SHAWORDS
Arshad Mahmood Arshad

Arshad Mahmood Arshad

Arshad Mahmood Arshad

Arshad Mahmood Arshad

poet
1Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

مرتے ہوئے وجود کی حسرت تمام شد سانسوں سے لپٹی آخری چاہت تمام شد دست قضا بڑھا ہے مری سمت الوداع اے اعتکاف عشق عبادت تمام شد ساقی تمہارے مدھ بھرے ہونٹوں کا شکریہ بادہ کشی کی ساری حلاوت تمام شد ٹوٹی ہے آج سانس کی ڈوری تو یوں ہوا ان دیکھی منزلوں کی مسافت تمام شد بجھتے ہوئے چراغ کی صورت ہوا ہوں میں اک خوبرو وجود کی طاقت تمام شد اے بارگاہ حسن کوئی فیصلہ تو کر اس نا مراد عشق کی حجت تمام شد ارشدؔ مجھے تو غیب سے آتی ہے اب صدا ابن تراب اب تری مہلت تمام شد

marte hue vajud ki hasrat tamaam-shud

غزل · Ghazal

زاد رہ لے کے یادوں کی تنویر میں گمشدہ راستوں کا ہوں راہگیر میں اس سے کہہ دو کہ لے جائے آنکھیں مری اس کی دل میں سنبھالوں گا تصویر میں گاؤں اجڑا ہوا پھر سے آباد ہو اک حویلی کروں ایسی تعمیر میں کوئی بتلائے بھی کیا خطا ہے مری کس لیے سہہ رہا ہوں یوں تعزیر میں مجھ کو دی ہے امانت میاں قیس نے عشق تیری بڑھاؤں گا توقیر میں میرے اپنے ہیں شامل صف دشمناں کیسے ارشدؔ اٹھاؤں گا شمشیر میں

zaad-e-rah le ke yaadon ki tanvir main

غزل · Ghazal

طاری رہے گا سوچ پہ وحشت کا بھوت کیا ٹوٹے گا کسی طور یہ شب کا سکوت کیا پڑتی نہیں ہے آنکھ کے ساحل پہ سرخ دھوپ کرتا میں آرزوؤں کے لاشے حنوط کیا تم نے کہا تو زہر بھی پینا پڑا مجھے اب اس سے بڑھ کے دوں تمہیں سچ کا ثبوت کیا کیسے کپاس کے لیے گندم کو چھوڑ دوں مٹتی نہیں ہے بھوک تو کاتوں میں سوت کیا میری نظر بھی طالب دیدار ہیر ہے ملنا پڑے گا جسم پہ مجھ کو بھبوت کیا ارشدؔ ہمارے ہاتھ سے پھسلے گی ایک دن پہلے بچا سکا کوئی سانسوں کی ہوت کیا

taari rahegaa soch pe vahshat kaa bhuut kyaa

غزل · Ghazal

زمیں کی کوکھ سے پہلے شجر نکالتا ہے وہ اس کے بعد پرندوں کے پر نکالتا ہے شب سیاہ میں جگنو بھی اک غنیمت ہے ذرا سا حوصلہ اندر کا ڈر نکالتا ہے کہ بوڑھے پیڑ کے تیور بدلنے لگتے ہیں کہیں جو گھاس کا تنکا بھی سر نکالتا ہے پھر اس کے بعد ہی دیتا ہے کام کی اجرت ہمارے خون سے پہلے وہ زر نکالتا ہے وظیفہ تجھ کو بتاتا ہوں ایک چاہت کا جو قصر ذات سے نفرت کا شر نکالتا ہے کہانی لکھتا ہے ایسے کہ اس کا ہر کردار نکلنا کوئی نہ چاہے مگر نکالتا ہے میں ایسے شخص سے ارشدؔ گریز کیسے کروں فصیل دل میں جو دستک سے در نکالتا ہے

zamin ki kokh se pahle shajar nikaaltaa hai

غزل · Ghazal

کٹتے ہی ڈور سانس کی نام و نمود خاک ہونا ہے ایک روز یہ قصر وجود خاک ٹوٹا کسی کا دل جو گرا دوسری طرف میزان میں پڑا ترا رخت سجود خاک تجسیم کر رہا ہے وہ دست کمال سے آتش پرست دہریے مسلم ہنود خاک اس محفل طرب میں نہیں چاشنی کوئی دل میں رمق نہ ہو اگر بزم سرود خاک بڑھنے لگے ہیں چار سو رسموں کے دائرے ٹھوکر لگا کے پاؤں کی کر دوں قیود خاک یہ قوم ان ہی راستوں پہ چل پڑی ہے پھر جن پر ہوئیں تھیں ایک دن عاد و ثمود خاک سینے میں کوئی آگ ہے ارشدؔ لگی ہوئی ورنہ ہماری آنکھ سے اٹھتا یہ دود خاک

kaTte hi Dor saans ki naam-o-numud khaak

غزل · Ghazal

کہیں تو پھینک ہی دیں گے یہ بار سانسوں کا اٹھائے بوجھ جو پھرتے ہیں یار سانسوں کا انا غرور تکبر حیات کچھ بھی نہیں کہ سارا کھیل ہے پیارے یہ چار سانسوں کا چلو یہ زندگی زندہ دلی سے جیتے ہیں بڑھے گا اس طرح کچھ تو وقار سانسوں کا گلابی ہونٹ وہ ہونٹوں پہ رکھ کے کہتی تھی سدا رہے گا یہ تجھ پر خمار سانسوں کا بڑے قریب سے گزری ہے موت چھو کے تجھے جو ہو سکے کوئی صدقہ اتار سانسوں کا ہوا یہ وجد میں آ کر دیے سے کہنے لگی کہ اب تو سہہ نہیں پائے گا وار سانسوں کا ہم اس کو زندگی سمجھیں تو کس طرح ارشدؔ کسی کے ہاتھ میں ہے اختیار سانسوں کا

kahin to pheink hi deinge ye baar saanson kaa

Similar Poets