
Ashfaq Rasheed Mansuri
Ashfaq Rasheed Mansuri
Ashfaq Rasheed Mansuri
Ghazalغزل
اپنی غزلوں کو رسالوں سے الگ رکھتا ہوں یعنی یہ پھول کتابوں سے الگ رکھتا ہوں ہاں بزرگوں سے عقیدت تو مجھے ہے لیکن مشکلیں اپنی مزاروں سے الگ رکھتا ہوں منزلیں آ کے میرے پاؤں میں گر جاتی ہیں حوصلہ جب میں تھکانوں سے الگ رکھتا ہوں ان کی آمد کا پتہ دیتی ہے خوشبو ان کی اس گھڑی خود کو جہانوں سے الگ رکھتا ہوں ہوش والے مجھے اپنوں میں گنا کرتے ہیں میں کہاں خود کو دیوانوں سے الگ رکھتا ہوں مجھ کو اچھا نہیں لگتا یہ امیدیں ٹوٹیں اس لیے تیر کمانوں سے الگ رکھتا ہوں
apni ghazlon ko risaalon se alag rakhtaa huun
تری نظر کے اشارہ بدل بھی سکتے ہیں میرے نصیب کے تارے بدل بھی سکتے ہیں میں اپنی ناؤ بھنور سے نکال لایہ ہوں مگر یہ ڈر ہے کنارے بدل بھی سکتے ہیں امیر شہر کی تقریر ہونے والی ہے سحر تلک یہ نظارے بدل بھی سکتے ہیں یہ دور وہ ہے کہ غیروں کا کیا کہیں صاحب ہمارے حق میں ہمارے بدل بھی سکتے ہیں
tiri nazar ke ishaare badal bhi sakte hain
اپنے دل میں آگ لگانی پڑتی ہے ایسے بھی اب رات بتانی پڑتی ہے اس کی باتیں سن کر ایسے اٹھتا ہوں جیسے اپنی لاش اٹھانی پڑتی ہے وو خوابوں میں ہاتھ چھڑا کر جائے تو نیندوں میں آواز لگانی پڑتی ہے کیا خوشبو سے میں اس کی بچ پاؤں گا رستہ میں جو رات کی رانی پڑتی ہے اب جا کر کے بات سمجھ میں آئی ہے لیکن اب کمزور جوانی پڑتی ہے
apne dil mein aag lagaani paDti hai
مری غزل گنگنا رہا تھا وہی جو مجھ سے خفا رہا تھا میرے خیالوں میں گم تھا شاید وہ اپنا کنگن گھما رہا تھا میں بادلوں کو ملا ملا کر اسی کا چہرہ بنا رہا تھا بنا تمہارے نہ جی سکیں گے وہ نیند میں بد بدا رہا تھا جو اس کی آنکھوں سے پی لی اک دن کئی دنوں تک نشہ رہا تھا
miri ghazal gungunaa rahaa thaa
دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے ندی یادوں کی بے کل ہو رہی ہے تو اپنے فیس کو ڈھنک کر نکلنا نگر میں دھوپ پاگل ہو رہی ہے تمہاری یاد کا ڈاکہ پڑا ہے ہماری زیست چمبل ہو رہی ہے ابھی تو شوق سے پھاڑا ہے دامن ابھی تو بس ریہرسل ہو رہی ہے یاد آنکھوں پہ چشمہ گیر کا ہے مری تصویر اوجھل ہو رہی ہے
dimaagh-o-dil mein halchal ho rahi hai
دنیا کو حادثوں میں گرفتار دیکھنا جب دیکھنا ہو دوستوں اخبار دیکھنا پھر اس کے بعد شوق سے بیعت کرو مگر پہلے امیر شہر کا کردار دیکھنا اس کی طرف ہے امن کا پرچم لگا ہوا لیکن مرا وہ خواب میں تلوار دیکھنا نسبت ہے ہم کو تین سو تیرہ سے آج ممکن نہیں کے ہم کو پڑے ہار دیکھنا وہ شخص کیا گیا مری بینائی لے گیا میں جس کو چاہتا تھا لگاتار دیکھنا اشفاقؔ تم کو یاد ہے مغرب کے باد میں جانا چھتوں پہ چاند سے رخسار دیکھنا
duniyaa ko haadson mein giraftaar dekhnaa





