"ye alamat kaun si hai kis se puchhun ai hava pahli rut men har shajar par zard patta dekhna"

Ansar Ali Ansar
Ansar Ali Ansar
Ansar Ali Ansar
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalye alaamat kaun si hai kis se puchhun ai havaa
pahli rut mein har shajar par zard pattaa dekhnaa
Ghazalغزل
kaun bigaaDe bante kaam
کون بگاڑے بنتے کام کس پہ دھریں انصرؔ الزام برف چلی دریا کی سمت دھوپ کا پھر آیا پیغام دیکھتی رہ گئی جلتی آنکھ دھواں دھواں گھر اجڑے بام لہو دیوں کو رزق مآل میرے گھر کب آئی شام منزل کا پھر ذکر چھڑا سوچیں الجھیں گام بہ گام سوچ کہاں تک جائے گی ایک معمہ ہے انجام وقت نے جس دم تھاما ہاتھ انصرؔ سنگ بھی ہو گئے رام کس نے کس کو تھام لیا کس پہ دھریں انصرؔ الزام
abhi tak naqsh-e-paa hain rahguzar mein
ابھی تک نقش پا ہیں رہ گزر میں کئی صدیاں گزاری ہیں سفر میں کرن ٹھہرے ہوئے پانی میں اتری دیے جلنے لگے شیشے کے گھر میں مری بینائی ہے ظلمت گزیدہ مجھے رکھو اجالوں کے نگر میں جسے چاہا اسے پہلو میں رکھا بڑی گنجائشیں دیکھیں نظر میں نتیجہ زندگی کے بعد نکلا صدف کی آبرو چمکی گہر میں نہ کیجے سنگ باری کا ارادہ کوئی سودا نہیں ہے میرے سر میں
ban gayaa ik khabar
بن گیا اک خبر آئنہ ٹوٹ کر کاڑھتے رہ گئے پھول دست ہنر قید تھے قید ہیں اڑ گئے بال و پر ایک آواز تھا راہ کا ہر شجر ہم سے آباد تھے رتجگوں کے نگر ہم تھے اس شہر میں صبح نو کی خبر کیا خبر لائی تھی ملگجی سی سحر اب تو ہم لوگ ہیں اور دیوار و در
be-rabt mausamon mein samoe gae the log
بے ربط موسموں میں سموئے گئے تھے لوگ کیا کہیے کس لڑی میں پروئے گئے تھے لوگ بے نام راستوں کے سفر کا سوال تھا نفرت کی ندیوں میں ڈبوئے گئے تھے لوگ بینائیاں سمٹ کے پلٹتی تھیں اپنی سمت اپنی انا کے دشت میں کھوئے گئے تھے لوگ یوں تو سفر میں چاند ستارے تھے ہم رکاب پھر بھی عذاب شب میں پروئے گئے تھے لوگ ٹھہرا ہوا وہ لمحہ ابھی تک خلا میں ہے جب تیرگی کے غار میں ڈھوئے گئے تھے لوگ ناکام ہو کے دھوپ زمیں سے پلٹ گئی انصرؔ نہ جانے کیسے بھگوئے گئے تھے لوگ
ye paDaav to ik bahaana thaa
یہ پڑاؤ تو اک بہانہ تھا ہم نے رخت سفر گنوانا تھا جب گیا تھا تباہ کر کے مجھے اس کا انداز فاتحانہ تھا جس نے پتھر سے سازشیں کی تھیں ایسے شیشے کو ٹوٹ جانا تھا کوئی تازہ نگاہ کیا کرتی روگ دل کا بہت پرانا تھا ضبط کی بھینٹ چڑھ گئے آخر ہم کو ناموس غم بچانا تھا راستہ کوئی تو نکلتا ضرور دھند کے پار ہم کو جانا تھا بھید خود اپنا ہم سمجھ نہ سکے اور کس کا سراغ پانا تھا ہر بگولہ ہوا رہین سفر کیا ہواؤں کا تازیانہ تھا ایک دن بے صدا جزیروں سے اپنی جانب پلٹ کے آنا تھا اس نے اپنی حفاظتوں کے لیے خط فاصل ہمیں بنانا تھا کیوں سوالی ہو چاند کے انصرؔ اپنے گھر میں دیا جلانا تھا
jurm Thahraa haal se aage kaa naqsha dekhnaa
جرم ٹھہرا حال سے آگے کا نقشہ دیکھنا تازگی کی آس رکھنا اور سبزہ دیکھنا آرزو کرنا چمن زاروں کی سبزہ زار کی اور تاحد نظر صحرا ہی صحرا دیکھنا عزم یہ رکھنا کہ گہرائی کا سینہ چیر دیں اور اپنے آپ کو ساحل پہ تنہا دیکھنا دھوپ کی بارش میں رہنا پیاس کی لہروں کے ساتھ ہر سراب دشت کو تصویر دریا دیکھنا دیکھنے والوں سے کوئی حرف منظر کیا کہے آنکھ کی تقدیر میں لکھا ہے کیا کیا دیکھنا یہ علامت کون سی ہے کس سے پوچھوں اے ہوا پہلی رت میں ہر شجر پر زرد پتا دیکھنا کون بتلائے گا انصرؔ ایسی باتوں کا جواز چاندنی میں بادباں پر عکس دریا دیکھنا





