SHAWORDS
Ananya Rai Parashar

Ananya Rai Parashar

Ananya Rai Parashar

Ananya Rai Parashar

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

jo tire aastaan ke maare hain

جو ترے آستاں کے مارے ہیں اصل میں کہکشاں کے مارے ہیں لوگ ملتے ہیں پھول کھلتے ہیں اور ہم تم خزاں کے مارے ہیں کچھ ہیں جن کو زمیں نے توڑا ہے اور کچھ آسماں کے مارے ہیں بات اہل زباں کی مت کریے یہ تو سارے زباں کے مارے ہیں غم ہے ہم کو بھی بے وفائی کا ہم بھی اک مہرباں کے مارے ہیں ہیر رانجھا کہ لیلیٰ مجنوں ہوں یہ تو بس داستاں کے مارے ہیں اب تو اتنا یقین ہے ہم کو ہم اننیاؔ کے مارے ہیں

غزل · Ghazal

duur tum se rahun ki paas rahun

دور تم سے رہوں کہ پاس رہوں میری قسمت ہے میں اداس رہوں یہ ضروری نہیں کے ہر لمحہ میں ترے جسم کا لباس رہوں کوئی منظر ہو کوئی موسم ہو عمر بھر بن کے تیری آس رہوں یہ تمنا نہیں ہے وحشت ہے میں سمندر کے لب کی پیاس رہوں کوئی میرے بنا تڑپتا رہے میں اننیاؔ کسی کی خاص رہوں

غزل · Ghazal

us ne jab bhi kabhi mohabbat ki

اس نے جب بھی کبھی محبت کی جیسے مجھ پے کوئی عنایت کی ڈوب جاتے ہیں اہل دل اس میں میں وہی جھیل ہوں محبت کی پھر مرے روبرو وہ آیا ہے پھر خبر ہو گئی قیامت کی ہونٹ پر ہونٹ رکھ دیے میں نے کیا ضرورت ہے اب اجازت کی جب تیرا لمس ہو گیا حاصل کس کو پرواہ کوئی جنت کی ایسے منزل نہیں ملی مجھ کو میں نے پانے کو خوب محنت کی غم زدوں نے سجائی تھی محفل اور میں نے وہاں نظامت کی

غزل · Ghazal

bhar ke zulmaat dil dukhaaegi

بھر کے ظلمات دل دکھائے گی رات بھر رات دل دکھائے گی میری اوقات پوچھنے والوں میری اوقات دل دکھائے گی اتنی دیوانگی بھی ٹھیک نہیں حسن کی ذات دل دکھائے گی اب کے برسات تم نہیں ہو گے اب کے برسات دل دکھائے گی وصل کی رات یاد آئے گی جب ہجر کی رات دل دکھائے گی ہائے گزرے گی میرے کوچہ سے اس کی بارات دل دکھائے گی آخری بار ہم ملیں گے اور یہ ملاقات دل دکھائے گی ایسا سوچا نہ تھا اننیاؔ کبھی اس کی اب بات دل دکھائے گی

غزل · Ghazal

dil dhaDaktaa hai par vo baat nahin

دل دھڑکتا ہے پر وہ بات نہیں دن نہیں دن سا رات رات نہیں ایسا لگتا ہے آپ کے بن اب سانس حاصل ہے پر حیات نہیں مسکراتے ہوئے چلے آؤ چاہیئے مجھ کو کائنات نہیں وہ مراسم بھی کیا مراسم ہیں جس مراسم میں التفات نہیں سب کا بس ایک رب وہی شہرت اب کسی آدمی کی ذات نہیں اک خوشی ہے مجھے اننیاؔ کہیں دل دکھانے میں میرا ہاتھ نہیں

غزل · Ghazal

falak aur bhi hain zamin aur bhi hain

فلک اور بھی ہیں زمیں اور بھی ہیں خدا کے حسیں جانشیں اور بھی ہیں مرے ہی لیے کیوں لکھو شاعری تم جہاں میں کئی آفریں اور بھی ہیں مجھے رشک کیوں ہے کہانی پہ اپنے محبت کے قصے حسیں اور بھی ہیں یہ سورج یہ تارے یہ چاند اور دنیا یہاں ہیں مگر کیا کہیں اور بھی ہیں اننیاؔ ابھی سانپ نکلے نہیں سب ابھی باقی کچھ آستیں اور بھی ہیں

Similar Poets