Anamta Ali
Anamta Ali
Anamta Ali
Ghazalغزل
رونے کا سلیقہ مجھے اسلاف نے بخشا یہ ماتمی آنکھیں مجھے ورثے میں ملی ہیں یہ کرب کی دنیا کا ہے نقشہ اسے دیکھو سب پرکھیں ہماری اسی شجرے میں ملی ہیں میں گھور کے دیکھوں تو برا مانتا ہے وہ کیسے کہوں یہ تلخیاں ترکے میں ملی ہیں خوابوں نے بھی مرنے کی ہی ٹھانی ہے بالآخر دو چار کی لاشیں مرے کمرے میں ملی ہیں ٹوٹے ہوئے رستوں پہ ترا ہاتھ پکڑ لوں یہ خواہشیں بس عشق کے بدلے میں ملی ہیں جو لڑکیاں جیتی تھیں محبت کے سہارے دو گز کی ہی قبریں انہیں تحفے میں ملی ہیں
rone kaa saliqa mujhe aslaaf ne bakhshaa
گویا کہ چھنی پیروں کے نیچے کی زمیں ہے کیا پاس ترے جھوٹی تسلی بھی نہیں ہے ہم نے تو اسے کر ہی دیا دل سے بہت دور پر اس کا خیال اس کی محبت تو یہیں ہے معلوم ہے یا رب ہے تو شہ رگ سے قریں تر وہ شخص مگر جو مری دھڑکن کے قریں ہے ہیں آپ ہی کیوں حالت افسوس کی جا پر کیا ہوگی انعمؔ آپ کی جب اپنی نہیں ہے
goyaa ki chhini pairon ke niche ki zamin hai
درون دل جو چراغ جلتے رہے مسلسل ہیں ان سے آنکھوں میں نور کے سلسلے مسلسل کہیں پہ مرتے ہیں بھوک سے کچھ یتیم بچے کہیں پہ کاسے ہیں سائلوں کے بھرے مسلسل مری اداسی پہ اس طرح تو اداس مت ہو کہ زخم رہتے نہیں ہیں اکثر ہرے مسلسل وہ خواب آنکھوں میں بھر سکے یا انہیں گنوا دے وہ اپنے ڈر پہ تو بات کھل کر کرے مسلسل کبھی خوشی میں بھی اشک آنکھوں میں آ گئے اور کہیں اداسی میں مسکرانا پڑے مسلسل یہ اس کی ضد میں انعمتا نیندوں سے لڑ پڑی تھیں ہم اپنی آنکھوں سے دیر تک شب لڑے مسلسل
darun-e-dil jo charaagh jalte rahe musalsal
جب ترے ہجر کے آثار نظر آتے ہیں مجھ کو پھولوں میں بھی پھر خار نظر آتے ہیں موند لیں اس لیے بربادی پہ آنکھیں میں نے میرے اپنے ہی ذمے دار نظر آتے ہیں یا وہی بغض وہی کینہ وہی نفرت ہے یا محبت کے بھی آثار نظر آتے ہیں میں ہواؤں کے تعاقب میں بھٹک جاتی ہوں پھر اشارے مجھے بیکار نظر آتے ہیں میں بلندی سے گرائی گئی جس محنت سے اس میں اپنوں کے بھی کردار نظر آتے ہیں شش جہت دکھ کے ہیں انبار ہی پوشیدہ یہاں جس قدر ہیں پس دیوار نظر آتے ہیں آنکھ لگتی ہے تو میں خوف سے اٹھ جاتی ہوں خواب میں قافلے خوں خار نظر آتے ہیں
jab tire hijr ke aasaar nazar aate hain
ہماری موت کا واحد ہے یہ گواہ بدن نہیں ہے روح پہ کوئی بھی زخم گاہ بدن ہماری آنکھ سے ظاہر ہو روشنی کیسے ہمارے سامنے رکھا گیا سیاہ بدن جو گونگے لوگوں کی بستی میں کوئی نام لیا سنائی دینے لگے مجھ کو بے پناہ بدن ہماری روح پہ نشتر چبھے اداسی کے ہزار آہوں پہ ماتم کدہ ہے آہ بدن اسے مرے ہوئے گھنٹے گزر گئے کتنے اب آگے کیا ہے نہیں ہے اگر تباہ بدن میں اس پہ نقش بناؤں گی اپنی وحشت کے نئی نکالوں گی تجھ سے میں کوئی راہ بدن میں اندھے لوگوں میں شامل ہوں ان کے جیسی ہوں سو ایک شرط ہی رکھی گئی نباہ بدن
hamaari maut kaa vaahid hai ye gavaah badan
آتے ہیں کتنے خواب ترے روز و شب مجھے وحشت سی ہونے لگتی ہے کوئی عجب مجھے تم کو میں گر قبول ہوں ایسے ہی ٹھیک ہوں آتا نہیں سنورنے کا کوئی بھی ڈھب مجھے ظالم ہے بادشہ کہ ہے سب پہ فرات بند محسوس ہو رہے ہیں سبھی سوکھے لب مجھے بس کچھ دنوں کی بات ہے میں لوٹ آؤں گی ہرگز صدا نہ دے کوئی پیچھے سے اب مجھے یہ دیکھنا ہے کون مرا اس جہان میں یعقوب کی تو آنکھیں عطا کر اے رب مجھے وہ شخص جب کہ اب تو مری دسترس میں ہے کرنی نہیں ہے اور کسی کی طلب مجھے باندی کی طرح قید ہوں اس کے حضور میں وہ بادشہ ہے اور ملے گا ہی کب مجھے
aate hain kitne khvaab tire roz-o-shab mujhe





