
Areeb Usmani
Areeb Usmani
Areeb Usmani
Ghazalغزل
تمام ہوتا نہیں ہے کوئی کسی کے لیے نہ زندگی کے لیے ہی نہ عاشقی کے لیے میں چاہتا ہوں ذرا دیر خود کے ساتھ رہوں میں چاہتا ہوں چلے جاؤ تم ابھی کے لیے انہیں اندھیروں میں دیکھا تو دکھ ہوا مجھ کو مجھے جو چھوڑ گئے لوگ روشنی کے لیے ہمارے پاس بچا کچھ نہیں ہے کھونے کو ہے انتخاب غلط تیرا دشمنی کے لیے یہ بول کر وہ تذبذب میں مجھ کو ڈال گیا میں جا رہا ہوں فقط تیری بہتری کے لیے
tamaam hotaa nahin hai koi kisi ke liye
ہزاروں سال میں اتری تری تصویر کاغذ پر وحی کا سلسلہ جیسے ہوا تحریر کاغذ پر کہانی کار نے مجھ کو نکالا جب کہانی سے نکل آئی تھی شمشیریں چلے تھے تیر کاغذ پر ہمیں مضمون لکھنا تھا محبت اور وحشت پہ سو لکھ آئے تھے ہم بھی پھر کلام میرؔ کاغذ پر مرا محبوب شاعر ہے کرے ہے وار غزلوں سے قلم کی دھار سے اپنے رکھے دل چیر کاغذ پر
hazaaron saal mein utri tiri tasvir kaaghaz par
کھول کے زلف سیہ فام چلو رقص کریں ہو رہی بارش الہام چلو رقص کریں اب تو انکار بھی کرنا ہے مری جان فضول اب جو ہاتھوں کو لیا تھام چلو رقص کریں ان کی مخمور نگاہوں میں نشہ ایسا تھا چھوڑ کے سب نے کہا جام چلو رقص کریں حضرت شیخ نے منبر سے یہ اعلان کیا چاند آیا ہے لب بام چلو رقص کریں
khol ke zulf-e-siyah-faam chalo raqs karein
پھسل نہ جائے یہ خواب دنیا سو اپنی پلکوں میں داب دنیا میں کس لقب سے پکاروں تجھ کو وہ جھٹ سے بولا جناب دنیا اسے بھی حاصل میں کر ہی لوں گا ہو جائے گر دستیاب دنیا کوئی مسلسل یہ کہہ رہا ہے خراب دنیا خراب دنیا سوال یہ تھا کی نشہ کیا ہے دیا گیا ہے جواب دنیا
phisal na jaae ye khvaab duniyaa
دل تو ویران ہے ویران بھی ایسا ویسا ان کا احسان ہے احسان بھی ایسا ویسا عشق کی آخری منزل پہ کھڑے ہم دونوں اب بچھڑنے کا ہے امکان بھی ایسا ویسا ہم بھی ہوں صاحب دیوان یہی خواہش ہے اک ہی دیوان ہو دیوان بھی ایسا ویسا تو سمجھتا ہے اسے یار فرشتہ کیونکر وہ تو انسان ہے انسان بھی ایسا ویسا شہر کا شہر مرے حال سے واقف ہے اریبؔ تو ہی انجان ہے انجان بھی ایسا ویسا
dil to viraan hai viraan bhi aisaa-vaisaa
ایک اک شعر سنایا اسے تفسیر کے ساتھ کل بہت بات ہوئی تھی تری تصویر کے ساتھ مدتوں بعد جو آیا ہے مرے خط کا جواب اس نے بھیجا ہے مجھے پھول بھی تحریر کے ساتھ ایک ہی عشق کیا اور کیا ایسا عشق جیسے غالبؔ نے کیا میر تقی میرؔ کے ساتھ اتنا خاموش مرے دل کا مکاں ہے مت پوچھ گفتگو کرتی ہے تصویر بھی تصویر کے ساتھ اس قدر نیک گنہ گار مرا دوست اریبؔ جس کو جنت بھی میسر ہوئی زنجیر کے ساتھ
ek ik sher sunaayaa use tafsir ke saath





