے ہیں مکن کے الگ انہیں کے ساتھ میں کرتا ہوں اب جگل بندی کچھ ایک لوگ جو ہوتے ہیں اپنی دھن کے الگ گلوں کو روندنے والو انہیں بھی یاد کرو جو لوگ کر گئے تلووں سے خار چن کے الگ دل اک پرندہ ہے خوراک اس کی ایک سی رکھ وگرنہ بارہا مانگے گا دانے دنکے الگ جو گزری دانے پہ دانہ ہی جانتا ہے امتؔ بھنا ہے ہو کے الگ یا ہوا ہے بھن کے الگ

dikhaai ek se deinge so karnaa sun ke alag

غزل · Ghazal

ڈرا ڈرا کے مرے سارے ڈر نکالتا ہے عجب علاج مرا چارہ گر نکالتا ہے ادھورے پن کی مکمل دلیل ہوں لیکن کسر نکالنے والا کسر نکالتا ہے ترا خدا بھی ہو تجھ جیسا اور دے تجھ کو درخت ایسا جو گن کر ثمر نکالتا ہے سروں پہ ہاتھ ذہانت بڑھا نہیں سکتا یہ اور بات کہ اندر کا ڈر نکالتا ہے کسی کی یاد بھی اب تا سحر نہیں رہتی خیال ہے کہ پہر دو پہر نکالتا ہے فضا کوئی بھی ہو فطرت بدل نہیں سکتی قفس میں قید پرندہ بھی پر نکالتا ہے وہ غیر موسمی برسات یاد ہے تم کو اور ایک شخص جو کھڑکی سے سر نکالتا ہے امتؔ وہ کار سیاست کے مسئلے یہ ہجوم جو حل نکال نہ پائے خبر نکالتا ہے

daraa daraa ke mire saare Dar nikaaltaa hai

غزل · Ghazal

جہان راس مجھے آ گیا جہان کو میں سو موڑتا ہوں اب اپنی طرف کمان کو میں مری زمین کو جیسے اسی نے چھینا ہو کبھی کبھی تو یوں تکتا ہوں آسمان کو میں یقین کر کہ تری بے رخی سے پہلے بھی کبھی بھرا نہیں رکھتا تھا پھول دان کو میں ذرا سی دھوپ ضروری ہے ہر کسی کے لیے یہی بتا نہیں پاتا ہوں سائبان کو میں اس ایک لمحے مجھے یاد کیوں نہیں رہتا ادھورا چھوڑ بھی سکتا ہوں امتحان کو میں خدا کرے کوئی کردار ایسا مل جائے کہ داستان مجھے کھینچے داستان کو میں امت بجاجؔ یہ فعلن مفاعلن کیا ہے نہیں سمجھتا ہنر ایسی کھینچ تان کو میں

jahaan raas mujhe aa gayaa jahaan ko main

غزل · Ghazal

پھول اس کا استعارا تھا کبھی رنگ و بو کو اک سہارا تھا کبھی بارشیں کہتی ہیں بیتا کل مرا یہ سمندر پارہ پارہ تھا کبھی وقت نے کی اہمیت کم وقت کی یہ ذرا سا کتنا سارا تھا کبھی چار دن بھرپور جی اور پھر بتا کیا گزارے پر گزارا تھا کبھی اب جو آیا ہے میں اس سے کیا کہوں میں نے کس کس کو پکارا تھا کبھی آج بھی جیتا ہوں بس یہ سوچ کر اس نے سب کچھ مجھ پہ ہارا تھا کبھی چھٹ گیا سب کچھ پر اتنا یاد ہے کیا نہیں تھا کیا ہمارا تھا کبھی کم نظر ہر دور میں کہتے ہیں یہ کیا نظر تھی کیا نظارا تھا کبھی آسرا پاتا رہا جتنا امتؔ کیا تو اتنا بے سہارا تھا کبھی

phuul us kaa istiaaraa thaa kabhi

غزل · Ghazal

لیے جا بس اپنی نظر جانے والے نہ کر راہبر راہبر جانے والے قیامت کا ہوگا وہ منظر جہاں تک پہنچتے ہیں سب بے نظر جانے والے یہ کیا مجھ میں ایسا نظر آ گیا ہے کدھر آ رہے ہیں کدھر جانے والے ٹھہر کر چلیں گے سنا ہے یہاں سے گزرتے نہیں سب گزر جانے والے رہی ہم سفر اک صدائے مسلسل ٹھہر جانے والے ٹھہر جانے والے محبت کا آغاز ہے چوٹ کھا لے ملیں گے ابھی زخم بھر جانے والے امتؔ ایسے در سے گزرنا ہے بہتر جہاں در گزر ہوں ٹھہر جانے والے

liye jaa bas apni nazar jaane vaale

Similar Poets