SHAWORDS
Aqib Haidar

Aqib Haidar

Aqib Haidar

Aqib Haidar

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

ناکردہ گناہوں کی سزا جھیل رہے ہیں یوں لگتا ہے غیروں کا کیا جھیل رہے ہیں پروردۂ وحشت ہیں مگر وقت کے ہاتھوں اک عمر سے شاداب فضا جھیل رہے ہیں دل اب بھی تری اور سے بد ظن نہیں ہوتا مدت سے ترا حرف دعا جھیل رہے ہیں کیا ان کی خطاؤں پہ بھی امکان سزا ہے چپ چاپ جو قسمت کا لکھا جھیل رہے ہیں زندان کی دہلیز پہ بیٹھے ہوئے قیدی آزاد خیالی کی سزا جھیل رہے ہیں یہ دور جدائی تو بہت سخت ہے لیکن ہے آپ کی حسرت تو بجا جھیل رہے ہیں اس شخص سے ہے دل کو تسلی کی امیدیں جس کو یہ خبر بھی نہیں کیا جھیل رہے ہیں

naa-karda gunaahon ki sazaa jhel rahe hain

غزل · Ghazal

دیدہ و دل کو تری ذات میں ضم کرتے ہیں قیس سے ہو نہ سکا کام جو ہم کرتے ہیں چارہ گر کوئی نہ مونس نہ مسیحا کوئی کام بس آپ کے یہ دست کرم کرتے ہیں ہم کٹے ہاتھوں سے لکھیں گے وفا کے معنی شکریہ آپ کا جو ہاتھ قلم کرتے ہیں رات جب خواب کی تعبیر طلب کرتی ہے صبح آواز یہ دیتی ہے کہ ہم کرتے ہیں ہم جو کرتے تھے خدا ہونے کا دعویٰ کل تک خود کو اب معترف دیر و حرم کرتے ہیں

dida-o-dil ko tiri zaat mein zam karte hain

غزل · Ghazal

پئے تسلیم و رضا خم بھی تو ہو سکتا ہے جو نگوں سر ہے وہ رستم بھی تو ہو سکتا ہے آنکھ نم ہے تو ضروری نہیں کوئی غم ہو پھول پر قطرۂ شبنم بھی تو ہو سکتا ہے ہم بہاروں میں پھریں اور خزاں گیر رہیں یار وحشت کا یہ عالم بھی تو ہو سکتا ہے در سے ٹکراتا ہوا سرد ہوا کا جھونکا کسی بیمار کا مرہم بھی تو ہو سکتا ہے ذہن ہے پا بہ رکاب خطر آئندہ تجھ سے ملنے پہ مجھے غم بھی تو ہو سکتا ہے کسی مظلوم کی نا گفتہ صدا کا لہجہ حیلۂ شاہ سے محکم بھی تو ہو سکتا ہے

pa-e-taslim-o-razaa kham bhi to ho saktaa hai

غزل · Ghazal

ملول رہنے دے عادت مری بگاڑ نہیں اے زندگی مرے زخموں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کسی پہ کھل نہیں سکتا مرے وجود کا رنگ میں وہ مکان ہوں جس میں کوئی کواڑ نہیں ہمارے قہقہے وحشت کے ترجماں ٹھہرے ہماری ذات سے بڑھ کر کوئی اجاڑ نہیں خرد کے شہر میں کار جنوں کیا جائے یہ کاروبار وہ ہے جس میں بھیڑ بھاڑ نہیں یہ کیا ستم ہے رہ وصل بھی نہیں ممکن تمہاری یاد سے بچنے کا بھی جگاڑ نہیں یہ وحشتیں بڑی مخلص ہیں آ ہی جاتی ہیں فصیل دل پہ اگرچہ کوئی دراڑ نہیں

malul rahne de 'aadat miri bigaaD nahin

غزل · Ghazal

آنکھوں میں اضطراب نہ ماتھے پہ بل پڑے لائی حیات جس پہ اسی راہ چل پڑے غصے میں بھی ہے لب پہ تبسم سجا ہوا جیسے کہ ریگ گرم سے چشمہ ابل پڑے ہے نارسائی دست اجل کے نصیب میں ہم سرحد حیات سے آگے نکل پڑے رخ کیجیو حیات کی گاڑی کا اس طرف جس اور شہر خواب کا نعم البدل پڑے ایسی لگی حیات کی ٹھوکر کہ دفعتاً آنکھوں سے سارے خواب زمیں پر پھسل پڑے اوروں سے کچھ جدا ہیں یہ امید کے چراغ یعنی ہوائیں تیز ہوئیں اور جل پڑے ہے میکدے میں رہ کے بھی دیر و حرم کا غم کیا جانئے کہ دل کو کہاں جا کے کل پڑے

aankhon mein iztiraab na maathe pe bal paDe

غزل · Ghazal

دنیا نے ختم سلسلۂ غم نہیں کیا پلکوں نے پھر بھی نوحہ و ماتم نہیں کیا پھولوں کے گرد کانٹوں کی اس بود و باش نے خوشبو ترے مزاج کو برہم نہیں کیا ہم خوگران عشق انا کے مریض ہیں ہم نے کسی کو خود پہ مقدم نہیں کیا اس دور بے وفا نے ہر اک ذی حیات پر احسان تو کیا ہے پہ پیہم نہیں کیا فرط خوشی بھی لب پہ تبسم نہ لا سکی غم نے بھی آج آنکھوں کو پرنم نہیں کیا باقی رہے سہولت گریہ یہ سوچ کر دیوار ضبط کو کبھی محکم نہیں کیا تیری جفا کے بعد بھی بدلا نہیں یہ دل صرصر نے کیوں چراغ کو مدھم نہیں کیا اب تو ہے صرف خاک شفا کا ہی آسرا اب کے فقیر نے بھی کوئی دم نہیں کیا

duniyaa ne khatm silsila-e-gham nahin kiyaa

Similar Poets