SHAWORDS
A

Ashfaq Ahmad Saim

Ashfaq Ahmad Saim

Ashfaq Ahmad Saim

poet
16Ghazal

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

شوق جنوں کے واسطے دل کا سکوں گیا مٹھی سے جیسے ریت پھسلتی ہے یوں گیا چشم گراں نے دم لیا منظر کشی سے اب آنکھوں کی بھوک مٹ گئی شوق دروں گیا چرچا تھا اس کے شہر میں قاتل نظر ہے وہ اس کی گلی میں جو بھی گیا سرنگوں گیا آتے تھے پہلے مجھ کو فسوں زندگانی کے جب سے گیا ہے وہ مرا ذوق فسوں گیا مارا ہے اس طرح سے مجھے ہجر یار نے پیکر سے جاں نکل گئی رگ رگ سے خوں گیا یہ زندگی مجھے کرے یوں حوصلہ عطا کوئی ترا جو پوچھ لے ہنس کے کہوں گیا

shauq-e-junun ke vaaste dil kaa sukun gayaa

غزل · Ghazal

گونگے بہرے ہیں یہ فرمان کہاں سنتے ہیں اے خدا سن لے کہ انسان کہاں سنتے ہیں اس زمانے میں محبت کی زباں والوں کو آنکھیں سنتی ہیں بھلا کان کہاں سنتے ہیں لاکھ چیخا میں کہ کچا ہے مرا گھر لیکن موج میں آئے ہوں طوفان کہاں سنتے ہیں تجھ کو اپنا ہی سمجھ کے تو صدائیں دی تھیں مجھ کو معلوم تھا انجان کہاں سنتے ہیں ان کے حد درجہ تغافل کا یہ عالم توبہ ہم پکاریں بھی انہیں جان کہاں سنتے ہیں روز مفلس کی صدائیں تو ادھر جاتی ہیں عہد حاضر کے یہ سلطان کہاں سنتے ہیں یہ کوئی گاؤں نہیں ہے کہ خبر پھیلے گی شہر کے لوگ ہیں اعلان کہاں سنتے ہیں

gunge bahre hain ye farmaan kahaan sunte hain

غزل · Ghazal

وہ جو مجھ کو سلاتا رہا دیر تک میرے سپنے چراتا رہا دیر تک بھول جاؤں گا کیا اس طرح میں اسے مجھ کو لکھ لکھ مٹاتا رہا دیر تک لوگ شمس و قمر لے کے چلتے بنے میں ستارے بناتا رہا دیر تک بن سنور کے یوں ہی مسکراتے ہوئے آئنہ کو جلاتا رہا دیر تک خود سے لڑتا رہا میں اسی کی طرح پھر میں خود کو مناتا رہا دیر تک اس نے جب جب جدائی کی باتیں کہیں میں بہانے بناتا رہا دیر تک جانے کیا بات تھی وقت رخصت کہ وہ ہاتھ مجھ سے چھڑاتا رہا دیر تک میں نے دھڑکن کو اپنی سنبھالے رکھا وہ بھی آنسو چھپاتا رہا دیر تک سارے الزام اپنے ہی سر لے لیے میں تعلق بچاتا رہا دیر تک

vo jo mujh ko sulaataa rahaa der tak

غزل · Ghazal

اشکوں سے دل کی آگ بجھائیں گے آپ بھی کر کر کے یاد مجھ کو بھلائیں گے آپ بھی پھر شوق انتظار کی تسکیں کے واسطے چوکھٹ پہ اک دیا تو جلائیں گے آپ بھی آئے گا ذکر جب مرا محفل میں وقت شام آہوں کو قہقہوں میں دبائیں گے آپ بھی ٹوٹیں گے آئنوں کی طرح پل میں ایک شب پلکوں پہ جتنے خواب سجائیں گے آپ بھی آئے گی یاد چاند سے چہرے کی جب چمک قصہ تو روشنی کے سنائیں گے آپ بھی حسن تصورات میں لکھیں گے ایک خط لکھیں گے پھاڑ دیں گے جلائیں گے آپ بھی جائیں گے روز وصل کے لمحات کی جگہ خوشبوئے لمس یار چرائیں گے آپ بھی اترے گا سارے شہر کے چہروں پہ میرا عکس کتنوں کو جان کہہ کے بلائیں گے آپ بھی

ashkon se dil ki aag bujhaaeinge aap bhi

غزل · Ghazal

عشق کا ایسا تو معیار نہیں ہو سکتا ایک ہی شخص سے دو بار نہیں ہو سکتا دل یہ کہتا ہے وہی شخص ہے دھڑکن کا سبب دل کی اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا سب تجھے دیکھنے آئے ہیں مسیحا میرے شہر کا شہر تو بیمار نہیں ہو سکتا میں نے آنکھوں کو سکھایا ہے سلیقہ ایسا اب کوئی اشک بھی بے کار نہیں ہو سکتا مسکراتے ہوئے گزرا ہے یہاں سے کوئی راستہ یوں ہی تو گلزار نہیں ہو سکتا مار ڈالے نہ کہیں تجھ کو سہاروں کا جنوں ہر کوئی شخص تو دیوار نہیں ہو سکتا لوٹ آیا ہے تو کیا اپنا بنا لوں پھر سے ہو نہیں سکتا مرے یار نہیں ہو سکتا

ishq kaa aisaa to meaar nahin ho saktaa

غزل · Ghazal

منزلوں کی اور جاتے سب اشارے مر گئے آنکھ کی دہلیز پر جب خواب سارے مر گئے لمحہ بھر کو چاند مٹھی میں چھپا کے رکھ لیا لمحہ بھر میں دیکھ تو کتنے ستارے مر گئے اس نے جب اک پھول کے رخسار پر بوسہ دیا تم نے دیکھا ہی نہیں کتنے نظارے مر گئے پانیوں کی چاہ میں اس کے قدم اٹھے تو پھر ہو گیا دریا سمندر اور کنارے مر گئے اس نے جب سر کو مرے کاندھے پہ آ کے رکھ دیا پھر شجر دیوار و در اور سب سہارے مر گئے وقت رخصت حوصلہ جانے کہاں گم ہو گیا سوچ پاگل ہو گئی الفاظ سارے مر گئے اس طرح صدقے اتارے اس نے اپنی ذات کے اس نے اپنے سر سے جتنے لوگ وارے مر گئے

manzilon ki or jaate sab ishaare mar gae

Similar Poets