
Anil Sharma Tanha
Anil Sharma Tanha
Anil Sharma Tanha
Ghazalغزل
bahut sukun thaa gham thaa mire fasaane mein
بہت سکون تھا غم تھا مرے فسانے میں یہ شیشہ ٹوٹ گیا دیکھنے دکھانے میں یہ سچ ہمارے سہارے سے چل نہیں پایا تبھی تو ٹوٹ گیا جھوٹ اک بہانے میں بہت غرور تھا ان بجلیوں کو اپنے پر شکست کھا گئی پھر بھی اس آشیانے میں ہمارے دور میں انسانیت بھی بے بس ہے بہت سکون ہے پھر بھی شراب خانے میں بہاریں ڈھونڈھ رہی تھیں ٹھکانے گلشن میں جٹی تھیں تتلیاں ماحول اک بنانے میں وہ بات جس کا زمانہ میں کوئی ذکر نہیں وہ بات آ گئی کیسے مرے فسانے میں ہمارے بعد ہمیں ڈھونڈھنے چلی دنیا ہمارا کوئی بدل ہی نہیں زمانے میں ہمارے سچ کو کوئی راستہ نہیں دیتا یہ پھٹ نہ جائے کہیں اوڑھنے بچھانے میں چلو سکون سے بد نامیاں ہی طے کر لیں اسی ہجوم کے تم بھی تو ہو نشانے میں
kidhar hai meri taraf muskuraa ke dekh zaraa
کدھر ہے میری طرف مسکرا کے دیکھ ذرا کبھی نظر سے نظر کو ملا کے دیکھ ذرا تمام عمر یہ تاریکیاں رہیں گی اب بجھا چراغ ہوں مجھ کو جلا کے دیکھ ذرا تجھے بھی پیاس کی قیمت چلے گی شیخ پتہ بہت ثواب ہے ان کو پلا کے دیکھ ذرا تمہارے دل کی چبھن بھی ضرور کم ہوگی کسی کا غم کبھی دل میں دبا کے دیکھ ذرا عجب یہ درد کا رشتہ ہے ساری دنیا سے تو خود کو تنہا کبھی تو لٹا کے دیکھ ذرا
saath ab un ke shaam-o-sahar jaaeinge
ساتھ اب ان کے شام و سحر جائیں گے وہ اکیلے نہیں اپنے گھر جائیں گے اب تو ڈسنے لگے ہیں اندھیرے مجھے روشنی میں جو نکلے تو مر جائیں گے اشک یوں تو کبھی میرے بہتے نہیں دریا دل کے سبھی میرے بھر جائیں گے تجھ کو تو عاشقی کا سہارا بھی ہے جن کا کچھ بھی نہیں وہ بکھر جائیں گے آپ تو آج تک اتنی دہشت میں ہیں خود بچیں گے تبھی تو ادھر جائیں گے آئنہ ان کو دکھتا نہیں اب کہیں عکس سے اپنے خود وہ سنور جائیں گے موت کا ڈر کہاں موت سے کم ہے اب آپ زندہ ہی کب ہیں جو مر جائیں گے ان کے جانے کا منظر تماشہ نہیں سوچنے سے مرے کیا ٹھہر جائیں گے تنہا ہو کر بھی میں ایک لشکر میں ہوں جن کا کوئی نہیں وہ تو ڈر جائیں گے
zaraa main apni palkon ko bhigo luun
ذرا میں اپنی پلکوں کو بھگو لوں اگر ملتے ہو تو میں کچھ تو سو لوں کمی کوشش میں اب تک کی نہیں ہے ذرا کھل جاؤں تو پر اپنے تولوں سلیقہ مجھ کو اتنا بھی نہیں ہے بتاؤ تم کہ میں اب کس سے بولوں سیاست نے دئے ہیں زخم اتنے میں تنہاؔ ہوں مگر ان کو تو ڈھو لوں
ruuh ke us chhor tak honTon kaa ye til jaaegaa
روح کے اس چھور تک ہونٹوں کا یہ تل جائے گا ساتھ چل کر اب مرے میرا ہی قاتل جائے گا آ کے دن میں کیا کرو گے رات میں آنا کبھی تیرگی سے آپ کو میرا پتہ مل جائے گا جب سے وہ نکلا نہیں پورا چمن ہے منتظر میں گر اس کے ساتھ ہوں پورا چمن کھل جائے گا مجھ کو سمجھاتے رہیں گے لوگ آخر کب تلک کیسے بچ کر میں رہوں ورنہ تو یہ دل جائے گا دوستوں نے کس لئے مجھ پر کیا اتنا کرم اتنا گہرا گھاؤ ہے کیا خود بخود سل جائے گا
kinaaraa bhi jis se kinaaraa kare hai
کنارا بھی جس سے کنارا کرے ہے وہ ہنس ہنس کے سب غم گوارہ کرے ہے ترا عکس میں نے زمیں پہ بنایا وہ تصویر مجھ کو پکارا کرے ہے وہ اس کا تبسم وہ میری شکایت وہ احساں یہ کب کا اتارا کرے ہے یہاں آرزو کی ہی محفل سجی ہے یہاں کون کس کو گوارہ کرے ہے مجھے چاہے جتنا حقارت سے دیکھو تغافل تو اور آشکارا کرے ہے کبھی میری الفت پکارے ہے مجھ کو کبھی مجھ کو آ کے اشارہ کرے ہے





