
Arshad Abbas Zaki
Arshad Abbas Zaki
Arshad Abbas Zaki
Ghazalغزل
to kyaa huaa jo mire saath aaj tu nahin hai
تو کیا ہوا جو مرے ساتھ آج تو نہیں ہے فقط یہی کہ ہے ویرانی ہاؤ ہو نہیں ہے تمہارے ساتھ جو اک روز میری بات نہ ہو تو یوں لگے کہ کسی سے بھی گفتگو نہیں ہے یہ زخم دل کی نمائش نہیں تماشا گرو دراصل بات یہ ہے پیرہن رفو نہیں ہے کسی نے دیکھا نہیں ہم نے جیسے دیکھا اسے غلط کہا ہے کسی نے وہ خوبرو نہیں ہے ابھی ابھی جو مجھے تجھ پہ پیار آ رہا ہے خدا کا شکر ادا کر تو روبرو نہیں ہے میں آپ اپنا مخالف میں آپ اپنا حریف مرے علاوہ مرا کوئی بھی عدو نہیں ہے
lagaa liyaa thaa dil ko ek sil ke saath
لگا لیا تھا دل کو ایک سل کے ساتھ سو جی رہا ہوں درد مستقل کے ساتھ سب اپنی اپنی جنتوں میں کھو گئے کسے پڑی نبھاتا مجھ خجل کے ساتھ میں جس طرف تھا جان کی اماں نہ تھی وہ ہو گیا ہجوم مشتعل کے ساتھ اڑان بھر رہا تھا وہ خلاؤں کی ہمارا رابطہ تھا آب و گل کے ساتھ بے اطمینان ہو گیا ترا اسیر یہ کیا کیا ہے تو نے میرے دل کے ساتھ پھر اس کے ذکر نے رلا دیا ذکیؔ ہے چھیڑ چھاڑ زخم مندمل کے ساتھ
ghazal ko gardish-e-ayyaam se nikaalte hain
غزل کو گردش ایام سے نکالتے ہیں اسے نہ ہونے کے ابہام سے نکالتے ہیں یہ لوگ کیوں تری تکذیب کرتے ہیں جبکہ ہزار کام ترے نام سے نکالتے ہیں یہ شعر ہیں ہمیں خیرات میں نہیں ملتے کبھی دھویں سے کبھی جام سے نکالتے ہیں تجھے خبر ہی نہیں ہے کہ ہم وصال کی فال کبھی سحر سے کبھی شام سے نکالتے ہیں خدایا دشت سفر ختم کیوں نہیں ہوتا سراغ راہ تو ہر گام سے نکالتے ہیں اب انتظار یہی ہے کہ کب ہمارے امام ہمیں مصیبت و آلام سے نکالتے ہیں کچھ اور کاموں میں دل کو لگا کے دیکھیں ذکیؔ اسے طلسم شفق فام سے نکالتے ہیں
jaati nahin hai us ki mahak tak lihaaf se
جاتی نہیں ہے اس کی مہک تک لحاف سے آئی تھی ایک بار پری کوہ قاف سے آنکھوں میں روشنی کا سمندر امڈ پڑا جیسے ہی اس بدن کو نکالا غلاف سے تجھ کو کبھی بھی میری ضرورت نہیں رہی مایوس ہو گیا ہوں میں اس انکشاف سے تجھ سے ہمیں شدید محبت ہے اس لئے کرتے ہیں اتفاق ترے اختلاف سے یہ سوچ کر بھی چھت کی مرمت نہ کی ذکیؔ تازہ ہوا تو آتی رہے گی شگاف سے
jab hamaare khilaaf bolte hain
جب ہمارے خلاف بولتے ہیں سب ہمارے خلاف بولتے ہیں ہم تو تھے مطمئن کہ یہ احباب کب ہمارے خلاف بولتے ہیں بولتے ہیں جب ان کے حق میں ہم تب ہمارے خلاف بولتے ہیں پہلے ہم سے انہیں محبت تھی اب ہمارے خلاف بولتے ہیں دل ہمارے لیے دھڑکتا ہے لب ہمارے خلاف بولتے ہیں
guzaarne ko to sab zindagi guzaarte hain
گزارنے کو تو سب زندگی گزارتے ہیں ہم اہل عشق عجب زندگی گزارتے ہیں فریب کھاتے چلے جا رہے ہیں دنیا سے کوئی سلیقہ نہ ڈھب زندگی گزارتے ہیں وہ چند روز جو اچھے دنوں سے ہیں موسوم نہ تب گزاری نہ اب زندگی گزارتے ہیں جنہیں قبول نہیں لمحہ بھر کی ہم سفری ہمارے ساتھ وہ کب زندگی گزارتے ہیں بھٹک رہے ہیں کسی دشت بے کراں میں مگر اک آرزو کے سبب زندگی گزارتے ہیں





