SHAWORDS
Arshi Bastavi

Arshi Bastavi

Arshi Bastavi

Arshi Bastavi

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

dil masarrat se ham-kanaar nahin

دل مسرت سے ہمکنار نہیں موسم گل بھی سازگار نہیں کیسے کہہ دوں بہار آئی ہے غنچہ و گل پہ جب نکھار نہیں میرے عصیاں کا ہے شمار مگر رحمتوں کا تری شمار نہیں میں فرشتہ نہیں ہوں انساں ہوں کہہ دوں کیونکر گناہ گار نہیں خود پرستوں کے شہر میں عرشیؔ کیا کوئی تیرا غم گسار نہیں

غزل · Ghazal

adhuraa 'ilm rakh kar khud ko jo kaamil samajhte hain

ادھورا علم رکھ کر خود کو جو کامل سمجھتے ہیں سفر میں میل کے پتھر کو وہ منزل سمجھتے ہیں جو خود کو احمقوں کی بزم میں عاقل سمجھتے ہیں ہم ایسے بے شعوروں کو فقط جاہل سمجھتے ہیں محبت سے کرے جو بات میں ہو جاتا ہوں اس کا بہت آساں ہوں جانے آپ کیوں مشکل سمجھتے ہیں ادب خود اپنی آنکھوں کا کیا ہے اس لئے ہم نے حسیں چہرہ تمہارا دید کے قابل سمجھتے ہیں کسی بھی پل ہمیں یہ چین سے جینے نہیں دیتا ترے گالوں کے تل کو اپنا ہم قاتل سمجھتے ہیں کسی کی خوش مزاجی اس کا غم ظاہر نہیں کرتی سمندر کتنا پیاسا ہے فقط ساحل سمجھتے ہیں سزا مظلوم کو دیتے ہیں ظالم چھوٹ جاتا ہے ہم ایسے منصفوں کو عدل کا قاتل سمجھتے ہیں شجاعت کا ہماری سلسلہ تو کربلا تک ہے کہ ہم مشکل کشا والے کہاں مشکل سمجھتے ہیں تقابل مت کرو عرشیؔ ہمارا ایسے لوگوں سے جو بزدل ہیں ہمیں اپنی طرح بزدل سمجھتے ہیں

غزل · Ghazal

bazm-e-'aalam ke raaz-daan hain ham

بزم عالم کے رازداں ہیں ہم یعنی آئینۂ جہاں ہیں ہم باغ اردو کے باغباں ہیں ہم لفظ و معنی کے ترجماں ہیں ہم ہم سے قائم ہیں حسن کی قدریں عشق کی گرد کارواں ہیں ہم جس سے واقف نہ ہو سکی دنیا اس محبت کی داستاں ہیں ہم ہم زمیں بوس تم فلک انداز تم کہاں پر ہو اور کہاں ہیں ہم جو بھی کہنا ہے آج کہہ لو تم کیونکہ اس وقت بے زباں ہیں ہم پر فتن دور میں بھی اے عرشیؔ راہ حق پر رواں دواں ہیں ہم

غزل · Ghazal

maayus na ho ai dil-e-naakaam kisi din

مایوس نہ ہو اے دل ناکام کسی دن مل جائے گا نیکی کا ترے دام کسی دن امید یہ وابستہ ہے فرمان خدا سے ملنا ہے ہمیں صبر کا انعام کسی دن اس شہر ستمگر میں یہ اعلان کرا دو اعمال کا سب پائیں گے انجام کسی دن ہم صبر و تحمل کے ہی سائے میں پلے ہیں تھک جائے گی تو گردش ایام کسی دن اے برق تری زد پہ ہو تعمیر نشیمن کر جائیں گے ہم بھی یہ بڑا کام کسی دن منزل بھی ترے قدموں کو چومے گی یقیناً تو باندھ لے گر عزم کا احرام کسی دن مدت سے تری صورت زیبا نہیں دیکھی قسمت سے جو آ جاتے لب بام کسی دن راہوں میں پھرا کرتے ہیں الفت کے لٹیرے لٹ جاؤ کہیں تم نہ سر عام کسی دن اے زیست ترے تحفۂ آلام و محن سے مل جائے گا عرشیؔ کو بھی آرام کسی دن

غزل · Ghazal

guzarte lamhe ye ranj-o-malaal hi ke to hain

گزرتے لمحے یہ رنج و ملال ہی کے تو ہیں عطا کئے ہوئے اہل و عیال ہی کے تو ہیں تمھارے کوچے میں ہر سمت رقص بسمل ہے یہ سب کرشمے تمھارے جمال ہی کے تو ہیں یہ بکھرے بال یہ چاک گریباں اور آہیں یہ حال عشق میں تیرے کمال ہی کے تو ہیں عبث ہے آرزو کرنا تمھارے پانے کی یہ ولولے مرے خواب و خیال ہی کے تو ہیں خلوص پیار محبت وفائیں اے عرشیؔ یہ چند لفظ تمہاری مثال ہی کے تو ہیں

غزل · Ghazal

jis ko samjhe the masihaa vo sitamgar niklaa

جس کو سمجھے تھے مسیحا وہ ستم گر نکلا تیر جوڑے ہوئے تانے ہوئے خنجر نکلا بال بکھرے ہوئے نم آنکھ لبوں پر آہیں میرے نزدیک سے وہ یوں سر محشر نکلا شام فرقت جو تری یاد میں ٹپکا تھا کبھی قطرہ قطرہ مرے اس اشک کا گوہر نکلا آپ نے روئے منور سے جو سرکایا نقاب گویا ظلمت میں کوئی نور کا پیکر نکلا وہ گدا ہو یا تونگر یہی دیکھا ہم نے جو بھی نکلا ترے دربار سے بن کر نکلا گھومتا پھرتا تھا جو ہاتھوں میں کشکول لئے آج وہ عرشیؔ مقدر کا سکندر نکلا

Similar Poets