
Arif Hasan Khan
Arif Hasan Khan
Arif Hasan Khan
Ghazalغزل
کیسے سفر پر نکلا ہوں مڑ مڑ کر کیا تکتا ہوں جانے پھر کب لوٹوں گا سب سے مل کر آیا ہوں روٹھ گئی منزل کیسی گلیوں گلیوں بھٹکا ہوں کوئی مجھ کو کیوں گائے درد بھرا اک نغمہ ہوں کیا ہوگی تعبیر مری اک مفلس کا سپنا ہوں زخم تمہاری یادوں کے اب اشکوں سے دھوتا ہوں کوئی نہیں میرا ساتھی اک بادل آوارہ ہوں دیکھ مرے دل میں آ کر جھوٹا ہوں یا سچا ہوں عارفؔ اس دل کے ہاتھوں مرتا ہوں اور جیتا ہوں
kaise safar par niklaa huun
اپنے فن میں یکتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں سارے جگ میں تنہا ہوں جب سے تجھ سے بچھڑا ہوں مجھ میں بس تو ہی تو ہے میں تیرا آئینہ ہوں مجھ سے یہ کیسی دوری میں تو تیرا سایہ ہوں جب سے تو نے ٹھکرایا گلیوں گلیوں بھٹکا ہوں دل کی بنجر دھرتی میں میٹھے سپنے بوتا ہوں زر والوں کی بستی میں عارفؔ کھوٹا سکہ ہوں
apne fan mein yaktaa huun
یاد ان کی ستاتی رہی رات بھر آنکھ آنسو بہاتی رہی رات بھر ایک معصوم من موہنی سی صدا دل پہ دستک لگاتی رہی رات بھر ایک تلوار سینے پہ چلتی رہی اک خلش گدگداتی رہی رات بھر رات ڈھلتی رہی ہم سسکتے رہے شمع آنسو بہاتی رہی رات بھر
yaad un ki sataati rahi raat-bhar
نئی غزلیں لکھوں کس کے لئے اور گیت سجاؤں کس کے لئے مرا ہم دم مجھ سے روٹھ گیا اب نغمے گاؤں کس کے لئے وہ پاس جو تھا تو اس کے لئے اوروں سے بھی لڑنا پڑتا تھا اب کس کے لئے میں کس سے لڑوں اور خود کو جلاؤں کس کے لئے اک اس کے تبسم کی خاطر دکھ درد ہزاروں سہتا تھا اب کس کے لئے دکھ درد سہوں اور اشک بہاؤں کس کے لئے وہ تھا تو فقط اس کی خاطر اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لئے میں اس کے لئے ہی سنورتا تھا اور خود کو سجایا کرتا تھا اب خود کو سنواروں کس کے لئے اور گھر کو سجاؤں کس کے لئے جب دیس میں کوئی اپنا تھا پردیس میں کب جی لگتا تھا اب کس کے لئے گھر یاد آئے اور دیس کو جاؤں کس کے لئے اس کا نہیں عارفؔ کوئی بدل ایسا ہے وہ میرا جان غزل اب اس کے سوا کیا یاد رکھوں اور اس کو بھلاؤں کس کے لئے
nai ghazlein likhun kis ke liye aur giit sajaaun kis ke liye
وہ تو میرا اپنا تھا جس نے مجھ کو لوٹا تھا موت پہ میری روتا تھا میرا قاتل بھولا تھا سب جگ سونا سونا تھا جب میں تجھ سے بچھڑا تھا دھند سی چھائی تھی ہر سو کل کا سورج کیسا تھا کوئی برہن گاتی تھی درد بھرا اک نغمہ تھا ڈرتا ڈرتا سا مجھ سے میرا اپنا سایہ تھا میں برفانی راتوں میں ہجر کی آگ میں جلتا تھا راہ وفا میں پیر نہ رکھ اک دیوانہ کہتا تھا انسانوں کے جنگل میں عارفؔ بالکل تنہا تھا
vo to meraa apnaa thaa
میں ہوں اور میرا کمرہ ہے رات کا گہرا سناٹا ہے لب پر ہیں انصاف کی باتیں دل میں عداوت کا جذبہ ہے کچھ تو بتا کیا بات ہے آخر کیوں اتنا خاموش کھڑا ہے دل میں خلش رہتی ہے اکثر تیرا میرا کیا رشتہ ہے کس کو سنائیں کون سنے گا درد بھرا اپنا قصہ ہے آنکھ کھلی تو ہم نے جانا پیار محبت اک سپنا ہے دیکھ لیا سنسار کو عارفؔ تو ہی جگ میں سب سے برا ہے
main huun aur meraa kamra hai





