SHAWORDS
A

Anjum Niyazi

Anjum Niyazi

Anjum Niyazi

poet
1Sher
1Shayari
7Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

zindagi apni qarine se basar hoti nahin

زندگی اپنی قرینے سے بسر ہوتی نہیں مختصر کرتا ہوں لیکن مختصر ہوتی نہیں دے گیا تاریکیاں اتنی وہ اہل شہر کو سر پہ سورج آ گیا پھر بھی سحر ہوتی نہیں پہلے اپنے ساتھ چلتے تھے ستارے شوق سے اب تو اپنی روشنی بھی ہم سفر ہوتی نہیں اس طرح چپ چاپ میرے پاس آ جاتے ہیں لوگ گھر کے دروازے کی چوکھٹ کو خبر ہوتی نہیں

غزل · Ghazal

tiri mahfil mein dasht-e-be-amaan le kar nahin aaya

تری محفل میں دشت بے اماں لے کر نہیں آیا میں اپنے گہرے سناٹے یہاں لے کر نہیں آیا مجھے معلوم تھا رستے میں گھر پڑتا ہے سورج کا مگر پھر بھی میں سر پر سائباں لے کر نہیں آیا نہ جانے کتنی صدیوں تک رہے کتنی زبانوں پر زمیں پر میں ادھوری داستاں لے کر نہیں آیا وہیں پر چھوڑ آیا ہوں تری پہچان کا لمحہ ترے گھر سے تری پرچھائیاں لے کر نہیں آیا مجھے دو گز زمیں حاصل نہیں بستر بچھانے کو اسے شکوہ کہ میں کیوں آسماں لے کر نہیں آیا وہی اونچے شجر سایہ نہیں دیتے مجھے انجمؔ میں جن کی آس پر کون و مکاں لے کر نہیں آیا

غزل · Ghazal

kis ne di mujh ko sadaa kaun-o-makaan ke us taraf

کس نے دی مجھ کو صدا کون و مکاں کے اس طرف منتظر ہے کون میرا آسماں کے اس طرف جانے کب دونوں ملیں آپس میں سایوں کی طرح دو مسافر چل رہے ہیں کہکشاں کے اس طرف طے کیا میں نے سفر جلدی کہ میں جلدی میں تھا رہ گیا سایہ مرا دونوں جہاں کے اس طرف اک نہ اک سر پر رہے گا جتنا میں اونچا گیا آسماں کچھ اور بھی ہیں آسماں کے اس طرف پار اتروں گا تو وہ مجھ کو اٹھا لے جائے گا ایک صحرا خشک بحر بیکراں کے اس طرف کوئی سرگوشی نما آواز بھی آتی نہیں کتنی گہری خامشی ہے لا مکاں کے اس طرف

غزل · Ghazal

miri aavaaz sun kar zindagi bedaar ho jaise

مری آواز سن کر زندگی بیدار ہو جیسے تری آواز کا سایہ افق کے پار ہو جیسے طلوع صبح کا منظر مرے اندر ہے خوابیدہ مرے اندر زمانوں کی حسیں تکرار ہو جیسے میں ہر دیوار کے دونوں طرف یوں دیکھ لیتا ہوں مرا ہی دوسرا حصہ پس دیوار ہو جیسے شجر کی ٹہنی ٹہنی میں ہیں کتنے راز پوشیدہ ہر اک جنگل کا ہر اک پیڑ پراسرار ہو جیسے ابھی ہم گھومتے پھرتے ہیں بے سمتی کے جنگل میں ہمارا زندگی بھر کا سفر بے کار ہو جیسے میں گہرے پانیوں میں ڈوبتا انجمؔ جزیرہ ہوں مری دنیا پرندوں کی حسیں چہکار ہو جیسے

غزل · Ghazal

main apni zaat se baahar nikalnaa chaahtaa huun

میں اپنی ذات سے باہر نکلنا چاہتا ہوں میں دریا کی طرح رستہ بدلنا چاہتا ہوں گھنی بے نور خاموشی کے جنگل سے نکل کر چمکنے والی آوازوں میں ڈھلنا چاہتا ہوں میں جس پتھر کے اندر قید ہوں چشمے کی صورت اسی پتھر کے سینے سے ابلنا چاہتا ہوں نہ جانے کتنے گرد آلود انسانوں کی خاطر زمیں پر آسماں کا رنگ ملنا چاہتا ہوں جہاں محسوس ہو مجھ کو تری سانسوں کی خوشبو انہی مہکے ہوئے رستوں پہ چلنا چاہتا ہوں تعفن بڑھ گیا چاروں طرف حد سے زیادہ میں اپنے دل کی خوشبوئیں اگلنا چاہتا ہوں

غزل · Ghazal

har ik lamha mujhe Thahraa huaa mahsus hotaa hai

ہر اک لمحہ مجھے ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے سارا جہاں اک رتجگا محسوس ہوتا ہے سنائی کچھ نہیں دیتا دکھائی کچھ نہیں دیتا مگر چاروں طرف اک جمگھٹا محسوس ہوتا ہے ترا ہی نام لیتا ہوں تو پھر مجھ کو وجود اپنا ہواؤں پر لکھا حرف دعا محسوس ہوتا ہے مری پلکوں پہ شبنم گر رہی ہے نیند کی لیکن مجھے ہر ایک سایہ جاگتا محسوس ہوتا ہے ہزاروں سال پہلے کی شناسائی نہیں بھولا مجھے ہر آدمی دیکھا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے اپنا ہی قد لگتا ہے کیوں اونچا پہاڑوں سے مجھے اپنا یہ سایہ کیوں بڑا محسوس ہوتا ہے نہ جانے کون سی منزل پہ آ ٹھہرا ہوں میں انجمؔ جہاں ہر ایک سناٹا صدا محسوس ہوتا ہے

Similar Poets