SHAWORDS
Anwar Kamal Anwar

Anwar Kamal Anwar

Anwar Kamal Anwar

Anwar Kamal Anwar

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

baraae-dilkashi lafz-o-maaani maang letaa hai

برائے دل کشی لفظ و معانی مانگ لیتا ہے قلم سے روز کاغذ اک کہانی مانگ لیتا ہے شب فرقت میں جب دل ڈوب جاتا ہے اداسی میں ترے رنگیں تصور سے جوانی مانگ لیتا ہے بھلا دیتا ہے عظمت پیاس میں اپنی سمندر بھی بڑھا کر ہاتھ دریاؤں سے پانی مانگ لیتا ہے چراغ رہ گزر ہوں میں حقیقت ہے مگر یہ بھی کبھی سورج بھی مجھ سے ضو فشانی مانگ لیتا ہے رہے یہ بات بھی پیش نظر ظل الٰہی کے فلک دے کر زمیں کی حکمرانی مانگ لیتا ہے بھروسہ کیجئے کس کی عطا پر اے کمال انورؔ خدا بھی ہم سے واپس زندگانی مانگ لیتا ہے

غزل · Ghazal

fasurda-dil hain khushi se bichhaD gae hain log

فسردہ دل ہیں خوشی سے بچھڑ گئے ہیں لوگ خدا کو بھول کے مشکل میں پڑ گئے ہیں لوگ غم اور درد کے جنگل اگے ہیں چہروں پر نئے زمانے میں کتنے اجڑ گئے ہیں لوگ ستم کی آندھی نے مسمار کر دیا ان کو یہ لگ رہا ہے جڑوں سے اکھڑ گئے ہیں لوگ نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی دکھوں کے پھندے میں ایسے جکڑ گئے ہیں لوگ تھے راہ راست پہ جب تک پڑے تھے پستی میں بلندیوں پہ پہنچ کر بگڑ گئے ہیں لوگ بھلا دئے ہیں خلوص و وفا کے سارے سبق مفاد خطرے میں آیا تو لڑ گئے ہیں لوگ عجیب چیز انا کا خمار بھی ہے کمالؔ نہتے ہو کے بھی میداں میں اڑ گئے ہیں لوگ

غزل · Ghazal

vafaa-paraston ke munh se zabaan khinchtaa hai

وفا پرستوں کے منہ سے زبان کھینچتا ہے ذرا ذرا پہ ستم گر کمان کھینچتا ہے میں چھوڑ کر چلا آیا ہوں شہر میں جس کو مجھے وہ گاؤں کا کچا کمان کھینچتا ہے یہ اور بات وہی فاصلہ ہے صدیوں سے زمیں کو اپنی طرف آسمان کھینچتا ہے مری نظر میں بہادر وہی سپاہی ہے خلاف ظلم جو اپنی کمان کھینچتا ہے تماشہ دیکھ کے مہمان ہے یہ حیرت میں جو مال تر ہے اسے میزبان کھینچتا ہے کبھی کبھی تری فرقت میں لگتا ہے ایسا بدن سے جیسے کوئی میری جان کھینچتا ہے ادب کی علم کی باتیں اسے پسند نہیں کمالؔ کس لئے دنیا کا دھیان کھینچتا ہے

غزل · Ghazal

ye aabru ye shaan ye tevar bachaa ke rakh

یہ آبرو یہ شان یہ تیور بچا کے رکھ دل کو تو خواہشوں سے قلندر بچا کے رکھ محلوں کی فکر چھوڑ کہ برسات ہے قریب آندھی سے اپنا پھوس کا چھپر بچا کے رکھ چاروں طرف ہے آگ چمن میں لگی ہوئی اپنا وجود موم کے پیکر بچا کے رکھ کنگال کر نہ دے تجھے قطروں کی پرورش کچھ اپنے پاس بھی تو سمندر بچا کے رکھ مجھ پر نہ ختم ہوگا صداقت کا سلسلہ ترکش میں اپنے تیر ستم گر بچا کے رکھ بدلی ہوئی ہے وقت کی رفتار آج کل ذوق سفر کو وقت کے رہبر بچا کے رکھ پرکھے گا وقت تجھ کو کسوٹی پہ بار بار انور کمالؔ اپنے تو جوہر بچا کے رکھ

غزل · Ghazal

hamaare dil ko taDpaayaa bahut hai

ہمارے دل کو تڑپایا بہت ہے ستم گر نے ستم ڈھایا بہت ہے کبھی تو آئے گا موسم خوشی کا لہو آنکھوں نے برسایا بہت ہے اجالے جب منظم ہو گئے ہیں اندھیرا پھر تو گھبرایا بہت ہے کہاں میں جاؤں گا میرے لئے تو تری دیوار کا سایہ بہت ہے تو کیوں رہبر کے پیچھے چل رہے ہو اگر رہبر نے بھٹکایا بہت ہے قدم دریا میں جو رکھتا نہیں اب وہ طوفانوں سے ٹکرایا بہت ہے تہی دامن کمال انورؔ ہے لیکن ادب کا پھر بھی سرمایہ بہت ہے

غزل · Ghazal

zabaan khol savaal-o-javaab kar ke dikhaa

زبان کھول سوال و جواب کر کے دکھا اگر تو گونگا نہیں ہے خطاب کر کے دکھا مزاج پوچھ چراغوں کا آ کے دھرتی پر یہ کام بھی تو کبھی آفتاب کر کے دکھا نئے جہانوں کی بیکار کر رہا ہے تلاش اسی زمین پہ پیدا گلاب کر کے دکھا ادھورے قصوں کی اہل نظر نہ دیں گے داد انہیں تو دل کی مکمل کتاب کر کے دکھا سنا ہے سب کے تو دکھ کا علاج کرتا ہے ہمارے دل سے الگ اضطراب کر کے دکھا یہ کون کہتا ہے ظاہر تو عیب کر کے دکھا حقیقتوں کو مگر بے نقاب کر کے دکھا سفر حیات کا اب اتنا بھی نہیں دشوار تماشا مجھ کو نئے ہم رکاب کر کے دکھا کمالؔ جینے سے بیزار لوگ ہو جائیں نہ زندگی کو تو اتنا خراب کر کے دکھا

Similar Poets