
Arvind Sharma Azaan
Arvind Sharma Azaan
Arvind Sharma Azaan
Ghazalغزل
تڑپ حیات میں باہم رہے تو بات بنے خوشی کے ساتھ اگر غم رہے تو بات بنے سجا کے دیکھ لو محفل ہزار رنگوں سے تمہارے ساتھ اگر ہم رہے تو بات بنے یہ مانا کہ مجھے رونے کا کچھ شعور نہیں مگر یہ آنکھ ذرا نم رہے تو بات بنے تمہارے لمس میں چارہ گری سہی لیکن تمہارے ہاتھ میں مرہم رہے تو بات بنے انا پسند بلندی پہ آ کے بھول گئے اگر کمان ذرا خم رہے تو بات بنے ذرا سا تلخ ہو لہجہ تو کوئی بات نہیں اگرچہ لفظ ملائم رہے تو بات بنے مری نگاہ کہاں تک جواب دے گی اذانؔ تری نگاہ یہ مبہم رہے تو بات بنے
taDap hayaat mein baaham rahe to baat bane
کتاب زیست کا دھندلا کور اتارتے ہیں اب اس مقام پہ گرد سفر اتارتے ہیں خزاں کا جو بھی ہوا تھا اثر اتارتے ہیں چمن کے پھول چمن کی نظر اتارتے ہیں دکھائیں کیسے مناظر افق کے آنکھوں کو چلو زمین پہ شمس و قمر اتارتے ہیں لہو میں اترا ہے آسیب اس لیے ہم اب لہو نچوڑ کے ہر ایک شر اتارتے ہیں اک آسمان جسے کہہ رہے ہیں لوگ ابھی کہیں گے کیا وہ زمیں پر اگر اتارتے ہیں اگر کہ خواب کی تعبیر دیکھنی ہو ہمیں تو پہلے آنکھ سے سارے بھنور اتارتے ہیں غم جہان غم یار دو کنارے ہیں تو دیکھیے یہ تھپیڑے کدھر اتارتے ہیں خود اپنے ہونے سے انکار کر دیا ہم نے یوں اپنے ہونے کا اس دل سے ڈر اتارتے ہیں پھر ایک دن مجھے تجسیم کر کے بولا اذانؔ ہم اپنے فن میں فقط با ہنر اتارتے ہیں
kitaab-e-zist kaa dhundlaa cover utaarte hain
سفر کروں تو برابر دکھائی دیتا ہے نظر سے دور ہوا گھر دکھائی دیتا ہے کھلی نگاہ سے دنیا کو تو نے دیکھا نہیں کھلی نگاہ سے بہتر دکھائی دیتا ہے وہ شخص جس نے مہیا کرائی چھت مجھ کو سلگتی دھوپ میں اکثر دکھائی دیتا ہے بسا ہوا ہے مرے ذہن میں وہ مثل محل تمہیں جو گھر ابھی کھنڈر دکھائی دیتا ہے تلاش دوست میں یہ مسئلہ عجب آیا صف عدو میں بھی رہبر دکھائی دیتا ہے مخالفت ہو اگر دل میں یا ہو تنگ نظر تو ماہتاب بھی پتھر دکھائی دیتا ہے تو کیا یہ مان لوں دھوکا نظر کا ہے یہ اذانؔ وہ سامنے تو نہیں پر دکھائی دیتا ہے
safar karun to baraabar dikhaai detaa hai
شدت سے میں نے خود کو ابھارا زمین پر سایا مگر بنا ہے تمہارا زمین پر آ کر وہ اس طرح مری باہوں میں گر گیا گرتا ہے جیسے ٹوٹ کے تارہ زمین پر رنگ بہار اب کے خزاں لے کے اڑ گئی چھوڑا نہیں ہے کوئی نظارا زمین پر دیکھا زمین پر تو نگاہیں جھلس اٹھیں عکس بدن ہے تیرا شرارہ زمین پر وحشت نے آسمان پہ مجھ کو بٹھا دیا خودداریوں نے پھر سے اتارا زمین پر لکھ لکھ کے پھینک ڈالے ہیں تجھ کو ہزار خط یوں اپنے دل کا بوجھ اتارا زمین پر آنکھوں نے اشک یاس بہائے تو پی گئے کرنا پڑا ہے یوں بھی گزارا زمین پر خاموشیاں بھی چیخ رہی ہیں صداؤں میں مارا گیا ہے درد کا مارا زمین پر بادل تمام اب کے سمندر میں جا گرے یہ کس نے آنسوؤں کو پکارا زمین پر اک آشیاں فلک پہ بنائیں گے ہم اذانؔ جی تنگ آ گیا ہے ہمارا زمین پر
shiddat se main ne khud ko ubhaaraa zamin par
سچ سے جب ایمان اٹھانا پڑتا ہے پھر اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے سارے سپنے کرچی کرچی ٹوٹیں جب دل سے ہر ارمان اٹھانا پڑتا ہے صحرا کی جانب اڑتے ہیں اب بادل دریا کا احسان اٹھانا پڑتا ہے ہونٹوں سے جب نظم کے ٹکڑے گرتے ہیں آنکھوں سے عنوان اٹھانا پڑتا ہے وحشت بھی اپناتی ہے ہم جیسوں کو دل میں بس طوفان اٹھانا پڑتا ہے سچائی کی جیت کی خاطر اندھوں کو اب بار میزان اٹھانا پڑتا ہے خطرا تو ہے دل کی بات بتانے میں خطرا میری جان اٹھانا پڑتا ہے
sach se jab imaan uThaanaa paDtaa hai
اب تخیل میں ہی تصویر بنانی ہے مجھے یعنی تدبیر سے تقدیر بنانی ہے مجھے رزق کیسا ہے مقدر میں لکھا کیا ہے مرے کیا اسی فن سے ہی جاگیر بنانی ہے مجھے کتنی قاتل ہے تری آنکھیں پتا ہے تجھ کو تیری آنکھوں کو ہی شمشیر بنانی ہے مجھے تیری یادوں نے ہی توڑی ہے خموشی میری میں تو سمجھا تھا کہ زنجیر بنانی ہے مجھے جاگتی آنکھ سے اک خواب کوئی دیکھا تھا کیا اسی خواب کی تعبیر بنانی ہے مجھے
ab takhayyul mein hi tasvir banaani hai mujhe





