
Asghar Jurat
Asghar Jurat
Asghar Jurat
Ghazalغزل
یار لوگوں کا محبت میں جو معیار گرا یوں لگا مجھ کو میں خود ہی سر بازار گرا رکھ دیا یار نے فوراً سے اٹھا کر پھر سے میری تصویر سے جس وقت بھی وہ ہار گرا جنگجو اس کے سبھی بھاگ گئے جیسے ہی کھا کے اک تیر عدو قافلہ سالار گرا بخت خوابیدہ ازل سے ہے سو اس کی خاطر اس قدر اشک نہ اے دیدۂ بے دار گرا مجھ سے بے ننگ سے ملنے کی نہیں کر خواہش اس قدر خود کو نہ اے صاحب دستار گرا ایک ناکامی سے گھبرا نہیں کچھ مجھ سے سیکھ ہار مانی نہیں گرچہ میں لگاتار گرا عالم ضبط تو دیکھو کہ وہ جب چھوڑ گیا ایک آنسو بھی نہ اصغرؔ سر رخسار گرا
yaar logon kaa mohabbat mein jo me'yaar giraa
سیاہی پھینک کے تصویر پر ہماری وہ لگا گئی ہے مقدر پہ ضرب کاری وہ جو چند گھونٹ سے حالت ہوئی ہے اب تیری ہمیشہ ہم پہ رہی کیفیت ہے طاری وہ حسین خواب تھا دیکھا مگر یہ یاد نہیں کھلا گلاب تھا یا شکل تھی تمہاری وہ ہمارے رشک گلستاں نے پھر سے واں جا کر گلوں کی باغ میں عزت ہے پھر اتاری وہ جنوں پہ اس کے تو مجنوں بھی محو حیرت ہے کہ کی ہے دشت میں اصغرؔ نے خاکساری وہ
siyaahi pheink ke tasvir par hamaari vo
آسمانوں اور زمیں کو ساتھ رکھ ہو سکے تو اس یقیں کو ساتھ رکھ کام آؤں گا میں مشکل میں ترے میرے جیسے ہم نشیں کو ساتھ رکھ جو خرد کی بات تک کرتے نہیں تو ہی ایسے جاہلوں کو ساتھ رکھ دوست جس میں سانپ کی صورت میں ہوں تو نہ ایسی آستیں کو ساتھ رکھ تو ہے درویش انا پرور سو تو کاسہ و نان جویں کو ساتھ رکھ اصغرؔ بے خانماں کا تھام ہاتھ عمر بھر اس نکتہ چیں کو ساتھ رکھ
aasmaanon aur zamin ko saath rakh
دائم اس زلف کی خواہش میں نہیں رہنا ہے عمر بھر ایک ہی بندش میں نہیں رہنا ہے اک تو دل رنگ کا شیدائی ہے تس پر اس کو ایک ہی طرح کی پوشش میں نہیں رہنا ہے کچھ تو ہمدرد ہیں دشمن بھی ہمارے اور پھر یار لوگوں کو بھی سازش میں نہیں رہنا ہے تجھ کو اک آن میں چھینیں گے جہاں والوں سے صرف پا لینے کی کوشش میں نہیں رہنا ہے
daaim us zulf ki khvaahish mein nahin rahnaa hai
آپ اپنے خواب کا لشکر بنا سکتے ہیں ہم دل میں خواہش ہو تو یہ منظر بنا سکتے ہیں ہم چار دیواری کو پانی سے نمو دیتے ہوئے ساحلوں پر صرف اپنا گھر بنا سکتے ہیں ہم پر تمھارے ہجر نے ہم کو رلایا عمر بھر ہم سمجھتے تھے کہ دل پتھر بنا سکتے ہیں ہم اس قدر اڑنے کی خواہش ہے یہاں جرأتؔ ہمیں کاغذوں پر تتلیوں کے پر بنا سکتے ہیں ہم
aap apne khvaab kaa lashkar banaa sakte hain ham
بڑے بزرگوں کا ہم احترام کرتے ہیں سفید ریش کو جھک کر سلام کرتے ہیں سجائے رکھتے ہیں اک محفل عزا مجھ میں وہ لوگ جو مرے دل میں قیام کرتے ہیں میں ان کو دوست سمجھتا تھا آج تک کیوں کر جو دشمنی کو شب و روز عام کرتے ہیں میں ان فقیروں کی حالت سمجھ نہیں سکا ہوں جو حلال چیزوں کو خود پر حرام کرتے ہیں خموشی ان کو بسر کر نہیں سکے گی کبھی وہ خوش کلام جو خود سے کلام کرتے ہیں گزارتے ہیں یہ دن دھوپ میں جبھی جرأتؔ ہم ایک پیڑ کے سائے میں شام کرتے ہیں
baDe buzurgon kaa ham ehtiraam karte hain





