
Ashok Goyal Ashok
Ashok Goyal Ashok
Ashok Goyal Ashok
Ghazalغزل
محبت سے ہم کو محبت بہت ہے ہمیں اب تمہاری ضرورت بہت ہے ہوئے عشق کے ہم طرفدار جب سے زمانہ کو ہم سے عداوت بہت ہے ان آنکھوں کا جانم کروں کیا مداوا تری دید کی ان کو عادت بہت ہے نہیں چاہیئے اس زمانہ کی نعمت تری چاہتوں کی یہ دولت بہت ہے خدارا ان اشکوں کو ضائع نہ کیجے یہ زیور ہیں وہ جن کی قیمت بہت ہے
mohabbat se ham ko mohabbat bahut hai
بجھتی آنکھوں کی روشنی تو دیکھ چشم میں تیرتی نمی تو دیکھ آ کبھی تو قریب آ میرے زیست و جاں میں تری کمی تو دیکھ رات بھر جاگتی ہے کیوں یہ شب جاگتی شب کی بیکلی تو دیکھ عمر بھر پانیوں نے لکھی پیاس پانیوں کی یہ تشنگی تو دیکھ ساتھ رہ کر بھی دور دور ہے تو زندگی کی یہ دل لگی تو دیکھ میں جو اب روز روز دیکھتا ہوں وہ تماشا تو دو گھڑی تو دیکھ ہجر کے زلزلے ہیں اترے ہوئے خودکشی کرتی وہ ندی تو دیکھ
bujhti aankhon ki raushni to dekh
کوئی منزل تو راستہ ہی نہیں ان سے اب کوئی سلسلہ ہی نہیں مدتوں سے گزر ہے خود سے ہی تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں خواب رنگیں ہیں اس کی آنکھوں میں میرے غم سے وہ آشنا ہی نہیں مجھ کو منظور ہے یہ در بدری تو مرے ساتھ جب چلا ہی نہیں تیرے جانے کے بعد سے میں نے نام اپنا کبھی سنا ہی نہیں
koi manzil to raasta hi nahin
وہ دل لاؤں کہاں سے جو ترے دل کے مقابل ہو مجھے چاہت محبت کا صلہ کوئی تو حاصل ہو نہیں غم موت کا کوئی مگر اک شرط ہے میری کوئی قاتل ہو میرا تو دعا ہے تو ہی قاتل ہو نہ کوئی خوف مرنے کا نہ جینے کی تمنا ہے اسے ڈر کیا سمندر سے جسے کشتی ہی ساحل ہو لگا دیں آگ دریا میں اٹھائیں چل کوئی طوفاں مزہ آئے محبت کا اگر تو مجھ میں شامل ہو
vo dil laaun kahaan se jo tire dil ke muqaabil ho
ساتھ رہ کر بھی جانتا کہاں ہے وہ مرا ہے پر آشنا کہاں ہے یہ تمنا ہے دو گھڑی جی لوں زیست کا لیکن راستہ کہاں ہے مجھ میں جیتا ہے ہر نفس لیکن میں اسی کا ہوں مانتا کہاں ہے جو دعا میں عبادتوں میں رہا وہ محبت کا دیوتا کہاں ہے چوٹ گہری لگی ہے دل پہ کوئی کسی سے اس کا واسطہ کہاں ہے ساتھ خود کے ہوں اجنبی کی طرح میرا مجھ سے ہی سلسلہ کہاں ہے
saath rah kar bhi jaantaa kahaan hai
کیسی یہ افسردگی ہے آج کل زندگی میں کچھ کمی ہے آج کل چاند کی آوارگی سے چاندنی سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے آج کل کیا سبب ہے دھوپ ہے سہمی ہوئی پتھروں پر بھی نمی ہے آج کل وہ شرافت جو کبھی انمول تھی کوڑیوں میں بک رہی ہے آج کل آ رہی ہے پھر چناؤں کی خبر شہر بھر میں خامشی ہے آج کل کون اب واقف ہے اپنے آپ سے آدمی کب آدمی ہے آج کل
kaisi ye afsurdagi hai aaj-kal





