SHAWORDS
Aqeel Abbas Chughtai

Aqeel Abbas Chughtai

Aqeel Abbas Chughtai

Aqeel Abbas Chughtai

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

apne pairon pe kisi taur khaDe hote nahin

اپنے پیروں پہ کسی طور کھڑے ہوتے نہیں بوڑھے ہو جاتے ہیں ہم لوگ بڑے ہوتے نہیں صبر و خاموشی کی زنجیر جکڑ لیتی ہے اب کلائی میں بغاوت کے کڑے ہوتے نہیں حلقۂ عشق میں سب چاک دلاں ملتے ہیں اس قبیلے میں کوئی خاص دھڑے ہوتے نہیں ایسے اس شخص کے لہجے سے پگھل جاتے ہیں جیسے ہم لوگ کبھی ضد پہ اڑے ہوتے نہیں ٹھوکروں بعد کہیں نظروں میں آتے ہیں عقیلؔ ہم انگوٹھی میں نگینے تو جڑے ہوتے نہیں

غزل · Ghazal

oDh letaa hai koi tirgi shab se pahle

اوڑھ لیتا ہے کوئی تیرگی شب سے پہلے رونما ہوتے ہیں اثرات سبب سے پہلے سب سے اونچا تھا زمانے میں تخیل میرا حادثے مجھ پہ گرا کرتے تھے سب سے پہلے ایک دوجے سے نمو پاتی ہیں چیزیں اکثر پیاس کا نام کہاں ہوتا تھا لب سے پہلے شعر نے حسن کی ترویج کا سامان کیا رائیگاں جاتی تھی ہر آنکھ ادب سے پہلے صبح کا بھولا ہوا آ تو گیا ہے واپس مسئلہ یہ ہے کہ آیا نہیں شب سے پہلے وہ جو دن رات کی ترتیب لگاتا ہے ابھی جانے کیا کرتا تھا اس کار عجب سے پہلے ناز برداری تری کرتے بہت کرتے مگر زندگی ہم کو ملی ہے تو طلب سے پہلے آج کچھ اور ہی مقصد ہے چراغوں کا عقیلؔ روشنی اتنی نہیں ہوتی تھی اب سے پہلے

غزل · Ghazal

rakhe hain chaak-e-zamaan par fanaa baqaa aur main

رکھے ہیں چاک زماں پر فنا بقا اور میں امڈ رہے ہیں تماشائے ناروا اور میں پھر ایک روز خلا بھر گیا تھا کمرے میں کہ جذب ہو گئے دیوار میں صدا اور میں چراغ بجھتے رہے اور شہر جلتے رہے سکوت اوڑھ کے بیٹھے رہے خدا اور میں یہ دشت آج بھی ہم سے ہے بے خبر افسوس کہاں کی خاک اڑاتے رہے ہوا اور میں بدن کی ناؤ تھی گرداب لمس جوبن میں عجب خمار میں ڈوبے تھے ناخدا اور میں تھا ارتقائے سخن کوئی خامشی کا عمل ہوئے ہیں وقف تحیر مری نوا اور میں ذرا سی دیر مرا دھیان بٹ گیا تھا کہیں بجھے ملے ہیں کسی آنکھ میں دیا اور میں کچھ اس طرح سے ہوا کم ہمارا خالی پن کہ ایک دوسرے میں بھر گئے خلا اور میں ابھی خیال ہے تجسیم کی نظر سے پرے ابھی ہیں ریت میں مستور آئنہ اور میں

غزل · Ghazal

is liye teri hui dasht-hansaai bhaai

اس لیے تیری ہوئی دشت ہنسائی بھائی تو نے جلدی میں ذرا خاک اڑائی بھائی آخر کار کوئی عذر اسے مل ہی گیا یہ محبت بھی کسی کام نہ آئی بھائی میں ہوں کونے میں پڑا ٹوٹا ہوا کنگن اور زندگی ایک حسینہ کی کلائی بھائی تب مرا سارا بدن کان میں تبدیل ہوا جب کسی نے مجھے آواز لگائی بھائی اول اول یہ زمیں ٹھہری رہی ایک جگہ پھر کسی آنکھ نے پتلی تھی گھمائی بھائی

غزل · Ghazal

khud apni zaat kaa inkaar karne vaalaa hai

خود اپنی ذات کا انکار کرنے والا ہے کوئی تمام حدیں پار کرنے والا ہے ابھی نہ ہاتھ بڑھا پگڑیوں کی جانب تو کہ یہ تماشہ سوئے دار کرنے والا ہے کبھی کسی نے کیا ہے نہ کر سکے گا کوئی جو میرے ساتھ مرا یار کرنے والا ہے مجھے وہ ماتمی آنکھیں لگائے جا رہا ہے وہ میرے خواب عزادار کرنے والا ہے مرا تمہارا خدا ایک ہو نہیں سکتا مرا خدا تو بڑا پیار کرنے والا ہے ابھی تو رات ہے سب چین سے ہیں سوئے ہوئے مگر جو صبح کا اخبار کرنے والا ہے

غزل · Ghazal

main samajhtaa thaa dar-o-baam kahaan bolte hain

میں سمجھتا تھا در و بام کہاں بولتے ہیں پھر ترے بعد کھلا مجھ پہ کہ ہاں بولتے ہیں یہ جو دبتی ہے مرے شور میں آواز مری میری ہستی میں کہیں کار زیاں بولتے ہیں اس جہاں کے متوازی بھی جہاں ہے کوئی جو یہاں بول نہیں پاتے وہاں بولتے ہیں متصل اس کے لبوں سے ہے یہ کار آواز وہ اگر ہل نہ سکیں ہم بھی کہاں بولتے ہیں اک زمانے کو بیاں کرتے ہیں لفظوں کے بغیر مجھ سخن ساز سے بہتر تو نشاں بولتے ہیں دیکھ اک دوجے سے ٹکرانے لگیں آوازیں اتنا بے ڈھنگ ترے لوگ یہاں بولتے ہیں اک خلا ہے جو صداؤں کو نگل جاتا ہے کوئی سن ہی نہیں پاتا جو مکاں بولتے ہیں آگ روتی ہے تو ہم کو بھی رلا دیتی ہے یہ تو آنسو ہیں جنہیں لوگ دھواں بولتے ہیں اشک در اشک سلاست ہے بہاؤ میں عقیلؔ مری آنکھوں کو تبھی چشم رواں بولتے ہیں

Similar Poets