SHAWORDS
Aseem Amganvi

Aseem Amganvi

Aseem Amganvi

Aseem Amganvi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

کسی سے اب کوئی ملنے کسی کے گھر نہیں جاتا مری آنکھوں سے گزرے وقت کا منظر نہیں جاتا بہت مغرور تھا انسان خود اپنی ترقی پر قیامت آئی یہ کیسی کوئی باہر نہیں جاتا ہوا کا رخ جدھر بھی ہے چراغوں کو ادھر رکھ لو ہو جن میں حوصلہ ان کو کوئی چھو کر نہیں جاتا زمانہ واقعی بدلا ہوا لگتا ہے اب مجھ کو یہاں انسان اب تو چار کاندھوں پر نہیں جاتا ترے دربار میں ہوتا ہے ہر اک فیصلہ مولیٰ عدالت میں تبھی تو مسئلہ لے کر نہیں جاتا بہت مشکل ہے دہشت اور نفرت کو بڑھا دینا سیاست کی زباں سے جب تلک نشتر نہیں جاتا ہو جب دل آزما لینا مرے صبر و تحمل کو تمہارے ظلم کے خنجر سے اب میں ڈر نہیں جاتا حکومت اپنی آنکھوں پر پہنتی حق کا چشمہ جو تمہاری بات بھی رہتی ہمارا سر نہیں جاتا

kisi se ab koi milne kisi ke ghar nahin jaataa

غزل · Ghazal

یہ ستم خود پہ ہی ڈھایا ہم نے دل جو پتھر سے لگایا ہم نے اس کی تصویر سے باتیں کر کے دل کی دوری کو مٹایا ہم نے کھل گئے راز تو احساس ہوا سانپ کو دودھ پلایا ہم نے ہم سے نظریں نہ ملا سکتا تھا اس کو کاندھے پہ بٹھایا ہم نے قید تھا چاند پرندوں جیسا توڑ زنجیر اڑایا ہم نے آئنہ دیکھ کے محسوس ہوا خواب بے وقت سجایا ہم نے گھر کی دیوار صدا دیتی ہے اور دنیا کو بلایا ہم نے خون کا پیاسا جو کل تک تھا اثیمؔ اس کو سینے سے لگایا ہم نے

ye sitam khud pe hi Dhaayaa ham ne

غزل · Ghazal

تھوڑی رسوائی بھی تو عشق کے اظہار میں ہو ہو جو تکرار تو کچھ لطف بھی تکرار میں ہو جانچ لو نبض ذرا دفن سے پہلے کیوں کہ وہ اداکار ہے شاید کسی کردار میں ہو اس لئے لوگ دھواں دیکھنے کو جاتے ہیں ہے یقیں آگ کا سچ کل کسی اخبار میں ہو کاش یہ شہر مری جیب کا رکھ لیتا بھرم جو مجھے چاہیئے کم دام میں بازار میں ہو ان شریفوں پہ لگا لیں کئی الزام مگر کوئی بے داغ مگر آپ کی سرکار میں ہو سخت گردن بھی کٹے اور نہ محسوس ہو درد یہ ہنر بھی تو کسی ہاتھ کی تلوار میں ہو کون آئے گا مصیبت میں حفاظت کے لیے کوئی انساں تو بھروسے کا نگہ دار میں ہو مانگ لے جان بھی الفت میں تو میں دے دوں گا شرط ہے دل کو سکوں یار کے دیدار میں ہو عیب دنیا کے سلیقے سے بتائے سب کو حوصلہ اتنا اثیمؔ آج کے فنکار میں ہو

thoDi rusvaai bhi to 'ishq ke izhaar mein ho

غزل · Ghazal

یہ ترک ختم ہو گیا گزری صدی کے ساتھ ملتے نہیں ہیں دوست کبھی دشمنی کے ساتھ فرمان سچ کو جھوٹ مجھے بولنے کا تھا لیکن دکھایا آئنہ زندہ دلی کے ساتھ دنیا بدل رہی ہے یہی سن رہے ہیں ہم کیا اس لئے ہی رہتے نہیں سادگی کے ساتھ بچوں کو ٹوکنے کا زمانہ نہیں رہا ماں باپ جی رہے ہیں بڑی بے بسی کے ساتھ سورج کی روشنی میں چراغوں کو رکھ دیا یہ امتحان خوب ہوا مفلسی کے ساتھ بے باک بولنے کا یہ انعام مل گیا گزری تمام عمر مری بے رخی کے ساتھ کہنے کو کان سب کے ہیں سنتا نہیں کوئی ایسے میں سن رہے ہیں مجھے خامشی کے ساتھ

ye tark khatm ho gayaa guzri sadi ke saath

غزل · Ghazal

غیر دشمن بھی وفادار سمجھتے ہیں مجھے یہ مرے اپنے تو دیوار سمجھتے ہیں مجھے میرا کردار ہواؤں نے بدل ڈالا ہے میں ہوں معصوم گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے جیت کر جنگ شہیدوں میں ہوا نام اپنا پھر بھی کچھ لوگ تو غدار سمجھتے ہیں مجھے میں وہ انساں ہوں جو سجدے میں جھکاتا ہوں سر اور وہ خلعت کا طلب گار سمجھتے ہیں مجھے اتنا بیمار ہوں میں سوچ نہیں سکتا ہوں کتنے ناداں ہیں سمجھدار سمجھتے ہیں مجھے بکنے والے کی یہ بازار کریں طے قیمت کیوں جہاں والے خریدار سمجھتے ہیں مجھے ان اندھیروں سا ہی قائم ہے بھرم ان کا بھی خود کے جیسا ہی جو مکار سمجھتے ہیں مجھے اب تو تکلیف ہی محسوس نہیں ہوتی ہے اس لئے آپ اداکار سمجھتے ہیں مجھے جب سے بدلے ہیں یہ حالات کے منظر میں نے تب سے احباب اثر دار سمجھتے ہیں مجھے

ghair dushman bhi vafaadaar samajhte hain mujhe

غزل · Ghazal

جو مجھے آزما کے نکلے ہیں پھر وہی سر جھکا کے نکلے ہیں ان سے امید کیا لگاؤں میں مجھ پہ جو مسکرا کے نکلے ہیں روشنی خوب دکھ رہی ہے ادھر کون گھر کو جلا کے نکلے ہیں موت سے کیوں ہمیں ڈراتے ہو زیست کی لو بجھا کے نکلے ہیں دور حاضر سے جو نہیں واقف بس وہی بچ بچا کے نکلے ہیں ہونے والے ہیں حادثے شاید اس لئے کھلکھلا کے نکلے ہیں بے نقاب آئنے نے جن کو کیا وہ سبھی تمتما کے نکلے ہیں

jo mujhe aazmaa ke nikle hain

Similar Poets