yahaan tak silsila pahunchaa hai us ki kam-bayaani kaa
vo nau bachchon ki maan hai phir bhi daa'vaa hai javaani kaa

Asad Jafri
Asad Jafri
Asad Jafri
Popular Shayari
4 totallaDaai mein na kaam aati hain taqrirein na takraarein
ki us ki ek aahaT se laraz jaati hain divaarein
muqaddar ne bhalaa ham se mazaaq aakhir kiyaa kyaa hai
khudaayaa jis khataa ki ye sazaa hai vo khataa kyaa hai
buaa kah kar pukaare jo use sau-sau sunaati hai
vo is piraana-saali mein bhi baaji kahlavaati hai
Ghazalغزل
خیال یار مجھے جب لہو رلانے لگا تو زخم زخم مرے دل کا مسکرانے لگا مجھے خود اپنی وفا پر بھی اعتماد نہیں میں کیوں تمہاری محبت کو آزمانے لگا کیا ہے یاد مجھے میرے بعد دنیا نے ہوا جو غرق تو ساحل قریب آنے لگا نہ چھین مجھ سے سرور شب فراق نہ چھین قرار دل کو نہ دستک کے تازیانے لگا مثال اپنی تو ہے اس درخت کی کہ جسے لگا جو سنگ تو بدلے میں پھل گرانے لگا ہر ایک سمت ریا کی تمازتیں ہیں اسدؔ جو ہو سکے تو محبت کے شامیانے لگا
khayaal yaar mujhe jab lahu rulaane lagaa
جب تک وہ شعلہ رو مرے پیش نظر نہ تھا میں آشنائے لذت سوز جگر نہ تھا اعزاز رنگ و بو سے نوازا گیا اسے جس گل کے سر پہ سایۂ شاخ شجر نہ تھا افسوس آپ سے نہ ہوا عزم التفات ورنہ مرا پہاڑ کی چوٹی پہ گھر نہ تھا جو آسماں کی جھیل میں چمکا تمام رات وہ تیرا عکس نقش قدم تھا قمر نہ تھا شبنم سے تر تھا میرے سرہانے کا سرخ پھول لیکن ابھی تو رات کا پچھلا پہر نہ تھا گزری ہے یوں اٹھائے ہوئے زندگی کا بوجھ جیسے میں کوئی پل کا ستوں تھا بشر نہ تھا
jab tak vo shoala-ru mire pesh-e-nazar na thaa
رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میرا کوئی سمجھ نہ سکا مقصد سفر میرا سکون روح ملا حلقۂ رسن میں مجھے وگرنہ بار گراں تھا بدن پہ سر میرا میں اپنے ہاتھ کے چھالے دکھاتا پھرتا ہوں دلائے کوئی مجھے حصۂ ثمر میرا ہر اک شجر ہے مرا یوں تو سارے جنگل میں عجب ستم ہے نہیں سایۂ شجر میرا کہو یہ ابر سے کیا فائدہ برسنے کا کہ اب تو جل بھی چکا ہے تمام گھر میرا اسی لیے مری منزل نہ مل سکی مجھ کو کہ میرے ساتھ اک رہزن تھا ہم سفر میرا
ravaan hai qaafila-e-justuju kidhar meraa
صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیں چند قطروں سے تو بحر بیکراں بنتا نہیں چار چھ پھولوں سے اپنے گھر کا گلدستہ سجا چار چھ پھولوں سے ہرگز گلستاں بنتا نہیں کارواں کا پاس ہے تجھ کو تو پانی پر نہ چل یہ وہ جادہ ہے جہاں کوئی نشاں بنتا نہیں بے سر و ساماں پرندو کاش تم یہ سوچتے کون سی شاخیں ہیں جن پر آشیاں بنتا نہیں کس قدر نا قابل ادراک ہے میری زباں کوئی اس بستی میں میرا ہم زباں بنتا نہیں
sirf kahne ko koi azmat-nishaan bantaa nahin
ششدر و حیران ہے جو بھی خریداروں میں ہے اک سکوت بے کراں ہر سمت بازاروں میں ہے نوبت قحط مسیحائی یہاں تک آ گئی کچھ دنوں سے آرزوئے مرگ بیماروں میں ہے وہ بھی کیا دن تھے کہ جب ہر وصف اک اعزاز تھا آج تو عظمت قباؤں اور دستاروں میں ہے اڑ رہے ہیں رنگ پھولوں کے فقط اس بات پر التفات فصل گل کا ذکر کیوں خاروں میں ہے اے مرے ناقد مرے اشعار کم پایہ سہی کم سے کم ابلاغ تو میرے سخن پاروں میں ہے بجھ نہیں سکتی کسی صورت ہوس کی تشنگی بحر بے پایاں بھی بارش کے طلب گاروں میں ہے خوبصورت شکل میں ہم سب درندے ہیں اسدؔ آدمی کہتے ہیں جس کو وہ ابھی غاروں میں ہے
shashdar-o-hairaan hai jo bhi kharidaaron mein hai
جاؤں کہاں شعور ہنر کس کے پاس ہے آنکھیں ہیں سب کے پاس نظر کس کے پاس ہے حد نظر میں منزل مقصود ہے مگر جائے گا کون رخت سفر کس کے پاس ہے زخموں میں ہو رہے ہیں اضافے نئے نئے لیکن نہیں خبر کہ تبر کس کے پاس ہے ہم ہیں بقول ان کے اگر تیرگی پسند پھر دوستو کلید سحر کس کے پاس ہے میں قامت شجر کا پجاری نہیں اسدؔ مجھ کو یہ دیکھنا ہے ثمر کس کے پاس ہے
jaaun kahaan shuur-e-hunar kis ke paas hai





