
Aqeel Sambhali
Aqeel Sambhali
Aqeel Sambhali
Ghazalغزل
کیا کہئے دن شباب کے کیسے گزر گئے جھونکے ہواؤں کے ادھر آئے ادھر گئے میری نظر میں حاصل ہستی وہی رہے وہ لمحے جو حیات کو بدنام کر گئے کیوں یاد آ رہے ہیں وہ بے ساختہ مجھے بھولے ہوئے بھی جن کو زمانے گزر گئے پھر ان کو میکدے سے اٹھانے کا ذکر ہے ساقی وہ تشنہ لب جو ترا نام کر گئے اس دور نا شناس میں اہل وفا کہاں سینوں میں اہل دل کے تو خنجر اتر گئے ہم وہ چراغ ہیں کہ جو ہیں آندھیوں کے ساتھ ہم وہ نہیں جو تیز ہواؤں سے ڈر گئے جب تک رہے قفس میں رہے بال و پر عقیلؔ آزاد جب ہوئے تو سبھی بال و پر گئے
kyaa kahiye din shabaab ke kaise guzar gae
بولتے ہی بولتے چپ ہو گئے پتھر کے لوگ کیوں فضا خاموش ہے کیا سو گئے پتھر کے لوگ روز ٹکراتے رہے چنگاریاں اڑتی رہیں شہر ویراں ہو گئے جب ہو گئے پتھر کے لوگ کیسا جادہ کیسی منزل کیا تھکن کیا حوصلہ نیند سے بوجھل تھیں آنکھیں سو گئے پتھر کے لوگ اپنا چہرہ دیکھ کر گھبرائیں گے مر جائیں گے آئنوں کے شہر میں گر کھو گئے پتھر کے لوگ اور کب تک ڈھوتے اپنی لاش اپنے دوش پر دشت تنہائی میں آخر سو گئے پتھر کے لوگ شیشہ بن کر کب تک اپنی کرچیوں سے کھیلتے ہم بھی پتھر ہو گئے جب ہو گئے پتھر کے لوگ اب کوئی دستک عقیلؔ ان کو جگا سکتی نہیں ایسے ویرانوں میں جا کر سو گئے پتھر کے لوگ
bolte hi bolte chup ho gae patthar ke log
خدا کرے کہ نہ ہو زندگی کی شام ابھی کہ داستان غم دل ہے ناتمام ابھی نگاہ ناز سے ساقی اک اور جام ابھی غم حیات سے لینا ہے انتقام ابھی ابھی مجھے نہ ستاؤ سحر کے افسانے دل و نگاہ پہ چھائی ہوئی ہے شام ابھی جہاں سے اہل خرد نامراد لوٹ آئے جنوں کی راہ میں آئیں گے وہ مقام ابھی ابھی حیات میں رنگینئ حیات کہاں کسی کا لطف و کرم ہے برائے نام ابھی یہ جھلملاتے ستارے مجھے فریب نہ دیں مرا شریک سفر ہے چراغ شام ابھی ابھی عقیلؔ یقین سکون دل کیوں ہو ہزار رنگ بدلتے ہیں صبح و شام ابھی
khudaa kare ki na ho zindagi ki shaam abhi
کوئی مجبور پریشاں کوئی اب نہیں چاک گریباں کوئی اب نہیں درد کا درماں کوئی چند لمحوں کا ہے مہماں کوئی ہم نہ ہوں گے تو نہ سلجھائے گا آپ کی زلف پریشاں کوئی کیا خبر تم کو تمہاری خاطر ہو گیا خاک بہ داماں کوئی سازش اہل چمن سے بچ کر لوٹ آیا سوئے زنداں کوئی میرے گھر کچھ نہیں ظلمت کے سوا اب کرے لاکھ چراغاں کوئی اب نہ تارے ہیں نہ شمعیں ہیں عقیلؔ اب نہیں زیست کا امکاں کوئی
koi majbur pareshaan koi
جن سے روشن تھیں فضائیں کبھی ویرانوں کی یاد آتی ہے انہی چاک گریبانوں کی جب کبھی کعبے کی تعمیر کا وقت آتا ہے پہلے بنیاد اٹھا کرتی ہے بت خانوں کی شکریہ میرے سفینے کو ڈبونے والو مجھ کو منت نہ اٹھانی پڑی طوفانوں کی روشنی ہو کہ نہ ہو شمع جلے یا نہ جلے شب تو کٹتی ہے بہرحال سیہ خانوں کی میکدہ خطرے میں ہے تیغ اٹھا اے ساقی آج رندوں کو ضرورت نہیں پیمانوں کی کیوں ڈراتی ہے ہمیں موج بلا رہ رہ کر شورشیں ہم نے بہت دیکھی ہیں طوفانوں کی اختلافات اسیروں میں ابھی تک ہیں عقیلؔ یہ سیاست نہ ہو زنداں کے نگہبانوں کی
jin se raushan thiin fazaaein kabhi viraanon ki
سرد موسم تھا بہت سوز الم سے پہلے زیست دلچسپ کہاں تھی شب غم سے پہلے آج جینے کا سمجھتے ہیں سہارا اس کو ہم کہ واقف بھی نہ تھے شام الم سے پہلے زندگی اتنی حسیں اور دل آویز نہ تھی اے محبت ترے الطاف و کرم سے پہلے چل پڑے لوگ تو پھر کوئی بھی کھٹکا نہ رہا منزلیں سخت تھیں بس پہلے قدم سے پہلے فکر آذر کو دعا دو کہ کیا حسن تلاش پارۂ سنگ میں تخلیق صنم سے پہلے اپنی کوتاہیٔ دامن کو بھی ارباب طلب دیکھتے وسعت دامان کرم سے پہلے سر پہ سایہ تھا بزرگوں کا تو سورج بھی عقیلؔ اتنا برہم نہ رہا کرتا تھا ہم سے پہلے
sard mausam thaa bahut soz-e-alam se pahle





