Asghar Nizami
Asghar Nizami
Asghar Nizami
Ghazalغزل
بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا لعل پتھر میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا ڈھونڈھتا میں رہا تسبیح کے دانوں میں اسے ذرہ ذرہ میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا دل نے جا جا کے کئے لاکھوں طواف کعبہ اور وہ دل میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا اسم احمد میں احد آپ چھپا بیٹھا تھا میم کا پردہ پڑا تھا مجھے معلوم نہ تھا لے کے دل غیر کا وہ دل میں مرے آ بیٹھا گھر میں اک چور چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا ہوش آتے ہی یہ موسیٰ کی زباں سے نکلا طور پہ نور خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا کس نے چونکا دیا کیوں ہوش میں آیا اصغرؔ بے خودی میں ہی مزا تھا مجھے معلوم نہ تھا
but ke parde mein khudaa thaa mujhe maalum na thaa
جسے ہم دل سمجھتے تھے وہی اب دل ربا نکلا خدا کی شان ہے جو مدعی کا مدعا نکلا پس مردن تلاشی لی فرشتوں نے تو کیا نکلا چھپا اک گوشۂ دل میں خیال دل ربا نکلا تہ شمشیر بھی بھولے نہ ہم قاتل کے احساں کو چلی تلوار رک رک کر زباں سے مرحبا نکلا میرے اشعار سن کے خوش ہوئے پر واے رے قسمت زباں سے مرحبا کہنے کو تھے مر بے حیا نکلا فنا فی اللہ جب اصغرؔ ہوئے تو یہ کھلا عقدہ جسے ہم بت سمجھتے تھے وہی اپنا خدا نکلا
jise ham dil samajhte the vahi ab dilrubaa niklaa
گر خدا کعبہ میں رہتا ہے تو بت خانے میں کون ہر ہے گنگا جل میں تو زمزم کے پیمانے میں کون قیس کو جب لے چلے بستی کی جانب یوں کہا لیلیٰ آبادی میں رہتی ہے تو ویرانے میں کون دار پر اس کو چڑھایا پر نہ یہ سمجھا کوئی تھا انا الحق کہہ رہا منصور دیوانے میں کون کس سے باتیں کر رہا ہے مجھ کو بھی زاہد دکھا چھپ کے بیٹھا ہے تیری تسبیح کے دانے میں کون ہو کے تم پیر مغاں مسجد کو اصغرؔ چل دئے یہ تو بتلاؤ کہ اب جائے گا میخانے میں کون
gar khudaa kaabe mein rahtaa hai to but-khaane mein kaun
جب سے دل شیدا ہوا ہے اس بت بے پیر کا بادشاہ میں بن گیا ہوں رنج کی جاگیر کا دیکھ کر تصویر اپنی بن گئے تصویر وہ خوب جھگڑا ہوگا اب تصویر سے تصویر کا ہے سر بالیں مسیحا اور ملک الموت بھی اب تقاضا دیکھنا تدبیر سے تقدیر کا خاک پائے دل ربا لانا طبیبو ڈھونڈ کر کام مٹی سے لیا جاتا ہے اب اکسیر کا کس کو ڈھونڈوں کون اے اصغرؔ پڑھے تحریر کو کچھ پڑھا جاتا نہیں لکھا میری تقدیر کا
jab se dil shaidaa huaa hai us but-e-be-pir kaa
باندھنا دل کو مرے زلف گرہ گیر کے ساتھ خوب کھیلے گا یہ قیدی تیری زنجیر کے ساتھ پہلے وہ آئے تو بعد ان کے عدو کو دیکھا خواب آیا بھی تو آیا مجھے تعبیر کے ساتھ کسی بانکے کے بنائے ہوئے ابرو ہیں تیرے خوب ٹکرایا ہے شمشیر کو شمشیر کے ساتھ لوگ کہتے ہیں کہ اس دل میں خدا رہتا ہے کس لئے چل دیا پھر اس بت بے پیر کے ساتھ آج میں جا کے کہوں گا یہ عدو سے اصغرؔ اپنی تقدیر بدل لے مری تقدیر کے ساتھ
baandhnaa dil ko mire zulf-e-girah-gir ke saath
راز مت اپنا بتا سب کا مگر ہم راز بن گر زمانہ اپنا کرنا ہو زمانہ ساز بن چوٹ کھا سینہ پہ اپنے نعرۂ ہو حق لگا سوز کی تجھ کو تمنا ہے تو مثل ساز بن لاکھ روتوں کو ہنساؤ اس کے ہم قائل نہیں مردے جی اٹھیں سراپا صور کی آواز بن بے نیازی پہ تری ہے ناز اے مولا مجھے ناز پروردہ ہوں میں تو بھی مجسم ناز بن
raaz mat apnaa bataa sab kaa magar hamraaz ban





