SHAWORDS
Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

سوچ کر مل ذرا توقف کر یوں نہ ہر ایک سے تعارف کر زندگی خرچ کرنے والے سن موت پر بھی تو کچھ تصرف کر دین انسانیت کے جوہر سے اے خدا ہم کو بھی مشرف کر حد میں رہ کر ہی بے تکلف ہو ہو نہ محسوس یوں تکلف کر جھوٹ گو کامران ہوتا ہے اپنے سچ پر نہ اب تأسف کر چھپ کے جو بیچتے ہیں ملت کو ایسے لوگوں پہ کھل کے تف تف کر ساری دنیا بدل رہی ہے اسدؔ اپنا تبدیل اب تعارف کر

soch kar mil zaraa tavaqquf kar

غزل · Ghazal

ہونٹوں پہ اس کے جنبش انکار بھی نہیں آنکھوں میں کوئی شوخیٔ اقرار بھی نہیں بستی میں کوئی مونس و غم خوار بھی نہیں غالبؔ کا ہائے کوئی طرف دار بھی نہیں کشتی بری طرح ہے بھنور میں پھنسی ہوئی لیکن ہمارے ہاتھ میں پتوار بھی نہیں ان کو سزائیں دی ہیں زمانے نے بارہا ملزم بھی جو نہیں ہیں گنہ گار بھی نہیں تحفہ عجب دیا ہے چمن کو بہار نے پھولوں کا ذکر کیا ہے کوئی خار بھی نہیں شاید تعلقات میں اب انجماد ہے پہلی سی بات بات پہ تکرار بھی نہیں شو پیس تو بنا دیا حالات نے اسدؔ کوئی مگر ہمارا خریدار بھی نہیں

honTon pe us ke jumbish-e-inkaar bhi nahin

غزل · Ghazal

راہیں دھواں دھواں ہیں سفر گرد گرد ہے یہ منزل مراد تو بس درد درد ہے اس موسم بہار میں اے باغباں بتا چہرہ ہر ایک پھول کا کیوں زرد زرد ہے اپنے پڑوسیوں کو بھی پہچانتا نہیں محصور اپنے خول میں اب فرد فرد ہے لفاظیوں کا گرم ہے بازار کس قدر دست عمل ہمارا مگر سرد سرد ہے کیسا تضاد شاخ تمنا میں ہے اسدؔ خود یہ ہری ہری ہے ثمر زرد زرد ہے

raahein dhuaan-dhuaan hain safar gard-gard hai

غزل · Ghazal

ایک بیوہ کی آس لگتی ہے زندگی کیوں اداس لگتی ہے ہر طرف چھائی گھور تاریکی روشنی کی اساس لگتی ہے پی رہا ہوں ہنوز اشک غم بحر غم کو بھی پیاس لگتی ہے لاکھ پہناؤ دوستی کی قبا دشمنی بے لباس لگتی ہے موت کے سامنے حیات اسدؔ صورت التماس لگتی ہے

ek beva ki aas lagti hai

غزل · Ghazal

کسی کسی کو ہی آتے ہیں راس افسانے ہمیں تو کرتے ہیں اکثر اداس افسانے نئے زمانے کے ان میں کئی اشارے ہیں بہت پرانے ہیں گو میرے پاس افسانے خوشی کے واسطے جس نے گلے لگایا انہیں اسی کو چھوڑ گئے محو یاس افسانے جنہیں شعور سے عاری قرار دیتے تھے وہی بنے ہیں قیافہ شناس افسانے لباس والے بھی پڑھتے ہیں ان کو چھپ چھپ کر جو میں نے لکھے ہیں کچھ بے لباس افسانے وہ ایک پیاسے نے خون جگر سے لکھے ہیں جو بن گئے ہیں سمندر کی پیاس افسانے وہ ایک پیاسے نے خون جگر سے لکھے ہیں جو بن گئے ہیں سمندر کی پیاس افسانے خیال و خواب کے قصے نہیں ہیں ان میں اسدؔ ہیں عہد نو کے حقیقت شناس افسانے

kisi kisi ko hi aate hain raas afsaane

غزل · Ghazal

سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گنجائش ہاتھوں میں نکلتی کیوں تلوار کی گنجائش پچھڑے ہوئے گاؤں کا شاید ہے وہ باشندہ جو شہر میں ڈھونڈے ہے ایثار کی گنجائش نفرت کی تعصب کی یوں رکھی گئیں اینٹیں پیدا ہوئی ذہنوں میں دیوار کی گنجائش پاکیزگی روحوں کی نیلام ہوئی جب سے جسموں میں نکل آئی بازار کی گنجائش اس طرح کھلے دل سے اقرار نہیں کرتے رکھ لیجئے تھوڑی سی انکار کی گنجائش گر عزم مصمم ہو اور جہد مسلسل بھی صحرا میں نکل آئے گلزار کی گنجائش سمجھیں کہ نہ سمجھیں وہ ہم نے تو اسدؔ رکھ دی اشعار کے ہونٹوں پہ اظہار کی گنجائش

sinon mein agar hoti kuchh pyaar ki gunjaaish

Similar Poets