SHAWORDS
Anwar

Anwar

Anwar

Anwar

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

نہ میری بات ہی سمجھا نہ میرا مدعا سمجھا سنا قصہ مگر کیا جانے اس ظالم نے کیا سمجھا سفینہ پار اس کا ہو گیا بحر محبت سے ہر اک موج تلاطم خیز کو جو ناخدا سمجھا یہ الہڑ پن ہے ظالم کا کہ ہے یہ بے رخی اس کی ابھی تک مدعا میرا نہ وہ جان وفا سمجھا نہ جنت کی تمنا ہے نہ اس کو حور کا لالچ غلط مطلب ارے نادان تو نے شیخ کا سمجھا فراق یار میں بھی نیند سی کچھ آ گئی مجھ کو شب غم یہ سکوں پا کر کرم بے درد کا سمجھا طبیعت ہی تو ہے ظالم نے مطلب میری باتوں کا بھلا چاہا بھلا سمجھا برا چاہا برا سمجھا دوبارہ کوچۂ محبوب میں جانے کی زحمت کر پیام عشق بالتفصیل ان کو اے صبا سمجھا جسے دیکھو وہ ٹھکرا کر گزر جاتا ہے تربت کو نہ دنیا نے شہیدان وفا کا مرتبہ سمجھا حقیقت میں یہ کعبہ ہے جہاں کرتا ہوں میں سجدے یہ تیری بھول ہے زاہد جو اس کو بت کدہ سمجھا بت کافر کے محفل میں اچانک چڑھ گئے تیور ہمارے عرض مقصد کو خدا جانے وہ کیا سمجھا کٹاتا ہے گلا ہنس ہنس کے اس کے اک اشارے پر اسی کو بے مروت نے ہمیشہ بے وفا سمجھا ہزاروں قافلے لوٹے ہیں جس نے راہ الفت کے دل معصوم نے احمرؔ اسی کو رہنما سمجھا

na meri baat hi samjhaa na meraa mudda'aa samjhaa

غزل · Ghazal

نہ جائے گا کسی کے گیسوؤں کا خم بہ خم ہونا بہت مشکل ہے میرے شوق کی الجھن کا کم ہونا صنم خانہ ہو یا کعبہ جھکا دوں گا جبیں اپنی اگر ثابت ہوا مجھ پر ترا نقش قدم ہونا بھلا کیونکر وہ بچتا آپ کے دام محبت سے مقدر ہی میں تھا جس کے اسیر رنج و غم ہونا نہ اتنی دے کہ میں بہکوں نہ تشنہ لب رہوں ساقی بقدر ظرف ساغر دے برا ہے بیش و کم ہونا نظر والوں سے پوچھو تم بلندی کوئے جاناں کی تعجب کیا ہے اس کا غیرت باغ ارم ہونا فقط یہ سوچ کر آنسو بہاتا ہوں شب فرقت کبھی تو رنگ لائے گا مرا یہ چشم نم ہونا چمن کے گوشہ گوشہ میں فقط بجلی کا چرچا ہے کچھ ایسا رنگ لایا ہے مرا جل کر بھسم ہونا تہ خنجر بھی ہونٹوں پر مرے آیا تو یہ آیا مبارک ہو ستم ایجاد کو اہل ستم ہونا خیال حور میں دن رات وہ بدمست رہتا ہے نہیں کچھ کام آیا شیخ کا اہل حرم ہونا توقع رحم کی اس سے نہ رکھ تو اے دل ناداں کبھی ممکن نہیں جلاد کا اہل کرم ہونا ادا کرکے رہوں گا ایک دن میں اس فریضے کو اگر تقدیر میں ہی لکھ گیا ہے سر قلم ہونا ہزاروں رنج و غم سہ کر بھی میں ہنستا ہوں اے احمرؔ بشر کے واسطے ہے لازمی ثابت قدم ہونا

na jaaegaa kisi ke gesuon kaa kham-ba-kham honaa

غزل · Ghazal

تیری خاطر اے دل بیتاب ہیں برباد ہم پھر رہے ہیں مارے مارے چار سو ناشاد ہم جا کے بزم یار میں خود ہی ہوئے ہیں جب اسیر کس طرح لائیں زباں پر شکوۂ بیداد ہم جس کی خاطر اہل دنیا کی نگاہوں سے گرے خون دل سے لکھ رہے ہیں آج وہ روداد ہم آج تک جس نے کسی پر رحم کھایا ہی نہیں اس پہ ہوتا کیا اثر کرتے بھی جو فریاد ہم اک نہ اک دن پنجۂ صیاد میں آنا ہی تھا رہتے کیسے گلستاں میں اس طرح آزاد ہم ہر طرف پھیلا ہوا ہے جب ترا دام فریب تا بہ کے بچتے ترے پھندوں سے اے صیاد ہم گلستاں بھر تھا مگر اس شاخ پر بجلی گری رکھ رہے تھے آشیاں کی جس جگہ بنیاد ہم بن گیا ہے بنتے بنتے اک مزاج مستقل دل دھڑکتا ہے تجھے کرتے ہیں جب بھی یاد ہم قتل گہہ میں پوچھتا ہے اے ستم گر حال دل ذبح کر دے کہ کہیں گے کچھ نہ اب جلاد ہم بے وفا بیداد گر سے ملنے کی اب ضد نہ کر اس کی محفل میں نہ جائیں گے دل ناشاد ہم کچھ سمجھ ہی میں نہیں آتا ہے احمرؔ اس کا بھید ایک ظالم کے لئے کیوں ہو گئے برباد ہم

teri khaatir ai dil-e-betaab hain barbaad ham

غزل · Ghazal

دل کسی سے لگا کے دیکھ لیا چوٹ پر چوٹ کھا کے دیکھ لیا رحم کس خوش نصیب پر آیا کس کو چلمن اٹھا کے دیکھ لیا چین آتا نہیں کسی پہلو تم نے مجھ کو ستا کے دیکھ لیا تیرے ارمان کے سوا کیا ہے دل کی دنیا میں آ کے دیکھ لیا بے وفا کون با وفا ہے کون آپ نے آزما کے دیکھ لیا عمر رفتہ کی یاد آ ہی گئی آئنہ جب اٹھا کے دیکھ لیا ہل گیا عرش ہے ارے ظالم کعبۂ دل کو ڈھا کے دیکھ لیا یہ بھی اک چال ہے ستانے کی جب ملے مسکرا کے دیکھ لیا بے وفا ہے زمانہ اے احمرؔ ہر طرح آزما کے دیکھ لیا

dil kisi se lagaa ke dekh liyaa

غزل · Ghazal

کیا کہوں کس سے کہوں کہنے کا کچھ حاصل نہیں جب سے دیکھا ہے انہیں قابو میں میرا دل نہیں لطف کیا پینے کا آئے گا بھلا اے مے کشو مے تو ہے موجود لیکن ساقئ محفل نہیں تیرے آنے سے وہ کیا محفوظ ہو اے فصل گل جس کو دنیا میں میسر ہی سکون دل نہیں میری گردن پر چھری یہ کہہ کر اس نے پھیر دی مجرم الفت کبھی بھی رحم کے قابل نہیں میں نے کس کس سے نہیں پوچھا پتا تیرا اے دوست عمر بھر ڈھونڈا مگر مجھ کو ملی منزل نہیں حور جنت کی تمنا دل میں رکھتے ہیں مگر شیخ جی کا قول ہے الفت کا میں قائل نہیں جتنا تم چاہو کرو ظلم و ستم مجھ پر مگر منحرف ہو جائے تم سے ایسا میرا دل نہیں مجھ کو بھی ساغر ملے اے ساقیٔ رنگین ادا مجھ پہ بھی چشم کرم ہو کیا میں اس قابل نہیں بھولنے والے فقط اتنا بتانا ہے تجھے تیرا احمرؔ یاد سے تیری کبھی غافل نہیں

kyaa kahun kis se kahun kahne kaa kuchh haasil nahin

غزل · Ghazal

شعلہ مری آنکھوں سے عیاں کیوں نہیں ہوتا ایسا ابھی اے سوز نہاں کیوں نہیں ہوتا آیا ہوں صنم خانے میں کعبہ سے نکل کر حاصل مجھے دیدار بتاں کیوں نہیں ہوتا جب پرسش احوال پہ مائل ہیں وہ خود ہی حال دل بیتاب بیاں کیوں نہیں ہوتا ہر وقت تصور میں رہا کرتا ہوں پھر بھی آباد مرے دل کا جہاں کیوں نہیں ہوتا جب لال پری شیشے میں موجود ہے ساقی پھر بزم کا رنگین سماں کیوں نہیں ہوتا برباد جو اک آن میں ہو جاتا ہے غنچہ ہر خار مگر نذر خزاں کیوں نہیں ہوتا چبھ جاتا ہے جب تیر ستم دل ہی میں جا کر سینے پہ عیاں کوئی نشاں کیوں نہیں ہوتا گلشن میں نشیمن تو مرا پھونک چکی پھر ٹھنڈا ترا دل برق تپاں کیوں نہیں ہوتا

shoala miri aankhon se ayaan kyon nahin hotaa

Similar Poets