SHAWORDS
Arshad Nadeem Arshad

Arshad Nadeem Arshad

Arshad Nadeem Arshad

Arshad Nadeem Arshad

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

hidaayat-kaar bhi sahme hue hain

ہدایت کار بھی سہمے ہوئے ہیں ادھر کردار بھی سہمے ہوئے ہیں کریں اب ختم کیسے یہ کہانی کہانی کار بھی سہمے ہوئے ہیں عجب وحشت مسلط ہے وطن میں در و دیوار بھی سہمے ہوئے ہیں یہاں سوچوں پہ بھی پہرہ لگا ہے یہاں افکار بھی سہمے ہوئے ہیں ہوائیں رخ بدلتی جا رہی ہیں گھنے اشجار بھی سہمے ہوئے ہیں چمن میں پھول ہی خائف نہیں ہیں یہاں تو خار بھی سہمے ہوئے ہیں مسلط خوف ارشدؔ ہر طرف ہے مرے سب یار بھی سہمے ہوئے ہیں

غزل · Ghazal

tumhaare baankpan ki sab adaaein raqs karti hain

تمہارے بانکپن کی سب ادائیں رقص کرتی ہیں تمہارا نام لیتا ہوں صدائیں رقص کرتی ہیں یہ کیسی دشمنی اشجار سے پالی ہواؤں نے شجر جب کوئی گرتا ہے ہوائیں رقص کرتی ہیں ترے انصاف پر حیران ہے چشم فلک منصف کہ تو جب بھی سناتا ہے سزائیں رقص کرتی ہیں ذرا پھولوں کو دیکھو تو قبا کی آڑ لیتے ہیں مگر جب تتلیاں چھو لیں قبائیں رقص کرتی ہیں اتارا جب سے تیرے نام کا تعویذ ہے در سے بلا خوف و خطر گھر میں بلائیں رقص کرتی ہیں یہ کیسا دور جدت ہے کہ بہنیں بیٹیاں اس میں سروں سے کھینچ کر اپنی ردائیں رقص کرتی ہیں ترے طرز تغافل کا اثر ہے یہ کہ اب مجھ پر وفائیں خندہ زن ہیں اور جفائیں رقص کرتی ہیں ترے گیسو کھلے جب سے فضا ہے مشکبو تب سے بجاتا ساز ہے ساون گھٹائیں رقص کرتی ہیں ہمارے دیس میں ہیں پتلیاں مسند نشیں ارشدؔ انہیں پردہ نشیں جب بھی ہلائیں رقص کرتی ہیں

غزل · Ghazal

baDaa dilchasp yaaro haadisa hai

بڑا دلچسپ یارو حادثہ ہے مداری خود تماشا بن گیا ہے سبھی دم سادھ کر بیٹھے ہوئے ہیں کہانی کو کہاں روکا ہوا ہے کیا عجلت میں جو ترک تعلق بڑا ہی نا مناسب فیصلہ ہے جہاں وحشت نصاب زندگی ہو وہاں درس محبت معجزہ ہے میں اپنے خواب رکھوں تو کہاں پر مری آنکھوں میں ٹھہرا رت جگا ہے وہاں پر رس بھرے ہیں پھول شاید جہاں پر تتلیوں کا جمگھٹا ہے اگرچہ لوگ بڑھتے جا رہے ہیں مگر انسان تنہا ہو رہا ہے جسے اک چیخ سمجھے لوگ ارشدؔ گھٹن کے بعد کا وہ قہقہہ ہے

غزل · Ghazal

'ishq thaa main thaa shabistaan thaa junun se pahle

عشق تھا میں تھا شبستاں تھا جنوں سے پہلے یوں کہاں چاک گریباں تھا جنوں سے پہلے اب مجھے شہر نگاراں کی طرح لگتا ہے میں تو اس دشت سے نالاں تھا جنوں سے پہلے سرخ رو ہو گئے عشاق کٹا کر سر کو ورنہ ہر ایک پشیماں تھا جنوں سے پہلے حق کے عرفان سے آباد ہوا ہے ورنہ دل مرا شہر خموشاں تھا جنوں سے پہلے وہ مرے ساتھ کا ارشدؔ ہے تمنائی اب قیس بھی مجھ سے گریزاں تھا جنوں سے پہلے

غزل · Ghazal

is se pahle ki tiri mujh pe 'ataa ho jaae

اس سے پہلے کہ تری مجھ پہ عطا ہو جائے یہ بھی ممکن ہے کوئی مجھ سے خطا ہو جائے مجھ کو اس وصل کے لالچ سے بچا کر رکھنا ہو نہ ایسا کہ مرا عشق فنا ہو جائے بات ایسی نہ کہو تلخ کہ میرے دل کا مندمل زخم کوئی پھر سے ہرا ہو جائے گر ترا دست مسیحائی میسر ہو مجھے دم آخر ہی سہی مجھ کو شفا ہو جائے اس جگہ ہار یزیدوں کا مقدر ہوتی میں نے دیکھا ہے جہاں کرب و بلا ہو جائے ایک مدت سے میں چپ چاپ پڑا ہوں اب تو اے حسیں شخص مجھے اذن نوا ہو جائے خوف آتا ہے بڑا حبس کی شدت سے مجھے ہو نہ ایسا کوئی طوفان کھڑا ہو جائے جتنی شدت سے اسے چاہا ہے میں نے ارشدؔ عین ممکن ہے کہ وہ شخص خدا ہو جائے

غزل · Ghazal

khatm ho jaaein na ye saari rivaayaat kahin

ختم ہو جائیں نہ یہ ساری روایات کہیں شہر کھا جائیں نہ سارے ہی مضافات کہیں لوگ سوتے ہی نہیں خواب بھلا کیا دیکھیں کیونکہ اب شہر میں ہوتی ہی نہیں رات کہیں ڈائری سوکھے ہوئے پھول کتابیں آنسو گھر میں رکھی ہیں سبھی ہجر کی سوغات کہیں جھانک کر دیکھ کبھی دل کے بھی آنگن میں جہاں منتظر آنکھیں تو رکھی ہیں شکایات کہیں عین ممکن ہے لگے پھر سے کوئی زخم نیا یار بیٹھے ہیں لگائے ہوئے پھر گھات کہیں چھوڑ آیا تھا ترا شہر جنوں سے پہلے پھر نہ لے آئیں وہیں پر مرے حالات کہیں

Similar Poets