
Aseer Jabalpuri
Aseer Jabalpuri
Aseer Jabalpuri
Ghazalغزل
aankhon ko aansuon se mohabbat hai kyaa karun
آنکھوں کو آنسوؤں سے محبت ہے کیا کروں دل پر تمہارے غم کی حکومت ہے کیا کروں شیشوں کا ہے مکان کہ حیرانیوں کا گھر صورت ہر ایک تیری ہی صورت ہے کیا کروں ہو کر کبھی ادھر سے گزرتی نہیں بہار میرے چمن کو تیری ضرورت ہے کیا کروں اک پل بھی جیسے سیکڑوں صدیاں ترے بغیر ہر سانس جیسے ایک قیامت ہے کیا کروں جینے ہی دے اسیرؔ نہ مرنے ہی دے مجھے اک تیر نیم کش کی عنایت ہے کیا کروں
zindagi jaisi bhi haalat mein jahaan guzri hai
زندگی جیسی بھی حالت میں جہاں گزری ہے تیرے ہم راہ نہ ہونے سے گراں گزری ہے آگ بھڑکے گی گلستاں میں دھواں پھیلے گا پھر نشیمن سے ترے برق تپاں گزری ہے دل کی گہرائی کا اندازہ تجھے کیا ہوگا کب ترے سر سے کوئی موج رواں گزری ہے اف یہ ایام ضعیفی کے سسکتے لمحے ہائے وہ دور کہ جب عمر جواں گزری ہے کوئی بتلا دے اسیرؔ ان کو انہی کی گلیاں پوچھتے ہیں کہ تری عمر کہاں گزری ہے
phulon kaa khayaal aae to lagtaa hai ki tum ho
پھولوں کا خیال آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو تاروں پہ نظر جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو گھنگھور گھٹاؤں کے جھمیلوں میں اچانک بجلی کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو ممتا کی حسیں بانہہ میں سویا ہوا معصوم خوابوں میں جو مسکائے تو لگتا ہے کہ تم ہو چلتے ہوئے سنسان سی راہوں میں اکیلے پتا بھی کھڑک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو وہ دھن ہے تمہاری کہ زمانے میں کہیں بھی پائل کوئی چھنکائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
na aaeinge lauT kar vo phir bhi main umr bhar intizaar kar luun
نہ آئیں گے لوٹ کر وہ پھر بھی میں عمر بھر انتظار کر لوں ادھر تو آ اے غم محبت تجھے ہی جی بھر کے پیار کر لوں نہ جانے کب تک ڈھلے شب غم نہ جانے صبح امید کب ہو قدم قدم پر بچھا لوں تارے نفس نفس شعلہ بار کر لوں کبھی عیادت ہوئی نہ اس سے کبھی کسی سے نہ حال پوچھا مریض غم پر وہ مہرباں ہے یہ کیسے میں اعتبار کر لوں ابھی سلامت ہے عزم محکم ابھی ہے باقی لہو رگوں میں الٹ کے رکھ دوں نظام گلشن خزاں بہ رنگ بہار کر لوں ذرا ٹھہر اے جنون الفت تو لے چلا ہے کہاں ابھی سے متاع دل جب لٹا چکا ہوں تو جاں بھی ان پر نثار کر لوں یہیں بچھڑ کے میں رو پڑا تھا یہیں ہے بھیگا زمیں کا آنچل یہیں پھر اس سے ملن بھی ہوگا یہیں پہ میں انتظار کر لوں نہیں ہے باقی اگر پتنگے تو رہ کے تنہا اداس ہوگی لحد سے اٹھ کر اسیرؔ میں ہی طواف شمع مزار کر لوں
ham-navaa mere mujh se judaa ho gae
ہم نوا میرے مجھ سے جدا ہو گئے وہ خفا کیا ہوئے سب خفا ہو گئے حسن کا راز سر بستہ کھل جائے گا لالہ و گل اگر لب کشا ہو گئے آپ اپنے ہی جلوے تھے پیش نظر حسرتیں بڑھ گئیں آئنہ ہو گئے یہ مرا فن کہ میں نے تراشا جنہیں پتھروں کے وہ بت سب خدا ہو گئے جب سے محفل میں تم جان محفل ہوئے بے وفا سب کے سب با وفا ہو گئے کام آ ہی گیا اپنا دیوانہ پن لذت سنگ سے آشنا ہو گئے دی اسیرؔ اپنی آنکھوں میں جن کو جگہ شہر دل کے وہ فرماں روا ہو گئے
koi khushi na koi gham hai kyaa kiyaa jaae
کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے کہاں سے لائیے معصومیت فرشتوں سی گناہ فطرت آدم ہے کیا کیا جائے اسیرؔ خواب دکھایا گیا تھا جنت کا گلی گلی میں جہنم ہے کیا کیا جائے





