SHAWORDS
Arshad Meena Nagri

Arshad Meena Nagri

Arshad Meena Nagri

Arshad Meena Nagri

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

bach nikalnaa kyaa ikhtiyaar mein hai

بچ نکلنا کیا اختیار میں ہے زندگی موت کے حصار میں ہے آرزو اور میرے دل کی بساط ایک شعلہ سا ریگ زار میں ہے کتنے سورج نگل گئی ظلمت آس کا دیپ کس شمار میں ہے جو خزاں میں بھی مل نہیں سکتی وہ اداسی بھری بہار میں ہے نفرتوں کو بھی جس سے نفرت ہو ایسی نفرت تمہارے پیار میں ہے بے قراری میں تھا قرار مگر آج تو بیکلی قرار میں ہے حوصلوں کی نگاہ سے دیکھو کامرانی کا راز ہار میں ہے وہ بھی تم نے دیا نہیں ہم کو جو تمہارے ہی اختیار میں ہے نا مرادی کی حد ہے یہ ارشدؔ جیت بھی اپنی آج ہار میں ہے

غزل · Ghazal

sabr kar dil-e-naadaan kis liye tu rotaa hai

صبر کر دل ناداں کس لئے تو روتا ہے بے وفا زمانے میں کون کس کا ہوتا ہے جس کو میں نے بخشے ہیں پھول شادمانی کے اب وہی مرے دل میں خار غم چبھوتا ہے نا مراد اشکوں سے تر تو ہو گیا دامن ہاں مگر لہو دل کا دل کے زخم دھوتا ہے کارگاہ ہستی میں مطمئن نہیں کوئی دیکھ کر ہر اک صورت آئنہ بھی روتا ہے وقت یوں اتر آیا ظلم کے طریقے پر روز خون انساں سے آستیں بھگوتا ہے جو بھی ایماں رکھتا ہے مصلحت پرستی پر گلشن محبت میں غم کے بیج بوتا ہے آئنہ حقیقت کا رکھ کے سامنے دیکھے آدمی زمانے میں خود وقار کھوتا ہے اس قدر بڑھی ارشدؔ زندگی کی حیرانی آج کل ہر اک انساں روتے روتے سوتا ہے

غزل · Ghazal

husn-e-taaza kanval ke jaisaa hai

حسن تازہ کنول کے جیسا ہے اور چہرہ غزل کے جیسا ہے رنگ ٹوٹی ہوئی جوانی کا ایک اجڑے محل کے جیسا ہے اہل محنت کی محنتوں کا صلہ آج مٹی کے پھل کے جیسا ہے ظلم پر آہ بھی نہیں کرتے اپنا جینا اجل کے جیسا ہے وہ زمانہ تھا امن کا دشمن یہ زمانہ بھی کل کے جیسا ہے کام ہوتا ہے بات پر اس کی عزم اس کا عمل کے جیسا ہے اپنے ماحول کی غلاظت میں وہ شگفتہ کنول کے جیسا ہے آج کے رہبروں کا ہر وعدہ دیکھنا گزرے پل کے جیسا ہے ملک میں کیا فسادیوں کا حل آج کینسر کے حل کے جیسا ہے میری الجھن کا سلسلہ شاید تیری زلفوں کے بل کے جیسا ہے کس کو منزل ملے گی اے ارشدؔ عزم کس کا عمل کے جیسا ہے

غزل · Ghazal

us ke rukhsaar shabnami jaise

اس کے رخسار شبنمی جیسے روشنی پر ہے روشنی جیسے کون یہ بے نقاب آیا ہے رک گئی چاند کی ہنسی جیسے ان کے عہد شباب کا منظر گلستاں پر شگفتگی جیسے ان کا چہرہ ہنسی کے عالم میں پھول پر برق گر گئی جیسے ان کا انداز گفتگو ایسا آبشاروں کی نغمگی جیسے ان کا عہد شباب اے ارشدؔ میری رنگین شاعری جیسے

غزل · Ghazal

ab ke to gulistaan mein vo daur-e-bahaar aayaa

اب کے تو گلستاں میں وہ دور بہار آیا پھولوں پہ اداسی ہے کانٹوں پہ نکھار آیا وہ اپنے مقدر پہ روتا ہی رہا برسوں اوروں کا مقدر جو پل بھر میں سنوار آیا کیا چال چلی تو نے کیا جال بچھایا ہے صیاد مبارک ہو گھر بیٹھے شکار آیا جس جیت کی خاطر میں بیدار رہا اب تک اک لمحہ کی غفلت میں وہ جیت بھی ہار آیا دیوانگئ دل کا کیا عرض کروں عالم میں درد کے صحرا میں خود کو ہی پکار آیا ہر حال میں ہے مجھ کو منظور خوشی ان کی رسوائی ہوئی میری ان کو تو قرار آیا افلاس میں گھٹ گھٹ کر دم توڑ دیا جس نے آج اس پہ زمانے کی نفرت کو بھی پیار آیا سچ کہتا ہوں میں ارشدؔ ایسا بھی ہوا اکثر خود اپنی مسرت پہ رویا تو قرار آیا

غزل · Ghazal

vo mile bhi to ajnabi jaise

وہ ملے بھی تو اجنبی جیسے مجھ کو دیکھا نہیں کبھی جیسے جی رہا ہے جو صرف جینے کو موت ہے اس کی زندگی جیسے علم شامل ہے ہر جہالت میں ہے اندھیرا یہ روشنی جیسے اس قدر زعم چند سانسوں پر خود خدا ہے یہ آدمی جیسے آج تک بھی ملی نہیں منزل میری رہبر ہے گمرہی جیسے دشمنوں کا بھی ساتھ دیتا ہوں مجھ کو ہے خود سے دشمنی جیسے یہ بھی دن کٹ ہی جائے گا ارشدؔ کٹ گئی غم کی رات بھی جیسے

Similar Poets