SHAWORDS
Anwar Shamim Anwar

Anwar Shamim Anwar

Anwar Shamim Anwar

Anwar Shamim Anwar

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

بجھائی جو لگائی بھی مری تھی وہ دل کی آگ لائی بھی مری تھی مرا کیا وہ بدن رسوا ہوا تو بس اس میں پارسائی بھی مری تھی ریاکاری پہن کر کیسے نکلوں اسی سے تو لڑائی بھی مری تھی ذرا سی بات نے سہمائے رکھا کہ اس کی جگ ہنسائی بھی مری تھی مری کم ظرفیوں نے سب گنوائے خدا کی یہ خدائی بھی مری تھی

bujhaai jo lagaai bhi miri thi

غزل · Ghazal

نہ ہو نہیں ہے اگر اس کا شین قاف درست وہ حق پہ ہے تو نہیں اس سے اختلاف درست تعلقات کی تجدید کے لئے یارو ہے اپنی اپنی کمی کا یہ اعتراف درست عذاب جھانک رہا ہے ذرا تو فکر کرو نہیں ہے گھر کے کواڑوں میں یہ شگاف درست یہ روشنی تو متاع نظر کی دشمن ہے مری نظر میں ہے اب اس سے انحراف درست ذرا تم اپنی حدوں کا بھی جائزہ لے لو یہ مانتا ہوں کہ ہے مجھ سے اختلاف درست یہ جستجو تو کسی سائے کا تعاقب ہے ہوا ہے مجھ پہ اچانک یہ انکشاف درست ملے گا کیا تجھے انور شمیمؔ باز آ جا نہیں ہے اس در دولت کا یہ طواف درست

na ho nahin hai agar us kaa shiin qaaf durust

غزل · Ghazal

غم میں جو شاد کام ہوتے ہیں قابل احترام ہوتے ہیں رحم لطف و کرم ترس احساں ظلم کے کتنے نام ہوتے ہیں شکوۂ غم جہاں ہے سوئے ادب ایسے بھی کچھ مقام ہوتے ہیں تاج داری وہ کیا کریں گے جو خواہشوں کے غلام ہوتے ہیں احتیاطوں کے شہر میں انورؔ حادثے صبح و شام ہوتے ہیں

gham mein jo shaad-kaam hote hain

غزل · Ghazal

سائل بھی ہیں اس دور میں کاسے بھی بہت ہیں مل جائیں تو اب جھوٹے دلاسے بھی بہت ہیں اللہ یہ گھبرا کے کہیں زہر نہ پی لیں کچھ لوگ مرے شہر میں پیاسے بھی بہت ہیں میں دیکھ رہا ہوں جو چراغوں کے نئے زخم شکوے نئے موسم کی ہوا سے بھی بہت ہیں مایوس نہیں ہیں تری رحمت سے خدایا یہ سوکھے ہوئے پیڑ جو پیاسے بھی بہت ہیں شاد آپ کی ہر بات سے انورؔ ہیں بہت شاد بیزار مگر لفظ وفا سے بھی بہت ہیں

saail bhi hain is daur mein kaase bhi bahut hain

غزل · Ghazal

صبح نو کا خیال کرتے ہیں شب گزیدہ کمال کرتے ہیں کتنے خوش ہیں مری تباہی پر جو بظاہر ملال کرتے ہیں جو دلوں کو نوازتے ہیں بہت دل وہی پائمال کرتے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں آئنے پھر بھی ہم بہت دیکھ بھال کرتے ہیں سوچتا ہوں کہ لوٹ کر مجھ کو راہزن کیوں ملال کرتے ہیں خیر مرنا تو ہے بہت آساں جینے والے کمال کرتے ہیں گاؤں میں ہی بھلے تھے ہم انورؔ شہر میں یہ خیال کرتے ہیں

subh-e-nau kaa khayaal karte hain

غزل · Ghazal

ذلیل مصلحتوں کا اسیر نکلے گا خبر نہیں تھی کہ تو بے ضمیر نکلے گا ہمارے شہر کے لوگوں کو یہ امید نہ تھی امیر شہر بھی دل کا فقیر نکلے گا اگر نقاب ہٹی راہزن کے چہرے سے تو کیا خبر تھی ہمارا امیر نکلے گا میں جانتا تھا ترے لب سے بد گمانی میں جو لفظ نکلے گا بن کر وہ تیر نکلے گا سنا ہے کوچۂ شیشہ گراں سے آج انورؔ وہ سنگ زادوں کا جم غفیر نکلے گا

zalil maslahaton kaa asiir niklegaa

Similar Poets